30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہو سکتی کیونکہ اس میں علت اور شئی ہے اور وہ جواب ہونا نہیں بلکہ وہ اس کاخطاء ہوناہے یہی گزشتہ تفصیل تھی اور آپ دیکھ رہے ہیں کہ اس کا کوئی تعلق نہیں کہ یہ اس کی فروعات میں سے ہے کیونکہ الحمدﷲ چھینك کاجواب نہیں بلکہ وہ چھینکوالے کے لئے سنت ہے توجب اس سے مقصود تعلیم نہیں تواب حمد کرنا ہی ہوگا بخلاف مذکورہ صورتوں کے کہ یہ بہرصورت جواب ہیں کیونکہ ان کاجواب ہونا معروف ہے تو اس سے اشکال کا جواب معلوم ہوگیا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۱۰۲۲ : ازداتاگنج ضلع بدایوں مرسلہ عاشق حسین صاحب ۱۹جمادی الاخری ۱۳۳۶ھ
جوتاپہن کریعنی فل بوٹ جوٹخنوں تك بندھا ہوتاہے خشك ہوغلاظت نہ لگی ہوخواہ نیا ہو یاپرانا ، نماز جائز ہے یانہیں ؟ یہ اور بات ہے کہ مسجد میں چونکہ سب لوگ رواجًا آج کل جوتا اتارکر جاتے ہیں ان میں ایك شخص انگشت نمائی کے خوف سے جوتاپہن کرنہ جائے مگر مسئلہ کیاہے آیاکوئی شخص اپنے مکان میں یاجنگل میں یا سفرمیں بوٹ پہن کرنماز پڑھ سکتاہے؟ ایك مولوی نے فرمایاتھا کہ بوٹ نیاہو یاپرانا ، خشك ہو ، غلاظت نہ لگی ہو پہن کر نمازجائز اور صحیح بخاری میں لکھاہوا بتایاتھا۔
الجواب :
مسجد میں جوتاپہن کرجانا خلاف ادب ہے ۔ ردالمحتارمیں ہے دخول المسجد متنعلا سوء الادب[1] (مسجد میں جوتاپہن کرداخل ہونا بے ادبی ہے۔ ت)اب کی بناعرف ورواج ہی پرہے اور وہ اختلاف زمانہ و ملك وقوم سے بدلتاہے ، عرب میں باپ سے اَنْتَ کہہ کرخطاب کرتے ہیں یعنی تو۔ زمانہ اقدس نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم میں بھی یونہی خطاب ہوتاتھا ، سیّدنا اسمٰعیل عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام نے اپنے والد ماجد سیّدنا ابراہیم شیخ الانبیاء خلیل کبریا عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام سے عرض کی اے میرے باپ! تو کر جس بات کا تجھے حکم دیاجاتاہے اب اگرکوئی بے ادب اسے حجت بناکر اپنے باپ کوتُوتُو کہاکرے ضرور گستاخ مستحق سزاہے نماز حاضری بارگاہ بے نیاز ہے کسی نواب کے دربار میں توآدمی جوتاپہن کرجائے ، یہ توادب کاحکم ہے اور آج کل لوگوں کے جوتے صحابہ کرام کے جوتوں کی طرح نہیں ہوتے۔ ردالمحتار میں ہے : نعالھم المتنجسۃ[2] (لوگوں کے جوتے ناپاك ہوتے ہیں ۔ ت) پھر بوٹ غالبًا ایساپھنساہواہوتا ہے کہ سجدے میں انگلیوں کا پیٹ زمین پربچھانے نہ دے گا توآداب درکنار سرے سے نمازہی نہ ہوگی۔ وھو تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۲۳ : از ککراالہ ضلع بدایوں مرسلہ یسین خاں ۷ذی الحجہ ۱۳۳۶ھ
ایك شخص نے پہلی رکعت میں لم یکن الذین کفروا پڑھی اور دوسری میں سورئہ دہر ، اس سے کہا کہ ایك تو تم نے قرآن شریف اُلٹا پڑھا دوسرا پہلی سورہ چھوٹی پڑھی اور بعد کی بڑی ، نماز میں کراہت تونہیں آئی ، کہاکچھ حرج نہیں حدیث سے ثابت ہے۔ فقط
الجواب : اس میں دوکراہتیں ہوئیں : ایك دوسری رکعت کی پہلی سے اس قدرتطویل ، اور دوسری سخت اشد کراہت ہے۔ قرآن مجید کومعکوس پڑھا یہ گناہ وسخت ناجائزہے حدیث میں ہے ایساشخص خوف نہیں کرتا کہ اﷲتعالٰی اس کا دل اُلٹ دے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۲۴ : ازدھام پور ضلع بجنور مرسلہ حافظ سیّد بنیاد علی صاحب ۸محرم الحرام ۱۳۱۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسجد کے حجرہ میں کوئی شخص علیحدہ نمازپڑھے تو اس کی نماز ہوگی یانہیں ؟ بیّنواتوجروا
الجواب :
مسجد کے حجرہ میں فرضوں کے سوا اور نمازیں پڑھنابہترہے یہاں تك کہ فرائض کے قبل وبعد کے سنن مؤکدہ میں بھی بربنائے اصل حکم افضل یہی ہے کہ غیرمسجد میں ہو ، رسول اﷲ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں :
افضل صلٰوۃ المرء فی بیتہ الاالمکتوبۃ[3]۔
فرض نماز کے علاوہ آدمی کی نمازگھر میں افضل ہے(ت)
مگرفرائض بے عذر قوی مقبول اگرحجرہ میں پڑھے اور مسجد میں نہ آئے گنہگار ہے ، چندبار ایساہو توفاسق مردود الشہادۃ ہوگا ، حدیث میں ہے رسول اﷲ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں :
لاصلٰوۃ لجار المسجد الافی المسجد[4]۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسجد کے پڑوسی کی نماز صرف مسجد میں ہوتی ہے(ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۲۵ : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چوری کاکپڑا پہن کرنماز کاکیاحکم ہے؟ بیّنواتوجروا
الجواب :
چوری کاکپڑا پہن کرنمازپڑھنے میں اگرچہ فرض ساقط ہوجائے گا لان الفساد مجاور (کیونکہ فساد نماز سے باہرہے۔ ت) مگرنماز مکروہ تحریمی ہوگی للاشتمال علی المحرم (حرام چیز اٹھائے ہوئے ہونے کی وجہ سے) کہ جائز کپڑے پہن کراس کااعادہ واجب کالصلٰوۃ فی الارض المغصوبۃ سواء بسواء (جس طرح مغصوبہ زمین پرنماز کاحکم اور یہ برابرہے۔ ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۲۶ : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام کے سرپردستارنہ ہو اور مقتدی کے دستار ہو توکسی کی نمازمیں کچھ خلل آتاہے یانہیں ؟ اوراگرکچھ خلل آتاہے توامام کے یامقتدی کے؟ اور اگرخلل ہے تو کس قسم کا خلل ہے؟ بیّنواتوجروا
الجواب :
کسی کی نماز میں کچھ خلل نہیں ، عمامہ مستحبات نماز سے ہے اور ترك مستحب سے خلل درکنار کراہت بھی نہیں آتی ،
وذلك لان التعمم من سنن الزوائد و سنن الزوائد حکمھا حکم المستحب۔
اس لئے کہ عمامہ باندھنا سنن زوائد میں سے ہے اور سنن زوائد کاحکم مستحب ولا ہوتاہے(ت)
درمختارمیں ہے :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع