دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 7 | فتاوی رضویہ جلد ۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۷

جوازسجدہ کے لئے شرط یہ ہے کہ دونوں قدم زمین سے اُٹھے ہوئے نہ ہوں اگرحالت سجدہ میں اٹھے ہوئے رہے تو سجدہ جائز نہیں ہوگا ، اور اگران میں ایك رکھاہوا تھا تومرتبہ میں ہے کہ سجدہ جائز مگرمکروہ ہوگا ، اگرکسی نے اونچی جگہ نمازپڑھی اور سجدہ کے وقت پاؤں نیچے لڑھکادئیے توجائزنہیں ، اسی طرح چارپائی سے اگرپاؤں نیچے لڑھکادئیے توسجدہ نہ ہوگا۔ (ت)

فتح القدیرمیں ہے :

اما افتراض وضع القدم فلان السجود

قدم کا زمین پرلگنا اس لئے ضروری ہے کہ ان کا

مع رفعہما بالتلاعب اشبہ منہ بالتعظیم ولاجلال ویکفیہ وضع اصبع واحدۃ وفی الوجیز وضع القدمین فرض فان رفع احدٰھما دون الاخری جازویکرہ[1] ۔

اٹھاہوا ہونا تعظیم وعزت کے بجائے مذاق کے زیادہ قریب ہے البتہ ایك انگلی کالگ جانا بھی کافی ہوتاہے وجیز میں ہے کہ دونوں قدموں کالگانا فرض ہے اگر ایك لگارہا اور دوسرا اُٹھ گیاتوجائز مگرمکروہ ہے(ت)

شرح نقایہ قہستانی میں ہے :

الصحیح ان رفع القدمین مفسدکما فی القنیۃ[2]۔

صحیح یہی ہے کہ قدمین کازمین سے اٹھ جانا نماز کو فاسد کردیتاہے جیسا کہ قنیہ میں ہے۔ (ت)

فتح اﷲ المعین میں ہے :

وضع اصبع واحدۃ من القدمین شرط[3]۔

قدمین کی ایك انگلی کالگنا شرط ہے۔ (ت)

اُسی میں ہے :

یفترض وضع واحدۃ من اصابع القدم[4]۔

قدم کی انگلیوں میں سے ایك کالگنا فرض ہے۔ (ت)

اُسی میں زیرقول کنز  وجہ اصابع رجلیہ نحو القبلۃ (پاؤں کی انگلیوں کوقبلہ کی طرف کرکے زمین پرلگایاجائے۔ ت) فرمایا :

خص اصابع الرجلین بالذکر مع ان اصابع الیدین کذلك حتی یکرہ تحویلھا عن القبلۃ انما خصھا وضعھا موجھۃ کما ذکرہ نوح اٰفندی ونصہ

یہاں پاؤں کی انگلیوں کاذکرہوا ہے حالانکہ دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کالگنا بھی اسی طرح ہے حتی کہ ان کاقبلہ سے پھرجانا بھی مکروہ ہے مگرمخصوص کرنے کی وجہ یہ ہے کہ انہیں قبلہ کی طرف متوجہ کرنا فرض ہے جیسا کہ نوح آفندی نے ذکرکیا اور  اس کے الفاظ

قال الزاھدی ووضع رؤس القدمین حالۃ السجود فرض وفی مختصر الکرخی سجد ورفع اصابع رجلیہ عن الارض لایجوز قال وفھم من ھذا ان المراد بوضع الاصابع توجیھھا نحو القبلۃ لیکون الاعتماد علیھا والافھو وضع لظھر القدم وھو غیرمعتبر الخ وکذا الحلبی عن المنیۃ[5] الخ۔

یہ ہیں زاہدی نے کہا حالت سجدہ میں قدمین کی انگلیوں کے سروں کا لگنا فرض ہے ، مختصرکرخی میں ہے کسی نے سجدہ کیا مگرپاؤں کی انگلیان زمین پرنہ لگیں تویہ جائزنہیں ، اور فرمایا اس سے یہ بھی سمجھ آرہاہے کہ انگلیوں کے لگانے سے مراد انہیں قبلہ کی طرف متوجہ کرناہے تاکہ اعتماد ان پرہو ورنہ توپشت قدم پرہوگا جومعتبر نہیں الخ حلبی میں منیہ سے یہی ہے۔ (ت)

نورالایضاح و مراقی الفلاح میں ہے :

من شرط صحۃ السجود وضع شئی من اصابع الرجلین موجھا بباطنہ نحو القبلۃ ولایکفی لصحۃ السجود وضع ظاھر القدم [6] ۔

صحت سجدہ کے لئے پاؤں کی انگلیوں کاقبلہ کی طرف متوجہ ہوکرزمین پرلگنا شرط ہے فقط ظاھر  قدم کازمین پرلگنا کافی نہیں ۔ (ت)

ردالمحتار میں ہے :

  وکذا قال فی الھدایۃ واما وضع القدمین فقد ذکر القدوری انہ فرض فی السجود اھ  فاذا سجد ورفع اصابع رجلیہ لایجوز کذا ذکرہ الکرخی والجصاص ولووضع احداھما جاز قال القاضی خاں و یکرہ قال فی المجتبی قلت ظاھر  مافی مختصر الکرخی والمحیط والقدوری انہ اذ رفع احدٰھما دون الاخری لایجوز وقدرأیت فی             

ہدایہ میں اسی طرح ہے ، رہا قدمین کالگنا تو قدوری نے کہا کہ یہ سجدہ میں فرض ہے پس جب سجدہ کیا مگرپاؤں کی انگلیاں نہ لگیں توسجدہ صحیح نہ ہوگا ، اسی طرح کرخی اور جصاص نے کہا اور اگر ایك انگلی لگ گئی توجائز ہے ، قاضی نے کہا مگرکراہت ہے۔ مجتبٰی میں ہے مختصر ، کرخی ، محیط اور قدوری کاظاہربتارہا ہے کہ جب ایك پاؤں اٹھاہواہو تو یہ جائز نہیں اور میں نے اس کے بعض نسخوں

بعض النسخ فیہ روایتان  اھ  ومشی علی روایۃ الجواز برفع احدٰھما فی التفصیل والخلاصۃ وغیرھما ،  وذھب شیخ الاسلام الی ان وضعھما سنۃ واختار فی العنایۃ ھذہ الروایۃ وقال انھا الحق واقرہ فی الدرر و وجھہ ان السجود لایتوقف تحققہ علی وضع القدمین فیکون افتراض وضعھما زیادۃ علی الکتاب بخبر الواحد لکن ردہ فی شرح المنیۃ وقال ان قولہ ھو الحق بعید عن الحق وبضدہ احق اذلاروایۃ تساعدہ والدرایۃ تنفیہ لان مالایتوصل الی الفرض الابہ فھو فرض و حیث تظافرت الروایات عن ائمتنا بان وضع الیدین والرکبتین سنۃ ولم ترد روایۃ بانہ فرض ،  تعین وضع القدمین او احدٰھما للفرضیۃ ضرورۃ التوصل الی وضع الجبھۃ وھذا لولم ترد بہ عنھم روایۃ کیف و الروایات فیہ متوافرۃ  اھ  ،  ویؤیدہ مافی شرح المجمع لمصنّفہ حیث استدل علی ان وضع الیدین والرکبتین سنۃ بان ماھیۃ السجدۃ حاصلۃ بوضع الوجہ والقدمین علی الارض الخ وکذا مافی الکفایۃ عن الزاھدی من ان ظاھر الروایۃ ماذکر فی مختصرا لکرخی وبہ جزم فی السراج و فی الفیض وبہ یفتی ھذا وقال فی الحلیۃ والاوجہ علی منوال ماسبق ھوالوجوب                 

 



[1]   فتح القدیر باب صفۃ الصلٰوۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۶۵

[2]   جامع الرموز فصل فی فرائض الصلٰوۃ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱ / ۱۴۰

[3]   فتح اﷲ المعین باب صفۃ الصلٰوۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۶۹

[4]   فتح اﷲ المعین باب صفۃ الصلٰوۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۹۱

[5]   فتح اﷲ المعین   باب صفۃ الصلٰوۃ   مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ / ۱۹۲

[6]   مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی باب شروط الصلٰوۃ مطبوعہ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۱۲۷

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن