دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 7 | فتاوی رضویہ جلد ۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۷

رابعا : سب سے قطع نظر کیجئے تو پاؤں کا عذر عذر فی الحضور ہے نہ عذرللحاضر کالمطروالطین وامثالہما بلکہ وجہ اولًا وہی اتیان جماعت بے اذان کہ درباب استنان موکد اذان اگرچہ مواہب الرحمان و مراقی الفلاح و ردالمحتار کے اطلاقات بہت وسیع ہیں

ویعارضہا کثیر من روایات المبسوط والمحیط والخانیۃ والخلاصۃ والبزازیۃ والھندیۃ وغیرھا من المعتبرات حتی نفس ردالمحتار ومشروحہ الدرالمختار کمابیناہ فیما علقناہ علی ھامشہ۔

مبسوط ، محیط ، خانیہ ، خلاصہ ، بزازیہ ، ہندیہ اور دیگر معتبر کتب کی اکثرروایات اس کے معارض ہیں حتی کہ خود ردالمحتار اور اس کا متن درمختار میں بھی معارض ہیں جیسا کہ ہم نے اس کے حاشیہ میں بیان کیاہے۔ (ت)

مگر اس قدر بلاشبہہ ثا بت کہ نماز پنجگانہ عـــہ۱سے جونماز وقتی رجال احرار غیرعُراۃ مسجد میں باجماعت اداکریں اس کے لئے سوا بعض صور مستثناۃ عـــہ۲کے وقت میں اذان کا پہلے ہولینا سنت مؤکدہ قریب بواجب ہے اور بے اس کے

عـــہ۱ دخلت الجمعۃ وخرجت صلٰوۃ العیدین والکسوف والجنازۃ والاستسقاء وغیرھا والفوائت وجماعۃ النساء والصبیان و العبید والعراۃ وجماعۃ البیوت والصحراء ومستندکل ذلك مذکور فیما علقناہ علی ردالمحتار۱۲منہ غفرلہ (م )

اس میں جمعہ داخل اور عیدین ، کسوف ، جنازہ اور استسقاء وغیرہ اور قضا اور جماعت خواتین ، بچوں ، غلاموں ، ننگوں اور گھریلو جماعت اور جنگل کی جماعت اس سے خارج ہے اور ہرایك پردلیل ہم نے اپنے حاشیہ ردالمحتار میں تحریر کی ہے ۱۲منہ غفرلہ (ت)

عـــہ۲ مثلًا جمعہ کے دن شہر یا قصبہ میں جو معذور ظہرپڑھیں انہیں اذان کی اجازت نہیں اگرچہ جماعت کریں کہ انہیں جماعت کرنابھی جائز نہیں ، موسم حج میں عصر ، عرفہ وعشائے مزدلفہ کے لئے تکبیرہوتی ہے نہ اذان(باقی برصفحہ آئندہ)

جماعت کرلینا مکروہ وگناہ یہاں تك کہ یہ جماعت شرعًا اصلًا معتبر نہیں اس کے بعد جو جماعت باذان واقامت ہوگی وہی پہلی جماعت ہوگی ، بلکہ علماء فرماتے ہیں اگر کچھ لوگوں نے آہستہ اذان دے کر جماعت کرلی کہ آوازِ اذان اوروں کو نہ پہنچی تو ایسی جماعت بھی داخل شمار واعتبار نہیں نہ کہ جب سرے سے اذان دی ہی نہ جائے ، وجیز امام کروری میں ہے :

ویکرہ للرجال اداء الصلٰوۃ بجماعۃ فی مسجد بلااعلامین لا فی المفازۃ والکروم والبیوت[1] الخ

اقول :  قولہ بلااعلامین ای بدون الجمع بینھما فنافی الکراھۃ ھوالایتان بھما لاباحدھما بدلیل قولہ لا فی المفازۃ الخ فان ترك اعلام الشروع مکروہ مطلقا ولوفی المفازۃ وقد نص علی الاساءۃ فی ترکہما۔            

مردوں کے لئے مسجد میں فرائض کی جماعت اذان و اقامت کے بغیر مکروہ ہے ، جنگل ، گھنے باغوں اور گھروں میں مکروہ نہیں الخ (ت)

اقول : (میں کہتاہوں ) اس کا قول “ بلااعلامین “ یعنی اذان واقامت کو جمع کئے بغیر لہٰذا منافی کراہۃ دونوں کے ساتھ نماز باجماعت اداکرنا ہے نہ صرف ایك کے ساتھ اس کا قول لا فی المفازۃ الخ اس پر دلیل ہے کیونکہ جماعت کے ساتھ اذان کا ترك ہرحال میں مکروہ ہے خواہ جنگل میں ہو اور ان دونوں کے ترك پراساء ت کی تصریح ہے(ت)

 

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)

کما فی الھندیۃ عن الخانیۃ ولاحاجۃ ھھنا الٰی استثناء فوائت تودی فی المسجد کما فعل الشامی ولاماوراء اول فوائت ولوادیت فی غیرالمسجد کمازدناہ علیہ لان الکلام ھھنا فی الاداء ۱۲منہ غفرلہ (م)

ہندیہ میں خانیہ کے حوالے سے یوں ہی ہے اور ان فوت شدہ نمازوں کے استثناء کی ضرورت نہیں جو مسجد میں ادا کی جائیں جیسا کہ شامی نے کیاہے اور نہ ہی ماورائے اول کے فوت شدہ کااستثناء ضروری ہے اگرچہ وہ غیر مسجد میں ادا کی جائیں جیسا کہ ہم نے اس پر اضافہ کیاہے کیونکہ یہاں گفتگو ادا میں ہورہی ہے۔ (ت)

درر و غرر علامہ مولی خسرو میں ہے :

(یأتی بھما) ای الاذان والاقامۃ (المسافر والمصلی فی المسجد جماعۃ و فی بیتہ بمصر وکرہ للاول) ای المسافر (ترکہا) ای الاقامۃ (وللثانی) ای للمصلی فی المسجد (ترکہ) ای الاذان (ایضا) ای کالاقامہ [2] ۔

(ان دونوں کو بجالائے) یعنی اذان واقامت کے ساتھ (مسافر اور نمازی مسجد میں جماعت کے لئے اور شہر میں گھر پرنماز ادا کرنے والا ، اور پہلے کے لئے مکروہ ہے) یعنی مسافر کے لئے (اس کا چھوڑنا) یعنی تکبیر کا( اور دوسرے کے لئے) یعنی مسجد میں نماز ادا کرنے والے کے لئے ( اس کا چھوڑنا) یعنی اذان کا (بھی) یعنی اقامت کی طرح مکروہ ہے۔ (ت)

عالمگیریہ میں ہے :

لوصلی بعض اھل المسجد باقامۃ وجماعۃ ث دخل المؤذن والامام وبقیۃ الجماعۃ فالجماعۃ المستحبۃ لھم والکراھۃ للاولٰی کذا فی المضمرات[3] ۔

اگر کچھ اہل مسجد نے اقامت اور جماعت کے ساتھ نماز ادا کرلی پھر مؤذن ، امام اور باقی لوگ آئے تو ان کی جماعت مستحب ہے ، پہلی جماعت مکروہ ہوگی ، مضمرات میں اسی طرح ہے۔ (ت)

یہ خاص جزئیہ مسئلہ مسئولہ ہے خلاصہ و خانیہ و ہندیہ وغیرہا میں ہے :

واللفظ للامام البخاری جماعۃ من اھل المسجد اذنودی فی المسجد علی وجہ المخافۃ بحیث لم یسمع غیرھم ثم حضر من اھل المسجد قوم وعلموا فلھم ان یصلوا بالجماعۃ علی وجھھا ولاعبرۃ للجماعۃ الاولٰی[4]  اھ

الفاظ امام بخاری کے ہیں کہ جماعت کے لئے اہل مسجد میں سے ایك گروہ نے مسجد میں اتنی آہستہ اذان دی کہ ان کے غیر نے نہ سنی پھر دیگر لوگ آئے اور ان کو علم ہواتو ان لوگوں کو حق حاصل ہے کہ وہ سنت طریقہ پر جماعت کروائیں پہلی جماعت کا کوئی اعتبار نہیں ۱ھ(ت)

پس اس معذور اور اس کے شریك اور ان ضرورت والوں کا یہ فعل جماعت مسنونہ معتبرئہ شرعیہ نہیں بلکہ مکروہ ممنوعہ ہے اور جو جماعت باذان واقامت اس کے بعد ہوگی اس میں کچھ کراہت نہ ہوگی بلکہ وہی جماعت مسنونہ وجماعت اولٰی ہے۔

ثانیًا جب یہ جماعت جماعت نہیں تو دقیق نظر حاکم کہ ان کا یہ فعل بعد دخول وقت مسجد سے بے نیت شہود جماعت باہرجانا ہوا یہ بھی مکروہ اور حدیث میں اس پر وعید شدید وارد :

ابن ماجۃ عـــہ  عن امیرالمؤمنین عثمٰن رضی الله تعالٰی عنہ قال قال رسول الله صلی اللّٰہ

ابن ماجہ نے امیرالمؤمنین حضرت عثمان  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کیا ہے کہا رسول الله   صَلَّی اللہ 

عـــہ سندہ ضعیف واقتصرنا علیہ تبعا للبحر وغیرہ وقدثبت بسند صحیح من حدیث ابی ھریرۃ رضی الله تعالٰی عنہ لکن فیہ تخصیص مسجد النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فانہ قال قال رسول الله تعالٰی علیہ وسلم لایسمع النداء فی مسجدی ھذا ثم یخرج منہ الا لحاجۃ ثم لایرجع الیہ الامنافق [5] رواہ الطبرانی فی الاوسط ولابی داؤد فی مراسیلہ عن سعید بن المسیب رضی الله تعالٰی عنہ ان النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم قال لایخرج من المسجد احد بعد النداء الامنافق الااحد اخرجتہ حاجۃوھو یرید الرجوع [6]   ۱۲منہ غفرلہ (م) 

 



[1]   فتاوٰی بزازیہ علی حاشیہ فتاوٰی ہندیہ کتاب الصلوٰۃ فصل الاول فی الاذان مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۲۴

[2]   الدر الحکام فی شرح غررالاحکام باب الاذان مطبوعہ مطبع احمد کامل لاکائنہ فی دارالسعادت مصر ۱ / ۵۶

[3]   فتاوٰی ہندیہ الفصل الاول من باب الاذان مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۵۴

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن