30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دونوں پلّو آگے پیچھے چھوٹے رہیں اور اگررضائی یاچادر کامثلًاسیدھا آنچل بائیں شانے پرڈال لیا اور بایاں آنچل چھوڑدیا توحرج نہیں اور کسی کپڑے کو ایساخلافِ عادت پہننا جسے مہذب آدمی مجمع یابازار میں نہ کرسکے اور کرے تو بے ادب خفیف الحرکات سمجھاجائے یہ بھی مکروہ ہے جیسے انگرکھا پہننا اور گھنڈی یاباہر کے بندنہ لگانا یاایسا کرتا جس کے بٹن سینے پر ہیں پہننا اور بوتام اتنے لگانا کہ سینہ یاشانہ کھلارہے جبکہ اوپر سے انگرکھا نہ پہنے ہو یہ بھی مکروہ ہے اور اگراوپر سے انگرکھا پہنا ہے یااتنے بوتام لگالئے کہ سینہ یاشانہ ڈھك گئے اگرچہ اوپر کا بوتام نہ لگانے سے گلے کے پاس کا خفیف حصہ کھلارہا یاشانوں پرکے چاك بہت چھوٹے چھوٹے ہیں کہ بوتام نہ لگائیں جب بھی کرتا نیچے ڈھلکے گا شانے ڈھکے رہیں گے توحرج نہیں ، اسی طرح انگرکھے پرجوصدری یاچغہ پہنتے ہیں اور عرف عام میں اُن کا کوئی بوتام بھی نہیں لگاتے اور اسے معیوب بھی نہیں سمجھتے تو اس میں بھی حرج نہیں ہوناچاہئے کہ یہ خلافِ معتاد نہیں ھذا ماظھرلی من کلماتھم والعلم بالحق عند ربی(یہ وہ ہے جوعبارات فقہاء سے بھرپور واضح ہوا باقی حق کا علم میرے رب کے پاس ہے ۔ ت)درمختار میں ہے :
کرہ تحریما سدل ثوبہ ای ارسالہ بلالبس معتاد وکذا القباء بکم الی وراء ذکرہ الحلبی کشد ومندیل یرسلہ کتفیہ فلومن احدھما لم یکرہ کحالۃ عذروخارج صلٰوۃ فی الاصح[1]۔
کپڑے کو لٹکانا مکروہ تحریمی ہے یعنی ایسا لٹکانا جو معتاد پہننے کے خلاف ہو اسی طرح آستین والی قبا کاپیچھے کی طرف ڈالنا اسے حلبی نے ذکرکیا مثلًا پٹکا یارومال دونوں کاندھوں سے لٹکانا ، اگرایك طرف سے ہو تومکروہ نہیں جیسا کہ اصح قول کے مطابق حالت عذر اور نماز سے باہرکامعاملہ ہے۔ (ت)
ردالمحتارمیں ہے :
ظاھر کلامھم انہ لافرق بین ان یکون الثوب محفوظا من الوقوع ، اولافعلی ھذا لاتکرہ فی الطیلسان الذی یجعل علی الراس وقدصرح بہ فی شرح الوقایۃاھ ای اذا لم یدرہ علی عنقہ والافلا سدل ، والاقبیتۃ الرومیۃ التی تجعل لاکمامھا خروق عند العضد اذا اخرج المصلی یدہ من الخرق وارسل الکم یکرہ لصدق السدل لانہ
ان کے کلام کے ظاہر سے پتاچلتاہے اس میں کوئی فرق نہیں کہ کپڑاگرنے سے محفوظ ہو یانہ ہو لہٰذا اس صورت میں ٹوپی والے کوٹ میں کراہت نہیں ہوگی جو سر پرہو ، اس کی تصریح شرح وقایہ میں ہے اھ یعنی جب اس نے گردن کو نہ باندھا ہو ورنہ کوئی سدل نہ ہوگا وہ رومی قبائیں جن کی آستینوں میں کندھوں کے پاس سوراخ ہوتے ہیں ، اگرنمازی اس پھٹی ہوئی جگہ سے ہاتھ نکالے اور آستین کو ویسے ہی ڈال لے تویہ مکروہ ہے اس پرسدل کاصدق ہے کیونکہ یہ
ارخاء من غیرلابس لان لبس الکم بادخال الیدوتمامہ فی شرح المنیۃ ، والشد شیئ یعتاد وضعہ علی الکتفین کما فی البحر و ذلك نحو الشال فاذا ارسل طرفا منہ علی صدرہ وطرفا علی ظھرہ یکرہ ، وفی الخزائن بل ذکر ابوجعفر انہ لوادخل یدیہ فی کیسہ ولم یزر ازرارہ فھو مسیئ لانہ یشبہ السدل اھ لکن فی الحلیہ فیہ نظر ظاھر بعد ان یکون تحت قمیص اونحوہ مما یستر البدن [2]اھ مختصرا ولنا فی ماقال فی الحلیۃ نظر قدمناہ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
بغیر پہننے کے چھوڑنا ہے اور آستین کاپہننا ہاتھ داخل کرکے ہوتاہے اس کی تفصیل شرح منیہ میں ہے بحر میں ہے شد (صافایاپَرنا) عادی شئی ہے اسے کاندھے پررکھاجاتاہے اس کی مثل شال ہے جب اس کی ایك طرف اپنے سینے پر اور ایك طرف اپنی پشت پررکھی تویہ مکروہ ہے ، خزائن میں ابوجعفر نے ذکرکیا اگر کسی نے دونوں ہاتھ آستینوں میں ڈالے اور ان کے بٹن بند نہ کئے تویہ گنہ گار ہوگا کیونکہ یہ سدل کے مشابہ ہے لیکن حلیہ میں کہا کہ جب وہ قمیص یا ایسے کپڑے کے تحت ہو جو بدن کوڈھانپ رہاہوتو اس میں نظر ہے اھ اختصارًا جبکہ خود حلیہ کی گفتگو میں نظر ہے جیسا کہ پیچھے ہم نے بیان کردیاہے۔ (ت) واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۰۱۸ : از کالج علی گڑھ کمرہ نمبر۶ مرسلہ محمدعبدالمجیدخاں یوسف زئی سرسیدکورٹ ۲۹صفر۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جس کمرہ میں یامکان میں تصاویر مردم آویزاں ہوں اُس میں نمازپڑھنا جائز یاناجائز حرام ہے یامکروہ؟ اگرناجائز یامکروہ ہے توشارع نے جومصلحت اس میں رکھی ہے وہ برائے خوبی اور باریکی ظاہرہونے کے بیان فرمائے جائیں ، دوسرے یہ کہ نماز ساتھ خیال غیراﷲ اور ہمہ تن مصروف ہوکرہوناچاہئے لہٰذا کیامضائقہ ہوسکتاہے اگرتصاویر اس جگہ ہوں یااحتیاطًا کیسا اس قدرکافی نہیں ہوسکتاہے کہ صرف سامنے یا اس حد تك کے جہان تك نظرپڑ سکے تصاویرہٹادی جائیں اور پس پشت اگر تصاویر ہوں وہ رہیں اور نمازپڑھ لی جائے تونماز ہوجائے گی یا کیانقص پیداہوجائے گا؟ فقط۔
الجواب :
جاندار کی اتنی بڑی تصویر کہ اسے زمین پررکھ کر کھڑے ہوکردیکھیں تو اعضاء بالتفصیل نظرآئیں بشرطیکہ نہ سربریدہ ہو ، نہ چہرہ محورکردہ ، نہ پاؤں کے نیچے ، نہ فرش پااندازمیں ، نہ مخفی پوشیدہ جس کمرہ میں ہو ، اس میں نماز مطلقًا
مکروہ ہے خواہ آگے ہو یاپیچھے یادہنے یابائیں یا اُوپر یاسجدہ کی جگہ اور ان سب میں بدترجائے سجود یاجانب قبلہ ہونا ہے پھر اوپر ، پھردہنے بائیں ، پھرپیچھے اور اس میں کراہت کے متعدد وجوہ ہیں اس مکان کامعبدِ کفارسے مشابہ ہونا ، تصویر کابطوراعزاز ظاہرطورپررکھا یا لگاہونا ، آگے یاجائے سجود پرہو تو اس کی عبادت سے مشابہ ہو ، ملائکہ رحمت کا اس مکان میں نہ آنا متواترحدیثوں میں ہے کہ حضورسیدالمرسلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :
ان الملٰئکۃ لاتدخل بیتافیہ کلب ولاصورۃ[3]۔
بیشك فرشتے اس گھرمیں نہیں جاتے جس میں کتا یاتصویرہو۔
یہ وجہ اُن تمام صورمذکورہ کوشامل اور وہم مذکور فی السوال کاعلاج کامل ہے واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۱۹ : ازبھنڈی بازار مرسلہ محمد فضل الرحمن سادہ کار ۵ ربیع الاول ۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو امام ازار ٹخنوں کے نیچے تك پہن کر نمازپڑھائے وہ نمازمکروہ تحریمی ہے یاتنزیہی؟ قبلہ رخ ایك قدم کونہ رکھنا یاایك قدم پرکھڑارہنا نمازمیں جائز ہے یاخلاف سنت اور مکروہ تنزیہی ؟ قبلہ رخ ایك قدم کو نہ رکھنا یا ایك قدم پرکھڑارہنا نمازمیں جائز ہے یاخلاف سنت اور مکروہ تنزیہی ہے؟ براہ ہمدردی استفتا بحوالہ عبارت کتب متداولہ معتبرہ فقیہ ارقام فرمائیں ۔ بیّنواتوجروا۔
الجواب :
ازارکاگِٹّوں سے نیچے رکھنا اگربرائے تکبرہوحرام ہے اور اس صورت میں نماز مکروہ تحریمی ورنہ صرف مکروہ تنزیہی ، اور نماز میں بھی اس کی غایت اولٰی۔ صحیح بخاری شریفمیں ہے : صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی : یارسول اﷲ! میراتہبند لٹك جاتاہے جب تك میں اس کا خاص خیال نہ رکھوں فرمایا : لست من یصنعہ خیلاء[4] (تم ان میں نہیں ہو جوبراہ تکبرایساکریں ، فتاوٰی علمگیریہ میں ہے :
اسبال الرجل ازارہ اسفل من الکعبین ان لم یکن للخیلاء ففیہ کراھۃ تنزیہ کذا فی الغرائب[5] ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
[1] درمختار باب مایفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۱
[2] ردالمحتار باب مایفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۷۳۔ ۴۷۲
[3] مسند احمد بن حنبل مروی عن ابی طلحۃ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۴ / ۳۰
[4] صحیح بخاری باب فی جرازارہ من غیرخیلاءِ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۸۶۰
[5] فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراہیۃ الباب التاسع فی اللبس مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۵ / ۳۳۳
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع