30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الاحسن اتمام السنن المؤقتۃ بذکر صلٰوۃ الضحی و المستحبات بذکر التھجد[1] اھ ملخصًا۔
وقتی سنن میں چاشت کی نماز اور مستحبات میں تہجد کاذکر ان کا اچھا اتمام ہے ۱ھ ملخصًا(ت)
غرض ہمارے کتب مذہب کے احکام منصوصہ مذکورہ علی جہۃ النفل میں اس کا استحباب ہی مصرح ہے ، ہاں بعض علمائے مالکیہ وشافعیہ مثل امام ابن عبدالبروامام ابوزکریانووی جانب سنیّت گئے ، اور بعض ائمہ تابعین حسن بصری و عبیدہ سلمانی و محمد بن سیرین قائل وجوب ہوئے کمایظھر بمطالعۃ عمدۃ القاری وشرح المؤطا الزرقانی وغیرھما (جیسا کہ عمدۃ القاری ، شرح المؤطا للزرقانی وغیرہ کے مطالعہ سے پتاچلتاہے۔ ت) قول وجوب کو توجمہور علمائے مذاہب اربعہ ردفرماتے اورمخالف جماعت بتاتے ہیں کمافیھما وفی شرح مسلم للنووی و البخاری للقسطلانی والمواھب للزرقانی وغیرھما(جیسا کہ ان دونوں میں ہے اور شرح مسلم للنووی ، شرح بخاری للقسطلانی اور مواہب للزرقانی وغیرہ میں ہے۔ ت) اور ہمارے علماء وجوب وسنیت کی یکساں تضعیف فرماتے ہیں ۔ شرح نقایہ قہستانی میں ہے :
ثمان رکعات بتسلمیۃ اوتسلیمتین للتہجد وقیل لہ رکعتان سنۃ وقیل فرض کمافی المحیط[2] ۔
تہجد کی ایك یادو سلاموں کے ساتھ آٹھ رکعات ہیں بعض کے نزدیك دورکعات سنت ہیں بعض کے نزدیك یہ فرض ہے جیسا کہ محیط میں ہے۔ (ت)
البتہ ہمارے علماء متاخرین سے امام ابن الہام نے سنیت واستحباب میں تردد اور بالآخر جانب اول میل اور انہیں کے اتباع سے اُن کے تلمیذ علامہ حلبی نے حلیہ میں اسے اشبہ فرمایا ، یہ ان امام کی اپنی بحث ہے۔ نہ مذہب منصوص باآنکہ خود اعتراف فرماتے ہیں کہ احادیث قولیہ حضورپرنورسیدعالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم صرف استحباب ہی کاافادہ فرماتے ہیں ۔ مستند اُن کا مواظبت فعلیہ حضوروالا صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ہے مگرخود فرماتے ہیں کہ مواظبت وہی مفید سنیت جو فعل نفل پرہو ، تو اس مسئلہ کی بناء حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم پرتہجد فرض ہونے نہ ہونے پررہی۔ اگرحضور پرفرض نہ تھا توبوجہ مواظبت اُمت کے لئے سنت ہوگا ورنہ مستحب۔
قال قدس سرہ بقی ان صفۃ صلٰوۃ اللیل فی حقنا السنیۃ اوالاستحباب یتوقف علی صفتھا فی حقہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فان کانت فرضا فی حقہ فھی مندوبۃ فی حقنا لان الادلۃ القولیۃ فیھا انما تفید الندب والمواظبت الفعلیۃ لیست علی تطوع لتکون سنۃ فی حقنا وان کانت تطوعا فسنۃ بلنا[3]۔
امام ابن ہمام قدس سرہ ، نے فرمایا کہ باقی رہا معاملہ رات کی نماز کاکہ آیا ہمارے حق میں سنت ہے یامستحب ، تویہ بات اس پرموقوف ہے کہ وہ سرورعالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے حق میں کیاتھی ، اگروہ آپ پر فرض تھی توہمارے حق میں مستحب ہے کیونکہ ادلہ قولیہ اس کے بارے میں مستحب ہونے کافائدہ دیتی ہیں اور مواظبت فعلیہ نفل پرنہیں کہ وہ ہمارے حق میں سنت بن جائے اور اگرآپ کے لئے یہ نفل تھی تو ہمارے لئے یہ سنت ہوگی۔ (ت)
اب اسی مبنٰی کودیکھئے تو اس میں بھی قول جمہور مذہب مختار ومنصور حضور پرنور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے حق میں فرضیت ہے اسی پرظاہر قرآن عظیم شاہد اور اسی طرف حدیث مرفوع وارد۔
قال اﷲ تعالٰی یٰۤاَیُّهَا الْمُزَّمِّلُۙ(۱) قُمِ الَّیْلَ[4]
اﷲ تعالٰی کافرمان ہے اے چادر اوڑھنے والے رات کوقیام کیاکرو۔
دوسرے مقام پرفرمایا :
وَ مِنَ الَّیْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ[5]
رات کوتہجد اداکیاکرو۔
ان آیتوں میں خاص حضوراقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو امرالٰہی ہے اور امرالٰہی مفیدوجوب ،
ولاینا فیہ قولہ تعالٰی نافلۃ فالنافلۃ
اﷲتعالٰی کانافلۃ فرمانا اس وجوب کے منافی نہیں
الزیادۃ ای زائدۃ فی فرائضك اوفی درجاتك بتخصیص ایجابہ بك فان الفرائض اعظم درجات واکبر تفصیلا بل مؤیدہ قولہ تعالٰی لك قال الامام ابن الھمام ربما یعطی التقیید بالمجرور ذلك فانہ اذا کان النفل المتعارف یکون کذلك لہ ولغیرہ[6] اھ
کیونکہ نافلہ کا معنی زائدہ ہے اب معنی ہوگا کہ آپ کے فرائض یادرجات میں یہ اضافہ ہے کہ آپ پر یہ لازم واجب ہے کیونکہ فرائض سب سے بڑے درجے وفضیلت پرفائز کرنے کاسبب بنتے ہیں بلکہ اس کی تائید اﷲتعالٰی کے اس ارشاد “ لک “ سے ہورہی ہے۔ امام ابن ہمام کہتے ہیں کہ بعض اوقات مجرور “ ک “ کے ساتھ مقیدکرنا اسی بات کافائدہ دیتاہے (یعنی یہ فرائض میں آپ کے لئے اضافہ ہے) کیونکہ متعارف نوافل صرف آپ ہی کے لئے نہیں بلکہ اس میں آپ اور دیگر لوگ مشترك ہیں (ت)
طبرانی معجم ف اوسط بیہقی سنن میں اُمّ المؤمنین صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم ا سے راوی حضوراقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا؛
ثلث ھن علیّ فرائض وھن لکم سنۃ الوتر والسواك وقیام اللیل[7]۔ اقول : والحدیث ان لم یصلح حجۃ فقد استظھر بظاھر الکتاب العزیز ، وقدنص المحقق نفسہ فی الفتح القدیر مسئلۃ امرأۃ المفقود ان الحدیث الضعیف یصلح مرجحا لامثبتا بالاصالۃ قال و مؤافقۃ ابن مسعود مرجح اٰخر[8]۔
[1] جامع الرموز فصل الوتر مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱ / ۲۰۷
[2] جامع الرموز فصل الوتر مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱ / ۲۰۷
[3] فتح القدیر باب النوافل مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۹۱
[4] القرآن ۷۳ / ۱۔ ۲
[5] القرآ ن ۱۷ / ۷۹
[6] فتح القدیر باب النوافل مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۹۱
[7] تفسیر درمنثور بحوالہ معجم اوسط وسنن بیہقی زیرآیہ ومن الیل فتہجد بہ نافلۃ لك مطبوعہ مکتبہ آیۃ اﷲ العظیمی قم ایران $&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع