30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قدیستدل للفرق بینھما بان القیاس فی السنن ، عدم القضأ وقد استدل قاضی خاں لقضاء سنۃ الظھر بما عن عائشۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھا ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان اذا فاتتہ الاربع قبل الظھر قضاھن بعدہ فیکون قضاءھا ثبت بالحدیث علی خلاف القیاس[1]۔
بعض اوقات ان کے درمیان فرق کے لئے یہ استدلال کیاجاتاہے کہ قیاس کاتقاضا ہے کہ سنن میں قضانہیں ، اور قاضی خاں نے ظہر کی سنتوں کی قضا پر اس حدیث سے استدلال کیاہے جو حضرت عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ اگرظہر سے پہلے کی چاررکعات حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام سے رہ جائیں تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ظہر کے بعد انہیں ادافرمایا کرتے تھے پس ان کی اداخلاف قیاس حدیث سے ثابت ہوئی (ت)
اس پر فقیرغفرلہ المولٰی التقدیر نے اپنی تعلیقات میں یہ لکھا :
اقول : فیہ ان الحاق سنۃ الجمعۃ بسنۃ الظھر بدلیل المساواۃ فلایضرکون القضاء فیھن علی خلاف القیاس لان الالحاق دلالۃ لایختص بعقول المعنی کما نص علیہ الامام ابن الھمام وغیرہ من الاعلام بل لقائل ان یقول ان سنۃ الجمعۃ من افراد سنۃ الظھر فلاالحاق فافھم وبالجملۃ فالاحوط الایتان بھا خروجا عن العھدۃ بیقین[2] ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اقول : جمعہ کی سنتوں کوظہر کی سنتوں کے ساتھ مساوات کی بناء پر لاحق کرنے میں ان کو خلاف قیاس قضا کرنے میں کوئی ضررنہیں کیونکہ دلالۃً الحاق کے لئے معقول المعنی ہوناضروری نہیں جس طرح اس پر امام ابن الہمام وغیریہ نے تصریح کی ہے بلکہ قائل کے لئے یہ کہنا ممکن ہے کہ جمعہ کی سنتیں ظہر کی سنتوں کا ہی فرد ہیں توپھرکوئی الحاق نہ ہوگا اسے سمجھو ، الغرض احتیاط یہی ہے کہ انہیں بجالایاجائے تاکہ ذمہ داری سے بالیقین عہدہ برآہواجاسکے واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۰۴۱ : ۲۸محرم ۱۳۰۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے فوت جماعت کے خوف سے سنتیں فجر کی ترك کیں اور جماعت میں شامل ہوگیا اب وہ ان سنتوں کوفرضوں کے بعد سورج نکلنے سے پیشتر پڑھے یابعد؟ بیّنواتوجروا
الجواب :
جبکہ فرض فجرپڑھ چکاتوسنتیں سورج بلند ہونے سے پہلے ہرگز نہ پڑھے ، ہمارے ائمہ رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی عنہم کا اس پراجماع ہے بلکہ پڑھے تو سورج بلند ہونے کے بعد دوپہر سے پہلے پڑھ لے ، نہ اس کے بعد پڑھے نہ اس سے پہلے ، ردالمحتارمیں ہے :
اذا فاتت وجدھا فلاتقضی قبل طلوع الشمس بالاجماع لکراھۃ النفل بعد الصبح ، واما بعد طلوع الشمس فکذالك عندھما وقال محمد احب الی ان یقضیھا الی الزوال کما فی الدرر[3] ۔
جب اکیلی سنن رہ گئی ہوں توبالاجماع طلوع آفتاب سے پہلے انہیں قضانہ کرے کیونکہ اس وقت نفل نماز مکروہ ہے۔ رہاطلوع آفتاب کے بعدکا تو شیخین کے نزدیك یہی حکم ہے مگر امام محمد فرماتے ہیں کہ زوال سے پہلے پہلے ان کا اداکرلینا مجھے پسند ہے جیسا کہ دررمیں ہے(ت)
اور یہ خیال کہ ا س میں قصدًا وقت قضا کراناہے ناواقفی سے ناشی ، یہ سنتیں جب فرضوں سے پہلے نہ پڑھی گئیں خود ہی قضا ہوگئیں ، اُن کا وقت یہی تھا کہ فرضوں سے پیشتر پڑھی جائیں ، اب اگرفرضوں کے بعد سورج نکلنے سے پیشتر پڑھے گا جب بھی قضا ہی ہوں گی ادا ہرگزنہ ہوں گی الاتری الی قولہ لاتقضی قبل طلوع الشمس بالاجماع فقدسمی صلٰوتھا قبل الطلوع بعد الفرض قضاء (آپ نہیں دیکھتے کہ انہوں نے کہا ، بالاجماع طلوعِ آفتاب سے پہلے قضانہ کرے ، اس میں فرض کے بعد طلوع سے پہلے نماز کو قضاکہاگیاہے۔ ت) لیکن طلوع سے پہلے قضاکرنے ممیں فرض فجر کے بعد نوافل کاپڑھنا ہے اور یہ جائزنہیں ، لہٰذا ہمارے اماموں نے اس سے منع فرمایا اور بعد طلوع وہ حرج نہ رہا لہٰذا جازت دی۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۴۲ : ازاوجین مکان میرخادم علی صاحب اسسٹنٹ مرسلہ حاجی یعقوب علی خاں صاحب ۲۲شعبان ۱۳۱۱ھ
اس مسئلہ میں کیا حکم ہے کہ بکروضو نمازفجر کاکرکے ایسے وقت میں آیا کہ امام قعدئہ اخیرہ میں ہے جو سنت پڑھتاہے توجماعت جاتی ہے اور جماعت میں ملتاہے توسنتیں فوت ہوتی ہیں اس صورت میں سنتیں پڑھے یاقعدہ میں مل جائے؟ بیّنواتوجروا
الجواب :
اس صورت میں بالاتفاق جماعت میں شریك ہوجائے کہ جماعت میں ملنا سنتیں پڑھنے سے اہم وآکد ہے ، جب یہ جانے کہ سنتیں پڑھوں گا تو جماعت ہوچکے گی بالاتفاق جماعت میں مل جانے کاحکم ہے اگرچہ ابھی امام رکعت ثانیہ کے شروع میں ہو ، قعدہ توختم نماز ہے اس میں کیونکر امیدہوسکتی ہے کہ امام کے سلام سے پہلے یہ سنتیں پڑھ کر جماعت میں مل سکے گا ،
فی الدر المختار اذا خاف فوت رکعتی الفجر لاشتغالہ بستنھا ترکھا لکون الجماعۃ اکمل[4] الخ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
درمختارمیں ہے کہ سنتوں میں مصروفیت کی بناپر فجر کے فرائض کے فوت ہونے کاخوف ہو تو انہیں چھوڑدیاجائے کیونکہ جماعت ان سے اکمل ہے الخ واﷲ تعالٰی اعلم (ت)
مسئلہ ۱۰۴۳ : از مقام یومد قلعہ رام چھاؤنی ڈیرہ اسمعیل خاں رجمنٹ نمبر۸ بنگال ملك وزیرستان مرسلہ عبداﷲ خاں صاحب سوار ۱۳صفر ۱۳۲۰ھ
اے لقائے توجواب ہرسوال
مشکل ازتوحل شود بے قیل وقال
(آپ سے ملاقات بھی ہرسوال کاجواب ہے اور بغیر قیل وقال آپ سے سوال حل ہوجاتاہے)
بعد تمنا قدمبوسی کے مدعایہ ہے کہ یہاں ہم لوگوں میں ایك حافظ قرآن شریف بہت عمدہ تلاوت کرتے ہیں سب جوانوں کامشورہ ہواکہ حافظ صاحب ہم کو پوراقرآن سنائیں سب کی صلاح سے بعد نمازعشاء پچھلی دورکعت نفل میں دو پارے روزسنائے دس یوم بعد معلوم ہوا کہ نفلوں میں جماعت درست نہیں بعد کو سب کی رائے سے عشاء کے فرضوں میں دورکعت پیشتر میں قرآن سنایا ۸یوم سنا ہوگا کہ بعض نے کہا تمہاری نمازدرست نہ ہوئی اب آپ لکھئے کہ کسی طرح قرآن شریف علاوہ رمضان مبارك سنانا درست ہے یانہیں ؟ اب سب کہتے ہیں وتروں میں سناؤ اور اب یہ بھی سناہے کہ سنتوں میں جماعت درست نہیں ہے پھر کیابندوبست کیاجائے؟ اور جونماز اس طورپرپڑھی ہے وہ قبول ہوئی یاپھر قضاکریں ؟ یہ جگہ پہاڑ ہے ایك قلعہ ہے جس میں ہم قریب سَوجوانوں کے رہتے ہیں ۔
الجواب :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع