دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 7 | فتاوی رضویہ جلد ۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۷

تین چیزیں مجھ پرفرض اور تمہارے لئے سنت ہیں : وترومسواك وقیامِ شب اقول : (میں کہتاہوں ) اگرچہ یہ حدیث حجت نہیں بن سکتی مگر قرآن عزیز کے ظاہر سے اس کی تائید ہورہی ہے اور خود محقق نے فتح القدیر میں مسئلہ مفقود کی بیوی کے تحت لکھاہے کہ حدیث ضعیف کسی شئی کی اصل کو ثابت نہیں کرسکتی البتہ مرجح  بن سکتی ہے اور کہا کہ حضرت ابن مسعود   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کی موافقت دوسرامرجح ہے(ت) اقول :  وھھنا موافقۃ سلطان المفسرین مرجح اٰخر(اور یہاں سلطان المفسرین حضرت عبداﷲ بن عباس   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم  ا کی موافقت ایك دوسرا مرجح ہے۔ ت) ابوجعفرطبری حضرت سیدنا عبداﷲ ابن عباس   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم  ا سے راوی :

اُمِر صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بقیام اللیل وکتب علیہ دون امتہ[1]

حضور سیّدعالم   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کوقیام شب کاحکم تھا حضورپرفرض تھا اُمت پرنہیں ۔

اما م محی السنۃ بغوی معالم میں فرماتے ہیں :

کانت صلٰوۃ اللیل فریضۃ علی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی الابتداء و علی الامۃ ،  ثم صار الوجوب منسوخا فی حق الامۃ ،  وبقی فی حق النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم[2]  اھ ملخصا

ابتداء  قیامِ شب سرورعالم   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  اور آپ کی امت دونوں پرفرض تھا پھر امت کے حق میں وجوب منسوخ ہوگیا لیکن رسالت مآب   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کے حق میں وجوب باقی رہا  اھ تلخیصًا(ت)

فتح القدیر میں ہے : علیہ کلام الاصولیین من مشائخنا[3] (ہمارے مشائخ اصولیین کی رائے یہی ہے۔ ت)شرح مواہب زرقانی میں ہے : ھو قول الاکثر ومالک[4] (اکثرعلماء اور امام مالك کایہی قول ہے۔ ت) مواہب میں ہے : ھذا ماصححہ الرافعی ونقلہ النووی عن الجمہور[5] (رافعی نے اسی کی تصحیح کی اور نووی نے اسے جمہور سے نقل کیاہے۔ ت) شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی اشعۃ اللمعات میں فرماتے ہیں :

مختار آن ست کہ از امت منسوخ شد بر آنحضرت

مختار یہی ہے کہ امت سے یہ منسوخ ہے اور

صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم باقی ماندتا آخر عمر وقد حقق ذلك فی موضعہ[6]

سرورعالم   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کے حق میں یہ وجوب تمام عمرباقی رہا اور اس کی تحقیق اس کے مقام پرہوئی ہے۔ (ت)

تویوں بھی سنیت تہجد ثابت نہ ہوئی اور وہی مذہب واستحباب مؤید بقول جمہور ومشرب ومختار ومنصوررہا۔

اقول :  شك نہیں کہ تہجد ابتدائے امر میں حضوراقدس صلوات اﷲتعالٰی وسلامہ علیہ اور حضورکی امت سب پر فرض تھا  کما شھدت بہ سورۃ المزمل “   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  “ (جیسا کہ اس پرسورہ مزمل (  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  ) گواہ ہے۔ ت) تواب ان کی فرضیت ثبوت ناسخ پرموقوف ، امت کے حق میں ناسخ بدلیل اجماع امت ثابت وان لم نعلم سندالاجماع (اگرچہ ہم اس اجماع کی سند سے آگاہ نہیں ۔ ت)حضوراقدس   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کے باب میں دعوٰی نسخ کوبھی کوئی ایسی ہی روشن دلیل چاہئے جو اپنے افادہ میں احتمالات سے منزہ ہوں فان الاحتمال یقطع الاستدلال ولایقوم بامر محتمل حجۃ (کیونکہ احتمال استدلال کوختم کردیتاہے اور امرمحتمل حجت نہیں ہوسکتا۔ ت) حدیث ام المومنین صدیقہ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  :

ان اﷲ عزوجل افترض قیام اللیل فی اول ھذہ السورۃ فقام نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم واصحابہ حولا وامسك اﷲ خاتمتھا اثنی عشرشھرا فی السماء حتی انزل اﷲ فی اٰخر ھذہ السورۃ التخفیف فصارقیام اللیل تطوعا بعد فریضۃ[7] رواہ مسلم وابوداؤدوالنسائی۔                                              

اﷲ عزوجل نے اس سورہ کی ابتداء میں قیام شب فرض فرمایا تو سرورعالم   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  اور آپ کے صحابہ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم   اجمعین نے ایك سال تك قیام کیا اور اس سورۃ کے آخری حصہ کو اﷲتعالٰی نے بارہ مال تك آسمان پرروکے رکھا حتی کہ اس سورۃ کے آخر میں تخفیف نازل ہوئی توفرض ہونے کے بعد اب قیام شب نفل بن گیاکو مسلم ، ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا(ت)

حضوراقدس   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  سے نسخ میں نص نہیں ولہٰذا علامہ زرقانی نے شرح مواہب میں فرمایا : دلالتہ لیست بقویۃ لاحتمالہ[8] (اس کی دلالت احتمال کی وجہ سے (حضور اکرم کے حق میں نسخ پر) قوی نہیں ۔ ت) رسائل الارکان مولٰنا بحرالعلوم میں ہے :

ھذا لایقنع بہ القائل بالفریضۃ لانہ یقول لعل ام المؤمنین ارادت ان صلٰوۃ اللیل کانت فریضۃ علی الامۃ ثم نسخھا اﷲ تعالٰی عن الامۃ وصارت نفلا واما علیہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فبقیت الفریضۃ کما کانت یظھر من خاتمۃ سورۃ المزمل[9] اھ۔   

اقول :  کانہ یرید قولہ تعالٰی علم ان لم تحصوہ فتاب علیکم وقولہ تعالٰی

عَلِمَ اَنْ سَیَكُوْنُ مِنْكُمْ مَّرْضٰىۙ-وَ اٰخَرُوْنَ یَضْرِبُوْنَ فِی الْاَرْضِ یَبْتَغُوْنَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِۙ-[10]  فان الظاھران الخطاب فیہ للامۃ۔

جو حضور پرفرضیت تہجد کاقائل ہے وہ ام المؤمنین   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کے اس فرمان سے قانع نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ کہہ سکتاہے آپ کامقصد یہ بیان کرناہے کہ پہلے قیام شب اُمت پرفرض تھا پھرفرض منسوخ ہوکر نفل ہوگیا ، رہامعاملہ سرورعالم   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کاتووہاں یہ فرض ہی باقی رہا جیسا کہ خاتمہ سورۃ سے ظاہرہورہاہے اھ ۔

 



[1]   تفسیر ابن جریر طبری المسمی جامع البیان  مطبوعہ مطبعۃ میمنیۃ مصر ۱۵ / ۹۰ ، المواہب اللدنیۃ بحوالہ طبری الباب الثالث فی ذکر تہجدہ   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت ۴ / ۱۷۸

[2]   المعالم التنزیل علٰی حاشیۃ الخازن زیر آیۃ ومن الیل فتہجد بہ الخ   ۴ / ۱۷۴

[3]   فتح القدیر باب النوافل   مطبوعہ مکتبۃ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۹۱

[4]   شرح الزرقانی المواہب الباب الثالث فی ذکر تہجدہ   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  مطبوعہ مطبعۃ عامرہ  صر ۷$&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن