30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لِّیَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَ مَا تَاَخَّرَ تو
انہ سمع عروۃ عن عائشۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھا ان نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان یقوم من اللیل حتی تنفطر قدماہ فقالت عائشۃ لم تصنع ھذا یارسول اﷲ وقد غفر اﷲ لك ماتقدم من ذنبك وما تأخر قال افلا احب ان اکون عبدا شکورا[1] الحدیث قال البخاری فی کتاب الصلٰوۃ تفطر قدماہ الفطور الشقوق انفطرت انشقت[2] اھ واﷲ تعالٰی اعلم۔
آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : کیامیں اس کا شکرگزاربندہ نہ بنوں ؟حسن بن عبدالعزیز انہیں عبداﷲ بن یحیی حیوۃ انہیں ابو الاسود نے بیان کیا کہ میں نے حضرت عروۃ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے سنا کہ حضرت عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے فرمایا کہ رسالت مآب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم رات کو قیام فرماتے حتی کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے مبارك قدم پھٹ جاتے میں نے عرض کیا یارسول اﷲ اتنی مشقت کیوں اٹھاتے ہو حالانکہ اﷲتعالی آپ کے اگلے اور پچھلے معاملات پر مغفرت و بخشش کی ضمانت فراہم کردی ہے ۔ تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کیا میں اس کا شکر گذار بندہ نہ بنوں ؟ اس حدیث کو امام بخاری نے کتاب الصلٰوۃ میں ذکر کر کے فرمایا : تفطر قدماہ الفطور کامعنی پھٹ جانا ہے کیونکہ انفطرت اور انشقت دونوں کامعنی “ پھٹ جانا “ ہے اھ واﷲتعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۰۳۸ : از بریلی محلہ صندل خاں کی بزریہ ۲۹ذی القعدہ ۱۳۲۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نماز عشاء میں آخری نفل بیٹھ کرپڑھنا چاہئے یا کھڑے ہوکر؟ سرکار اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے کس طور پرہمیشہ ان لفظوں کو ادافرمایا اور کس طرح پڑھنا باعث زیادتی ثواب ہے ؟ بیّنواتوجروا
الجواب :
حضور پرنور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے یہ نفل بیٹھ کرپڑھے مگرساتھ ہی فرمادیا کہ میں تمہارے مثل نہیں ، میرا ثواب قیام وقعود دونوں میں یکساں ہے تو اُمت کے لئے کھڑے ہوکر پڑھنا افضل اور دوناثواب ہے اور بیٹھ کر پڑھنے پر بھی کوئی اعتراض نہیں واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ۱۰۳۹ : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نمازِتہجد اداکرتاہے لہٰذا اس کو وتر بعد فراغتِ تراویح پڑھنا جائزہے یانہیں ؟ یاکسی کی تراویح اتفاق سے کچھ باقی رہ گئی ہیں تووہ امام کے بعد تراویح پڑھ سکتا ہے یانہیں ؟
الجواب :
تہجّد پڑھنے والا بعد تراویح وتر پڑھ سکتاہے بلکہ جاگنے پراعتماد نہ ہو تو پہلے ہی پڑھ لینا بہترہے ، جس نے امام کے ساتھ بعض تراویح نہ پائیں تو بعد امام اُن کو پڑھے خواہ وتروں سے پہلے یا بعد ، اور اول بہترہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۴۰ : از ریاست الور راجپوتانہ محلہ قاضی واڑہ مرسلہ مولوی محمدرکن الدین صاحب نقشبندی ۲۲ذی الحجہ ۱۳۲۴ھ
مسئلہ یہ ہے کہ جمعہ کی پہلی چارسنتیں اگرقضا ہوجائیں توبعد فرض جماعت کے اسے سنت وقت کے اندرقضا کرلے یانہیں ؟ اس میں بھی صاحب ردالمحتارتحریرفرماتے ہیں کہ جمعہ کی سنت مثل سنت ظہر کے نہیں ہیں لہٰذا گزارش ہے کہ اس کی تحقیق سے بواپسی ڈاك اطلاع بخشی جائے ، دوچار علماء سے جوگفتگو ہوئی توانہوں نے جناب کی تحقیق کی طرف توجہ دلائی۔
الجواب :
ہاں وقت میں انہیں اداکرلے وہ اداہوگی نہ کہ قضا ، درمختارمیں ہے :
بخلاف سنۃ الظھر وکذا الجمعۃ فانہ ان خاف فوت رکعۃ یترکھا ویقتدی ثم یاتی بھا علی انہ سنۃ فی وقتہ ای الظھر[3]۔
بخلاف ظہر کی سنت کے ، اسی طرح جمعہ کا معاملہ ہے ، پس اگرنماز کی ایك رکعت نکل جانے کا خطرہ ہو توسنن ترك کرکے جماعت میں شامل ہوجاناچاہئے پھر ان سنتوں کو اپنے وقت یعنی ظہرمیں اداکرے۔ (ت)
بحرالرائق میں ہے :
وحکم الاربع قبل الجمعۃ کالاربع جمعہ کی پہلی چارسنتوں کاحکم وہی ہے جوظہرسے
قبل الظھر کمالایخفی[4]۔
پہلی چارسنتوں کاہے جیسا کہ واضح ہے(ت)
حاشیہ علامہ خیرالدین الرملی علی البحرالرائقمیں فتاوٰی علامہ سراج الدین حانوتی سے ہے :
فعلی ماقالوہ فی المتون وغیرھا من ان سنۃ الظھر تقضی ، یقتضی ان تقضی سنۃ الجمعۃ اذلافرق[5] اھ ثم نقل عن روضۃ العلماء ماردہ فی منحۃ الخالق وردالمحتار۔
اس بناپر کہ جوفقہا نے کہا ہے کہ متون وغیرہ میں ہے کہ ظہرکی سنتیں ادا کی جائیں اس کاتقاضا ہے کہ جمعہ کی سنتیں بھی اداکی جائیں کیونکہ ان میں کوئی فرق نہیں اھ پھر انہوں نے روضۃ العلماء سے وہ نقل کیا جسے منحۃ الخالق اور ردالمحتارمیں رد کیاہے(ت)
جامع الرموزمیں ہے :
یترك سنۃ الظھر ولوحکما فیدخل فیہ سنۃ الجمعۃ فتقضی علی الخلاف سنۃ الظھر[6]
ظہر کی سنتیں چھوڑدی جائیں اگرچہ ظہرحکمی ہو تو جوازِ ترك میں جمعہ کی سنتیں بھی داخل ہوں گی توانہیں برخلاف سنت ظہر اداکیاجائے(ت)
رہا علامہ شامی کا استدلال کہ :
[1] صحیح البخاری سورۃ الفتح زیرقول لیغفرلك اﷲ الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۷۱۶
[2] صحیح البخاری باب قیام النبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی۱ / ۵۲
[3] درمختار باب ادراك الفریضہ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ / ۱۰۰
[4] بحرالرائق باب ادراك الفریضۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۷۵
[5] حاشیۃ منحۃ الخالق علی البحرالرائق قول حکم الاربع قبل الجمعۃ کے تحت مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبدقاموس ایران ۲ / ۷۵
[6] $&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع