30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سبحان اﷲ کام خدمت کے کپڑے کہ گھر میں پہنے جاتے ہیں انہیں پہن کرنماز مکروہ ہو اور استعمالی جوتے کہ پاخانے میں پہنے جاتے ہیں انہیں پہن کرنماز مکروہ نہ ہو ، معمولی کپڑے کہ میل سے محفوظ نہیں رکھے جاتے اُن سے نماز میں کراہت ہو اور مستعمل جوتے کہ نجاست سے بچائے نہیں جاتے اُن سے نماز میں کراہت نہ ہو یہ بداہت عقل کے خلاف اور صریح خون انصاف ہے ولیس ھذا من باب القیاس بل کماتری استدلال بفحوی الخطاب لایحوم حولہ شك ولاارتیاب(یہ مسئلہ قیاسی نہیں بلکہ انداز وخطاب سے آپ استدلال دیکھ رہے ہیں اس میں نہ کوئی شك ہے نہ ریب۔ ت)
افادہ دوم : متون وشروح وفتاوٰی تمام کتب مذہب میں بلاخلاف تصریح صاف ہے کہ اندھے کے پیچھے نماز مکروہ ہے کہ اسے نجاست کامل احتیاط دشوار ہے۔ ہدایہ میں ہے :
یکرہ تقدیم الاعمی لانہ لایتوقی النجاسۃ[1]۔
نابینا کاامام بنانامکروہ ہے کیونکہ وہ نجاست سے نہیں بچ سکتا۔ (ت)
کافی امام نسفی میں ہے :
الاعمی لایصون ثیابہ عن النجاسات فالبصیر اولی بالامامۃ[2]۔
نابینا اپنے کپڑوں کونجاست سے محفوظ نہیں رکھ سکتا لہٰذا امامت کے لئے بیناہونا بہترہے(ت)
درمختارمیں ہے :
ونحوہ الاعشی ، نھر[3]
(اس کی مثل اعشی ہے ، نہر۔ ت)
ردالمتارمیں ہے :
الاعشی ھوسیئ البصر لیلاونھارا قاموس و ھذا ذکرہ فی النھر بحثا اخذا من تعلیل الاعمی بانہ لایتوقی النجاسۃ[4]۔
اعشی سے مراد وہ شخص ہے جس کی دن یا رات کو نظرکم ہوجائے ، قاموس ، نہر میں نابینا کی علت یہی بیان ہوئی ہے کہ وہ نجاست سے نہیں بچ سکتا۔ (ت)
ابوالسعود علی الکنز میں ہے :
والاعمی لانہ لایتوقی النجاسۃ وھذا یقتضی کراھۃ امامۃ الاعشی[5]۔
نابینا کیونکہ وہ نجاست سے نہیں بچ سکتا اور یہ تقاضاکرتاہے کہ اعشی کی امامت بھی مکروہ ہو۔ (ت)
طحطاوی علی المراقی میں اس کے بعد ہے :
وھوالذی لایبصرلیلا[6]
(وہ شخص جسے رات کودکھائی نہ دے۔ ت)
محل انصاف ہے کہ نمازی پرہیزگار نابینا بلکہ ضعیف البصر کے کپڑوں یابدن پراندیشہ ومظنہ نجاست زیادہ ہے یاان استعمالی جوتوں پرجنہیں پہن کرپاخانے تك میں جانا ہوتاہے پھروہاں کراہت ہونایہاں نہ ہونا صریح عکس مدعا ہے بلکہ وہان ایك حصہ کراہت ہو تو یہاں کئی حصے ہوناہے۔ افادہ سوم : علمائے حدیث مذکورسوال کی شرح میں تصریح فرمائی کہ عام لوگوں کو رسول اﷲ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم پرقیاس صحیح نہیں حضورپرنور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے برابرکون احیتاط کرسکتاہے!
اقول : اور اگرنادرًا کوئی شئے واقع ہو تو جبریل امین علیہ الصلٰوۃ والتسلیم حاضرہوکر عرض کردیتے ہیں جیسا کہ حدیث خلع نعال فی الصلٰوۃ سے ثابت ہے۔ مجمع بحارالانوار میں برمز “ ن “ فرمایا : یصلی فی النعلین لایوخذ منہ لغیرہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لان حفظ غیرہ لایلحق بہ[7]۔ حضورعلیہ السلام نے نعلین میں نماز ادا کی اس سے کوئی دوسرا استدلال نہیں کرسکتا کیونکہ کوئی دوسرا آپ کی طرح حفاظت نہیں کرسکتا۔ (ت)
افادہ چہارم : بے جرم نجاست مثل بول وغیرہ کامطلقًا صرف زمین پررگڑدینے سے پاك ہوجانا جیسا کہ سوال میں بیان کیا حسب تصریح صریح کتب معتمدہ تمام ائمہ مذہب کے خلاف ہے ، امام محمد کے نزدیك تونعل وخف بھی مطلقًا بے دھوئے پاك نہیں ہوسکتے جیسے کپڑے کاحکم ہے اور امام اعظم کے نزدیك نجاست جومردار اور خشك ہوگئی ہو ا س کے بعد اس قدررگڑیں کہ اس کااثرزائل ہوجائے اس وقت طہارت ہوگی اور ترنجاست یابے جرم جیسے پیشاب وغیرہ بے دھوئے پاك نہ ہوں گے ، اور امام ابی یوسف کی روایت میں اگرچہ خشك ہوجانا شرط نہیں تر بھی ملنے ولنے اثرزائل کردینے سے پاك ہوسکتی ہے مگرجرم دار نجاست کی ضرور قید ہے ، اکثر مشائخ نے قول امام ابی یوسف ہی اختیارکیا اور یہی مختار للفتوی ہے تو بے جرم نجاست کی بے دھوئے تطہیر ائمہ ثلثہ مذہب کے بھی خلاف اور جمہور مشائخ مذہب کے بھی خلاف اور قول مختارللفتوی کے بھی خلاف ہے وقدصرحواان لاعبرۃ بالبحث علی خلاف المنقول(اس کی تصریح کی ہے کہ خلاف منقول بحث کااعتبارنہیں ۔ ت) ہدایہ میں ہے :
اذا اصاب الخف نجاسۃ لہا جرم کالروث والعذرۃ والدم فجفت فدلکہ بالارض جاز وھذا استحسان وقال محمد رحمہ اﷲ تعالٰی لایجوز وھوالقیاس وفی الرطب لایجوز حتی یغسلہ وعن ابی یوسف رحمہ اﷲ تعالٰی انہ اذا مسحہ بالارض حتی لم یبق اثرالنجاسۃ یطھر لعموم البلوی واطلاق مایروی و علیہ مشائخنا رحمھم اﷲ تعالٰی فان اصابہ بول فیبس لم یجز حتی یغسلہ وکذا کل مالاجرم لہ کالخمر[8]۔ (مختصرًا)
جب موزے پر ایسی نجاست لگ جائے جس کا جسم ہو مثلًا لید ، پاخانہ ، خون اور خشك ہوجائے توزمین پررگڑ لیاجائے توجائز ہے اور یہ استحسانًا ہے۔ امام محمد نے فرمایا یہ جائز نہیں قیاس کا تقاضا یہی ہے اور اگرنجاست ترہو تو دوھونے سے پہلے جائزنہیں ۔ امام ابویوسف نے کہاجب زمین پررگڑا حتی کہ نجاست کا اثر باقی نہ رہا تو عمومی ضرورت کے پیش نظر یہ پاك ہوجائے گا اور مروی کا اطلاق یہی ہے اور ہمارے مشائخ رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی اسی پر ہیں اور اگرپیشاب موزے پر لگ گیا اور خشك ہوگیا تو دھوئے بغیر جائزنہیں اور یہی حکم ہر اس نجاست کا ہے جس کا جسم نہیں مثلًا شراب۔ (مختصرًا)(ت)
[1] الہدایہ ، باب الامامۃ ، مطبوعہ المکتبۃ العربیۃ کراچی ، ۱ / ۱۰۱
[2] کافی شرح وافی
[3] الدرالمختار باب الاحق بالامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۳
[4] ردالمحتار ، باب الامامۃ ، مطبوعہ مصطفی البابی مصر۱ / ۴۱۴
[5] فتح المعین حاشیہ علی شرح الکنز باب الامامۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۰۸
[6] طحطاوی علی مراقی الفلاح فصل فی ابیان الاحق بالامامۃ مطبوعہ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۱۶۵
[7] مجمع بحارالانوار ، تحت لفظ نعل ، مطبوعہ منشی نولکشور لکھنؤ ۳ / ۳۷۳
[8] الہدایہ باب الانجاس وتطہیرہا مطبوعہ المکتبۃ العربیۃ کراچی ۱ / ۵۶
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع