دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 7 | فتاوی رضویہ جلد ۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۷

ممایستر البدن [1] اھ  اقول :   وفیہ نظر ظاہر فان انکشاف شیء من صدر الرجل و بطنہ لا اساء ۃ فیہ اذا کان عاتقاہ مستورین وانما نھی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عما اذا صلی فی ثوب واحد ولیس علی عاتقہ منہ شیئ[2]  ولاشك ان ارسال اطراف مثل الشایہ من دون ان یزر ازارھا انما یشبہ السدل بنفس ھیأۃ ولامدخل فیہ لوجود القمیص تحتہ وعدمہ لما ان السدل سدل وان کان  فوق القمیص ورأیتنی کتبت علی ھامشہ مانصہ اقول النظر ان کان ففی کراھۃ التحریم اماالتنزیھی فلاشك فی ثبوتہ[3]۔                                                

ہوجوبدن ڈھانپ دےاھ  اقول : (میں کہتاہوں ) اس میں نظر ہے کیونکہ انسان کے سینے اور بطن کے کسی حصے کاظاہرہونا اس میں کوئی برائی نہیں جبکہ اس کے کاندھے مستورہوں اور رسالت مآب   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  نے اس صورت میں ایك کپڑے میں نماز سے منع فرمایا ہے جبکہ اس کے کاندھے پر کوئی شئی نہ ہو اور اس میں کوئی شك نہیں کہ اطراف کاکھلاہونا بٹن باندھنے کے بغیرسدل کے مشابہ ہے اس میں نیچے قمیص اور عدم قمیص کاکوئی دخل نہیں کیونکہ سدل ، سدل ہی ہوتاہے اگرچہ قمیص پر ہو اور مجھے یادآرہاہے کہ میں نے اس کے حاشیہ پرلکھا ہے اقول نظر تب  ہے کہ اگرکراہت تحریمی ہو اور اگرتنزیہی ہو تو اس کے ثبوت میں کوئی شك نہیں ۔ (ت)

ہاں اگرقصدًا ایساکیا یوں کہ نماز کومحل بے پرواہی جانا اور اس کا ادب واجلال ہلکامانا توکراہت و حرمت درکنار معاذاﷲ اسلام ہی نہ رہے گا۔ کماقالوا فی الصلٰوۃ حاسرالرأس اذاکان للاستہانۃ (جیسا کہ علماء نے اس شخص کے بارے میں فرمایا جوسستی وکاہلی کی وجہ سے ننگے سرنمازاداکرتاہے۔ ت) والعیاذباﷲ واﷲ تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۱۰۰۶ : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کسی نے گلوبند سرمیں لپیٹ کرنمازپڑھائی بغیرٹوپی کے ، تویہ نماز مکروہ تحریمی یاتنزیہی ہوئی یانہیں ؟

الجواب :

مخالف سنت ہوا ، حدیث میں ہے :

الفرق بیننا وبین المشرکین العمائم                                               ہمارے اور مشرکین کے درمیان فرق ٹوپیوں پر

علی القلانس[4]۔ و قررالشیخ قدس سرہ فی اللمعات ان تعمیم مشرکی العرب ثابت معلوم فالمعنی انانجعل العمائم علی القلانس وھم یتعممون بدونھا۔

عمامہ باندھنا ہے۔ (ت)اور شیخ قدس سرہ ، نے لمعات میں ثابت کیا ہے کہ مشرکین عرب کاعمامہ باندھنا ثابت ہے ، اب معنی یہ ہوگا کہ ہم ٹوپیوں پرعمامہ باندھتے ہیں اور مشرکین ٹوپیوں کے بغیر۔ (ت)

پھر اگرگلوبندچھوٹا ہو کہ ایك دوپیچ سے زائد نہ کرسکے تویہ سنت عمامہ کابھی ترك ہوگا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۱۰۰۷ :         ازرام پور مرسلہ جناب مولٰنا مولوی شاہ سلامت اﷲ صاحب            ۴محرالحرام ۱۳۲۳ھ

(مع رسالہ نعم الجواب فی مسئلہ المحراب )
خلاصہ سوال

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید امام مسجد کہتاہے کہ محراب ہی کے پاس نمازپڑھنا مسنون ہے باہرمسجد کے مکروہ ہے باوجودیکہ اندرمسجد کے عشاکے وقت سخت گرمی اور لوگوں کوتکلیف ہوتی ہے زید اندرہی محراب کے پاس پڑھتاہے اکثرضعفا کو اس تکلیف وگرمی سے قے بھی ہوجاتی ہے اوربیہوشی ہوتی خوف ہلاکت ہوتاہے لیکن زید نہیں مانتا۔ بیّنواتوجروا۔

الجواب :

تحریرفقیر پرجواب مولوی معزاﷲخاں صاحب وتائید مولٰناشاہ سلامت اﷲ صاحب

جزی اﷲ المجیب خیرا ویثیب وایدی الفاضل المؤید بنصرہ القریب (جواب دینے والے کو اﷲ جزائے خیردے اور اس فاضل کومددقریب سے نوازے۔ ت) فی الواقع زید کاقول محض باطل وجہالت اور اس پرایسااصرار اور اس کے سبب نمازیوں بلکہ خود نمازوجماعت نماز کو اس درجہ اضرار صریح ضلالت ہے ، فقیرنے اپنے فتاوٰی میں اس مسئلہ کی تنقیح تام اور محراب کی حقیقی وصوری اقسام اور حدیثًا وفقہًا اُن کے احکام اور تحقیق مرام وازالہ اوہام بفضلہ تعالٰی بروجہ کافی وشافی ذکرکی یہاں اسی قدر کافی کہ ہندیہ و بزازیہ و خلاصہ و ظہیریہ و خزانۃ المفتین وغیرہاکتب معتمدہ میں ہے :

قوم جلوس فی المسجد الداخل وقوم فی المسجد الخارج اقام المؤذن فقام

کچھ لوگ داخل مسجد اور کچھ خارج مسجدہیں مؤذن نے تکبیر کہی اہل خارج میں سے امام نے جماعت کروائی

امام من اھل الخارج فامھم وقام امام من اھل الداخل فامھم من یسبق بالشروع فھو والمقتدون بہ لاکراھۃ  فی حقہم[5] ۔

اور اسی طرح اہل داخل میں سے ایك نے جماعت کروائی تو جس نے سبقت لی وہ امام ہے اور لوگ اس کے مقتدی ، ان کے حق میں کوئی کراہت نہیں ۔ (ت)

امام ابن امیرالحاج حلبی شرح منیہ میں فرماتے ہیں : المسجد الخارج صحن المسجد[6]  (مسجد خارج سے صحن مسجد مراد ہے۔ ت) دیکھوکیسی تصریح ہے کہ صحن مسجد میں نمازپڑھنی ، جماعت کرنی ، امامت کرنی اصلًا کسی طرح مکروہ نہیں۔

لان السابق بالشروع فی الصورۃ المذکورۃ ان کان امام الخارج وھوالذی ھو و مقتدہ کلھم فی الصحن کان ھو المحکوم لہ بقول الائمۃ ھو و المقتدون بہ لاکراھۃ  فی حقھم ولا ،  ھذہ لنفی الجنس فتفید نفی کل کراھۃ  عنھم وھو المقصود۔  واﷲ تعالٰی اعلم۔      

کیونکہ صورت مذکورہ میں شروع میں سبقت کرنے والا اگرامام خارج ہے تو وہ امام اور اس کے مقتدی تمام صحن میں ہوں گے اور ائمہ کایہ بیان کردہ حکم کہ وہ امام اور لوگ اس کے مقتدی ہوں گے اور ان پرکوئی کراہت نہیں اسی پرلاگو ہوگا اور یہ “ لا “ نفی جنس کے لئے ہے جس سے کراہت کی نفی ہوجاتی ہے اوریہی مقصود ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔ (ت)

مسئلہ ۱۰۰۸ :         ازمارہرہ مطہرہ کمبوہ محلہ مرسلہ چودھری محمدطیب صاحب                               ۴محرم الحرام ۱۳۲۳ھ

جوتیوں سمیت نماز پڑھنا ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا کہاہم سے شعبہ نے کہا ہم کو ابومسلمہ سعیدبن یزید ازدی نے خبردی کہا میں نے انس بن مالك   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے پوچھا کہ آنحضرت   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  جوتیاں پہنے پہنے نماز پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا

 



[1]   ردالمحتار باب مایفسد الصلٰوۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۶۴۰

[2]   صحیح بخاری باب اذا صلی فی ثوب واحد الخ مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی ۱ / ۵۲

[3]   جدالممتار علی ردالمحتار مکروہات الصلٰوۃ المجمع الاسلامی مبارك پور انڈیا ۱ / ۳۰۴

[4]   سنن ابوداؤد باب فی العمائم مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۲۰۸ ، مشکٰوۃ المصابیح کتاب اللباس مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۷۴

[5]   فتاوٰی ہندیہ فصل فی بیان من ھو احق بالامامۃ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۸۴ ، خلاصہ الفتاوٰی الفصل الخامس فی الامامۃ والاقتداء مطبوعہ حبیبیہ کوئٹہ ۱

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن