دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 7 | فتاوی رضویہ جلد ۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۷

تداعی مذہب اصح میں اس وقت متحقق ہوگی جب چاریازیادہ مقتدی ہوں دوتین تك کراہت نہیں ،

فی الدر یکرہ ذلك لوعلی سبیل التداعی بان یقتدی اربعۃ بواحد کما فی الدر ر[1] اھ  فی الطحطاوی علی مراقی الفلاح فی اقتداء ثلثۃ الاصح عدم الکراھۃ[2]۔ درمختارمیں ہے یہ مکروہ ہے اگرعلٰی سبیل التداعی ہومثلًا چارآدمی ایك کی اقتداء کریں جیسا کہ درر میں ہے  اھ ، طحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے اگرتین نے ایك کی اقتداء کی تو اصح یہی ہے کہ یہ مکروہ نہیں ۔ (ت)

نماز قضائے عمری کہ آخرجمعہ ماہ مبارك رمضان میں اس کاپڑھنا اختراع کیاگیا اور اس میں یہ سمجھاجاتاہے کہ اس نماز سے عمربھر کی اپنی اور ماں باپ کی بھی قضائیں اُترجاتی ہیں محض باطل و بدعت سیئہ شنیعہ ہے کسی کتاب معتبر میں اصلًا اس کانشان نہیں ، نمازشب برات اگرچہ مشائخ کرام قدست اسرارہم نے بجماعت بھی پڑھی ، قوت القلوب شریف میں ہے :

یستحب احیاء خمس عشرۃ لیلۃ (الی قولہ) لیلۃ النصف من شعبان  وقد کانوا یصلون فی ھذہ  اللیلۃ مائۃ رکعۃ بالف مرۃ قل ھواﷲ احد ،  عشرا فی کل رکعۃ ویسمون ھذہ الصلٰوۃ صلٰوۃ الخیر ویتعرفون برکتھا ویجتمعون فیھا وربما صلوھا جماعۃ[3]۔                        

پندرہ راتوں میں شب بیداری مستحب ہے (آگے چل کرفرمایا) ان میں ایك شعبان المعظم کی پندرہویں رات ہے کہ اس میں شب بیداررہنا مستحب ہے کہ اس میں مشائخ کرام سَو رکعت ہزارمرتبہ قل ھواﷲ احد کے ساتھ اداکرتے ہر رکعت میں دس دفعہ قل ھواﷲ احد پڑھتے ، اس نماز کانام انہوں نے صلٰوۃ الخیر رکھاتھا ، اس کی برکت مسلمہ تھی ، اس رات (یعنی پندرہ شعبان) میں اجتماع کرتے اور احیانًا نماز کوباجماعت اداکرتے تھے(ت)

اوریہی علمائے تابعین سے لقمان بن عامروخالد بن معدان اور ائمہ مجتہدین سے اسحق بن راہویہ   رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کاہے مگرہمارے ائمہ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم   کا مذہب وہی ہے کہ جماعت بتداعی ہو تومکروہ ہے

کما نص علیہ فی البزازیۃ والتتارخانیۃ والحاوی القدسی والحلیۃ والغنیۃ ونورالایضاح ومراقی الفلاح والاشباہ وشروحھا والدرالمختار وحواشیہ وغیرذلك من الکتب المعتمدۃ۔

جیسا کہ اس پر بزازیہ ، تتارخانیہ ، الحاوی القدسی ، حلیہ ، غنیہ ، نورالایضاح ، مراقی الفلاح ، الاشباہ اور اس کی شروح ، درمختار اور اس کے حواشی ، اور اس کے علاوہ دیگرمعتمد کتب میں تصریح ہے(ت)

(۲) عاشورا ایام فاضلہ سے ہے اور نماز بہترین عبادات اور اوقات فاضلہ میں اعمال صالحہ کی تکثیر قطعًا مطلوب ومندوب مگر اس دن نوافل معینہ بطریق مخصوصہ میں جو حدیث روایت کی جاتی ہے علماء اسے موضوع وباطل بتاتے ہیں کما صرح بہ ابن الجوزی فی موضوعاتہ واقرہ علیہ فی اللآلی (اس کی تصریح ابن جوزی نے اپنی موضوعات میں کی اور امام سیوطی نے اللآلی میں  اسے ثابت رکھاہے۔ ت) موضوعات کبیرملاعلی قاری میں ہے : صلٰوۃ عاشوراء موضوع بالاتفاق [4](عاشوراکی نماز بالاتفاق موضوع ہے۔ ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۱۰۳۶ :          از علاقہ جاگل تھانہ ہری پور کوٹ نجیب اﷲ خاں مرسلہ شیرمحمدشیخ      ۱۷ / رمضان شریف ۱۳۱۳ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ وترمیں نیت وتر کی کرے یا واجب کی یاسنت کی یاکیا؟ بیّنواتوجروا

الجواب :

وترکی نیت توضرورہی ہے پھرچاہے اسی قدرپرقناعت کرے اور بہتریہ ہے کہ وترواجب کی نیت کرے کہ ہمارے مذہب میں وتر واجب ہی ہیں اور اگرسنت بمعنی مقابل واجب کے نیت کی تو ہمارے امام کے نزدیك وترادانہ ہوں گے۔

فی الدر المختار لابد من التعیین عند النیۃ لفرض انہ ظھر اوعصر وواجب انہ وتراونذر[5]اھ  مختصرا وفی ردالمحتار ای لایلزمہ تعیین الوجوب وان کان حنفیا ینبغی ان ینویہ لیطابق اعتقادہ[6] الخ واﷲ تعالٰی اعلم۔

درمختارمیں ہے نیت کے وقت اس بات کاتعین کہ یہ فرض ہے مثلًا یہ ظہروعصر کی نماز ہے یا واجب مثلًا وتریانذر کی نماز ہے ضروری ہے اھ  اختصارًا ، اور ردالمحتارمیں ہے کہ تعین وجوب لازم نہیں ، ہاں اگر وہ حنفی ہو تومناسب یہی ہے کہ اس کی نیت کرے تاکہ وہ اس کے اعتقاد کے مطابق ہوجائے الخ۔ واﷲ تعالٰی اعلم

مسئلہ ۱۰۳ :                          از ملك بنگالہ ضلع چاٹگام ڈاکخانہ جلدی مرسلہ محمد حبیب اﷲ صاحب     ۸ جمادی الاخری ۱۳۱۷ھ

چہ می فرمایند علمائے دین اندریں مسئلہ کہ جناب قاضی ثناء اﷲ صاحب درمالا بدمنہ آوردہ اند کہ             اس مسئلہ میں علماء کی کیارائے ہے کہ مالابدمنہ میں قاضی ثناء اﷲپانی پتینے ذکرکیاہے کہ آنحضرت   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  درصلٰوۃ تہجد قیام بسیارمی فرمودند حتی کہ درپائے مبارك آنحضرت   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  ورم ومنشق شدہ است ، قول مذکور قابل اعتباراست یانہ وورم ومنشق درصحاح ستہ ثابت است یاخارج ازصحاح بعض عالم می گویند کہ ورم قدم مبارك آنحضرت   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  درصحاح ستہ ثابت است ومنشق ثابت نیست قول کدام کس معتبراست بیّنوا بسند الکتاب وتوجروا من اﷲ الوھاب۔  آنحضرت   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  نمازتہجد میں قیام طویل فرماتے حتی کہ آپ کے پاؤں مبارك متورم ہوجاتے اور پھٹ جاتے ، یہ قول قابل اعتبار ہے یانہیں ، متورم ہونا اور پھٹنا دونوں صحاح ستہ سے ثابت ہیں یاصحاح کے علاوہ سے ، بعض علماء کایہ کہنا ہے کہ مبارك قدموں کامتورم ہونا تو صحاح سے ثابت ہے مگر پھٹ جانا ثابت نہیں ، کس کاقول معتبرہے؟ مسئلہ کتاب کے ساتھ بیان کریں اور عطاکرنے والے اﷲ تعالٰی سے اجرپائیں ۔

الجواب :

ایں جاسخن قاضی درست وسوی ست انکارش ازنادیدہ روی ست ، تورم وانشقاق ہردودرصحاح ستہ خبرایں سنن ابی داؤد مروی ست ودرجامع صحیح امام بخاری ست حدثنا صدقۃ بن فضل اخبرنا ابن عیینہ ثنازیاد انہ سمع المغیرۃ یقول قام النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم حتی تورمت قدماہ فقیل لہ قد غفراﷲ لك ماتقدم من ذنبك وما تاخر قال افلااکون عبدا شکورا[7] حدثنا الحسن بن عبدالعزیز حدثنا عبداﷲ بن یحٰیی اخبرنا حیوۃ عن ابی الاسود                                              

قاضی صاحب کاکلام درست وصحیح ہے اس کاانکار ناواقفیت ہے ، پاؤں کامتورم ہونا اور پھٹ جانا دونوں ہی صحاح ستّہ سے ثابت ہیں ، یہ خبرسنن ابی داؤد اور جامع صحیح امام بخاری میں مروی ہے کہ ہمیں صدقہ بن فضل انہیں ابن عیینہ انہیں زیاد نے بتایا کہ میں نے حضرت مغیرہ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسالت مآب صلی اﷲ حسن بن عبدالعزیزانہیں عبداﷲ بن یحیٰی انہیں حیوۃ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے سنا کہ رسالت مآب   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  رات کو قیام فرماتے حتی کہ آپ   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کے قدم مبارك متورم ہو گئے ، آپ سے عرض کیا گیا یارسول اﷲ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  !اﷲ تعالٰی نے آپ کو ان الفاظ کے ذریعے مغفرت و بخشش کی خوشخبری دی ہے

 



[1]   درمختار  آخر باب الوتر والنوافل مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۹

[2]   حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح  مطبوعہ نورمحمد کتب خانہ آرام باغ کراچی ص۲۱۱

[3]   قوت القلوب فصل العشرون فی ذکراحیاء اللیالی مطبوعہ دارصادر بیروت $&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن