دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 7 | فتاوی رضویہ جلد ۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۷

اخرج مسلم فی صحیحہ وابوداؤد فی السنن واللفظ لمسلم عن عبداﷲ بن شقیق قال سألت عائشۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھا عن صلٰوۃ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم  عن تطوعہ فقالت کان یصلی فی بیتی قبل الظھر اربعا ،  ثم یخرج فیصلی بالناس ثم یدخل

مسلم نے صحیح میں اور ابوداؤد نے سنن میں روایت کیاہے مسلم کے الفاظ ہیں کہ عبداﷲ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  سے رسول اﷲ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کی نفلی نماز کے بارے میں پوچھا توانہوں نے فرمایا میرے حجرے میں آپ   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  ظہرسے پہلے چار رکعات ادافرماتے پھر باہرتشریف لے جاتے اور

فیصلی رکعتین وکان یصلی بالناس المغرب ثم یدخل فیصلی رکعتین ویصلی بالناس العشاء ویدخل بیتی فیصلی رکعتین  ،  ثم ذکرت صلٰوۃ اللیل والوتر الٰی ان قالت وکان اذا طلع الفجر صلی رکعتین[1] زاد ابوداؤد ثم یخرج فیصلی بالناس صلٰوۃ الفجر[2]۔     

لوگوں کوجماعت کرواتے پھرحجرے میں جلوہ افروزہوتے تو دورکعت پڑھتے ، جب مغرب کی نماز کی جماعت کرواتے پھرحجرہ میں تشریف لاکر دورکعات پڑھتے ، لوگوں کو عشاء کی نمازپڑھاکر میرے ہاں تشریف لاتے تودورکعات اداکرتے۔ پھرانہوں نے رات کی نماز اور وتر کاذکرکرتے ہوئے کہا جب طلوع فجر ہوجاتی تو آپ دورکعات اداکرتے۔ سنن ابوداؤد میں یہ اضافہ ہے پھر آپ   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  حجرہ سے نکل کرلوگوں کوفجر کی نمازپڑھاتے۔ (ت)

اسی طرح سنن جمعہ کامکانِ  جنت نشان میں پڑھنا ، صحیحین میں مروی زمانہ سیدنا عمرفاروق   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  میں لوگ مغرب کے فرض پڑھ کر گھروں کو لَوٹ جاتے یہاں تك کہ مسجد میں کوئی شخص نہ رہتا گویا وہ بعد مغرب کچھ پڑھتے ہی نہیں ،

فی الفتح عن السائب بن یزید قال لقد رأیت الناس فی زمن عمر بن الخطاب اذاانصرفوا من المغرب انصرفوا جمیعا حتی لایبقی فی المسجد احد کانھم لایصلون بعد المغرب حتی یصیرون الٰی اھلیھم[3]۔

فتح میں سائب بن یزید سے ہے کہ میں نے دورِ فاروقی میں لوگوں کو مغرب کے بعد اکٹھے لَوٹتے ہوئے دیکھا حتی کہ کوئی مسجد میں باقی نہ رہتا ، گویا وہ مغرب کے بعد کوئی نمازادانہ کرے یہاں تك کہ وہ اپنے گھروں میں چلے جاتے۔

سیدالعالمین   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  نے لوگوں کودیکھا کہ مغرب کے فرض پڑھ کر مسجد میں سنتیں پڑھنے لگے ارشاد فرمایا : یہ نماز گھرمیں پڑھاکرو۔

اخرج ابوداؤد والترمذی والنسائی

ابوداؤد ، ترمذی اور نسائی نے حضرت کعب

عن کعب بن عجرۃ وابن ماجۃ عن حدیث رافع بن خدیج والسیاق لابی داؤد قال النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اتی مسجد بنی عبدالاشہل فصلی فیہ المغرب فلما قضوا صلٰوتھم راھم یسبحون بعدھا فقال ھذہ صلٰوۃ البیوت[4] ولفظ الترمذی والنسائی علیکم بھذہ الصلٰوۃ فی البیوت[5] ،  وابن ماجۃ ارکعوا ھاتین الرکعتین فی بیوتکم[6]۔    

بن عجرہ سے ، اور ابن ماجہ نے حضرت رافع بن خدیج سے روایت کیا ابوداؤد کے الفاظ یہ ہیں کہ نبی اکرم   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  بنو عبدالاشہل مسجد میں تشریف لائے تو آپ نے مغرب کی نماز اداکی جب لوگ فرائض پڑھ چکے تو آپ نے انہیں نوافل پڑھتے ہوئے دیکھا تو آپ نے فرمایا : یہ گھروں کی نماز ہے ، ترمذی اور نسائی کے الفاظ ہیں کہ تم یہ نماز اپنے گھروں میں اداکرو۔ ابن ماجہ کے الفاظ ہیں : یہ دورکعات تم اپنے گھروں میں ادا کیاکرو۔ (ت)

شیخ محقق علامہ عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ ، العزیز شرح مشکوٰۃ میں فرماتے ہیں :

ہرگاہ تمام کردند مردم نماز فرض رادید آنحضرت   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  ایشاں راکہ نماز نفل می گزارند کہ مرادبوے سنت مغرب است بعد از فرض یعنی درمسجد پس گفت آنحضرت   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  ایں یعنی سنت مغرب یامطلق نماز نفل نماز خانہا است کہ درخانہا باید گزارد نہ درمسجد بدانکہ افضل آنست کہ نماز نفل غیرفرض درخانہ بگزارند ہمچنیں بودعملے آنحضرت   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  مگربسببے یاعذرے خصوصًا سنت مغرب کہ ہرگز در مسجد نگزارد و بعضے ازعلما گفتہ اند کہ اگرسنت مغرب را درمسجد بگزارد از سنت واقع نمی شود وبعض 

جب لوگوں نے فرض نماز اداکرلی تو حضور   عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام  نے انہیں فرائض کے بعد نوافل یعنی سنن مغرب کو مسجد میں اداکرتے ہوئے دیکھا تو آپ نے فرمایا : یہ سنن مغرب یامطلقًا نمازنفل گھروں کی نماز ہے انہیں گھروں مین اداکرنا چاہئے نہ کہ مسجد میں ۔ واضح رہے کہ فرض کے علاوہ نوافل گھرمیں اداکرنے چاہئیں ۔ سرورعالم   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کایہی عمل تھا البتہ کسی سبب یاعذر کی صورت مستثنٰی ہے خصوصًا نماز مغرب کی سنن مسجد میں ادانہ کی جائیں ، بعض علماء نے فرمایا کہ اگرکسی نے سنن مغرب مسجد میں ادا کیں تو سنت واقع نہ ہوں گی اور بعض کے نزدیك ایسا آدمی گفتہ اند کہ عاصی می گرد وازجہت مخالفت امرکہ ظاہرش در وجوب است وجمہور برآنند کہ امربرائے استحباب است[7]۔ الخ             

گنہگار بھی ہوگا کیونکہ اس نے آپ   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کے امر ( جس سے ظاہر وجوب ہے) کی مخالفت کی ہے اور جمہور کے نزدیك یہاں امر استحباب کے لئے ہے الخ (ت )

گا ہے اگربعض سنن مسجد میں پڑھنے کا اتفاق ہوا تو علماء فرماتے ہیں وہ کسی عذروسبب سے تھا کما مر عن الشیخ وبمثلہ قال العلامۃ ابن امیرالحاج فی شرح المنیۃ(جیسا کہ شیخ کے حوالے سے گزرا اسی کی مثل علامہ ابن امیرالحاج نے شرح منیہ میں فرمایا۔ ت) معہٰذا ترك احیانًا منافی سنیت و استحباب نہیں بلکہ اس کامقرر ومؤکد ہے کہ مواظبت محققین کے نزدیك امارت وجوب کمافی البحر وغیرہ (جیسا کہ بحر وغیرہ میں ہے۔ ت) علاوہ بریں اگربالفرض رسول اﷲ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  نے دائمًا سب سنتیں مسجد ہی میں پڑھی ہوتیں ، تاہم بعد اس کے کہ حضور ہم سے ارشاد فرماچکے “ فرضوں کے سواتمام نمازیں تمہیں گھرمیں پڑھنی چاہئیں “ اور فرمایا “ ماورائے فرائض اور نمازیں گھرمیں پڑھنا مسجد مدیہ طیبہ میں پڑھنے سے زیادہ ثواب رکھتاہے “ بلکہ مسجد میں پڑھتے دیکھ کر وہ ارشاد فرمایا کہ “ نمازگھروں میں پڑھاکرو “ کمامرکل ذلك (جیسا کہ یہ سب کچھ پیچھے گزراہے۔ ت) توہمارے لئے بہترگھر ہی میں پڑھنے میں رہے کہ قول فعل پرمرجح ہے اور ان احادیث میں نماز سے صرف نوافل مطلقہ مرادنہیں ہوسکتی کہ ماورائے فرائض میں سنن بھی داخل ، اور قضیہ مسجد بنی عبدالاشہل کا خاص سنن مغرب میں تھا کما سبق (جیسا کہ پیچھے گزرا۔ ت) اسی طرح فقہاء بھی عام حکم دیتے اور نوافل کی

تخصیص نہیں کرتے ، ہدایہ میں ہے :

 



[1]   صحیح مسلم باب استحباب صلٰوۃ النافلۃ فی بیتہ مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی ۱ / ۲۶۶

[2]   سنن ابوداؤد باب صلٰوۃ الرجل التطوع فی بیتہ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۱۴۹

[3]   فتح القدیر باب ادراك الفریضہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر۱ / ۴۱۶

[4]   سنن ابوداؤد باب رکعتی المغرب این تصلیان مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۱۸۴

[5]   کنزالعمال حدیث ۱۹۴۲۳ ، موسستہ الرسالہ بیروت ۱ / ۳۸۶

[6]   سنن ابن ماجہ باب ماجاء فی رکعتین بعدالمغرب ، سعید کمپنی کراچی ص ۸۳

[7]   اشعۃ اللمعات باب من صلی صلٰوۃ مرتین ، فصل ثالث مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۵۰۳

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن