دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 7 | فتاوی رضویہ جلد ۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۷

وللبخاری عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال سمعت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یقول من صلی فی ثوب واحد فلیخالف بین طرفیہ[1]  شیخ محقق دہلوی قدس سرہ راشعۃ اللمعات می فرماید صورت اشتمال آن ست کہ طرفے راست ازجامہ کہ بردوش راست است گرفتہ بردوش چپ بیندازدوطرف چپ                                           

جائز ہے کیونکہ بخاری ومسلم میں حضرت عمربن ابی سلمۃ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم  اسے مروی ہے کہ میں نے بیت حضرت ام سلمہ میں حضور  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کو ایك کپڑے میں اس طرح نمازپڑھتے ہوئے دیکھا کہ اس کی دونوں اطراف آپ کے کاندھوں پرتھیں ۔ بخاری میں حضرت ابوہریرہ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے ہے کہ میں نے رسالت مآب   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کو یہ فرماتے سنا جوآدمی ایك کپڑے میں نمازاداکرے اسے چاہئے کہ وہ اس کی دونوں اطراف کومخالف سمت میں ڈالے۔ شیخ محقق دہلوی قدس سرہٗ اشعۃ اللمعات میں صورتِ اشتمال بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں  کہ اس کپڑے کی  دائیں طرف جو کپڑا دائیں کاندھے پر ہے  بائیں پر ڈال دے اور بائیں کاندھے

کہ بردوش چپ است اززیردست چپ گرفتہ بردوش راست بیندازوپستر بنددہردوطرف رابرسینہ وغالبًا احتیاج بہ بستن ہردوطرف برسینہ برتقدیریست کہ گوشہائے جامہ دراز نباشد وبیم واشدن بودواگردراز بسیار باشد احتیاج بربستن نباشد چنانکہ ازلباس فقرائے یمن ظاہرمیگرددولہٰذا درعبارت بعض شارحان این قیدواقع شدہ[2]۔  واﷲ تعالٰی اعلم 

کی طرف کوبائیں کے نیچے سے نکال کردائیں کاندھے پرڈال دے اس کے بعد دونوں اطراف کوسینہ پرباندھ لے ، غالبًا دونوں کوسینہ پرباندھنے کی وجہ یہ ہے کہ کپڑے کے کنارے طویل نہ تھے اور اس کے گرجانے کاخطرہ تھا ، اوراگر اطراف لمبے ہوں توباندھنے کی ضرورت نہیں جیسا کہ فقرائے یمین کالباس ہوتاہے ، یہی وجہ ہے کہ بعض شارحین کی عبارت میں اس قید کاذکرنہیں ، واﷲ تعالٰی اعلم(ت)

مسئلہ ۱۰۰۳ :         ازملك بنگالہ ضلع میمن سنگھ مرسلہ عبدالحکیم                    ۲۸ / جمادی الاول ۱۳۲۲ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چبوترہ جوصحن میں ملاصق بیچ کے در میں جوکچھ بلندی ہوتی ہے اس پرنماز جماعت میں امام کاکھڑے ہوکرنماز پڑھناجائز ہے یانہیں اور اس کو اگردورکردیاجائے تونماز جائزہوگی یانہیں ؟

الجواب :

یہ صورت مکروہ ہے ،

لمشابھۃ الیھود فانھم یجعلون لامامہم علی دکان ممتازًا عمن خلفہ والاصح ان لاتقدیر ،  بل کل مایقع بہ الامتیاز یکرہ کمافی الدر[3]۔

یہ یہود کے ساتھ مشابہت ہے کیونکہ امام کے لئے اونچی جگہ بناتے ہیں اور اصح یہ ہے کہ اس کی مقدار کاتعین نہیں بلکہ اتنی اونچائی جس سے امتیاز ہوجائے مکروہ ہے جیسا کہ در میں ہے۔ (ت)

اور اگراسے دُورکردیں توامام اگردرمیں کھڑا ہوتویہ بھی مکروہ ہے

لقول امامنا رضی اﷲ تعالٰی عنہ انی اکرہ للامام ان یقوم بین الساریتین[4]

ہمارے امام  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کاارشاد ہے کہ امام کے دوستونوں کے درمیان کھڑاہونے کو

کما فی المعراج

ناپسند جانتاہوں ، جیسا کہ معراج میں ہے(ت)

اور اگرصحن میں کھڑا ہو کر کرسی کی بلندی پرسجدہ کرے تویہ سخت ترمکروہ ہے یہاں تك کہ وہ بلندی بالشت بھرہوتونمازہی نہ ہوگی کمافی درالمختار وغیرہ(جیسا کہ دُرمختار وغیرہ میں ہے۔ ت) توجب صحن میں صفوں کے لئے زیادہ وسعت چاہیں تو اس کاطریقہ یہ ہے کہ درکی کرسی بقدر سجدہ کھود کرطاق کے مثل بنائیں اوراتنا ٹکڑا صحن سے ہموارکردیں امام صحن میں کھڑا ہوکر اس طاق نماز میں سجدہ کرے اب کوئی کراہت نہیں ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۱۰۰۴ :    ازاترولی ضلع علی گڑھ مدرسہ اسلامیہ مرسلہ حافظ عبدالکریم صاحب مدرس                 ۸ / جمادی الاخری ۱۳۲۲ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ پہلی رکعت میں قل یاپڑھے ، دوسری رکعت میں انا اعطینا پڑھے ترتیب واجب میں فرق آیا اُلٹاقرآن پڑھنے سے۔ بیّنواتوجروا۔

الجواب :

ترتیب اُلٹنے سے نماز کااعادہ واجب ہو نہ سجدہ سہو آئے۔ ہاں یہ فعل ناجائز ہے اگرقصدًا کرے گنہگارہوگا ورنہ نہیں ، اور اگربعد کی سورت پڑھناچاہتاتھا زبان سے اُوپر کی سورت کاکوئی حرف نکل گیا تواب اسی کوپڑھے اگرچہ خلاف ترتیب ہوگا کہ یہ اس نے قصدًا نہ کیا اور اس کا حرف نکل جانے سے اس کاحق ہوگیا کہ اب اسے چھوڑنا قصدًا چھوڑنا ہوگا۔ ردالمحتار میں ہے :

ترتیب السور فی القراءۃ من واجبات التلاوۃ وانما جوز للصغار تسھیلا لضرورۃ التعلیم ط التنکیس اوالفصل بالقصیرۃ انما یکرہ اذا کان عن قصد فلو سھوا فلا ،  شرح المنیۃ ،  واذا انتفت الکراھۃ فاعرضہ عن التی شرع فیھا لاینبغی ،  وفی الخلاصۃ ،  افتتح سورۃ و قصدہ سورۃ اخری فلما قرء اٰیۃ واٰیتین اراد ان یترك تلك السورۃو یفتتح التی ارادھا یکرہ الخ                                                

قرأت میں سورتوں کے درمیان ترتیب رکھنا واجب ہے ، چھوٹے بچوں کے لئے ضرورت تعلیم کے پیش نظر جائز ہے تاکہ آسانی ہو ط ، خلاف ترتیب یاتھوڑا فاصلہ اس وقت مکروہ ہے جب دانستہ ہو اگربھول کر ہوتو مکروہ نہیں شرح المنیہ ، اور جب کراہت ختم ہو تو مشروع سے اعراض مناسب نہیں ، خلاصہ میں ہے کسی ایك نے سورت شروع کی اور دوسری کا ارادہ کیاجب ایك آیت یادو آیات تلاوت کیں تو اس نے چاہا کہ یہ سورت چھوڑدے اور وہ شروع کرے جس کاارادہ تھا تو یہ مکروہ ہے الخ اور فتح میں ہے کہ اگرچہ پڑھاہوا محض ایك حرف ہو الخ

وفی الفتح ولوکان ای المقرؤ حرفا واحدا [5] الخ

فی ردالمحتار انھم قالوا یجب الترتیب فی سورۃ القراٰن فلوقرأمنکوسا اثم لکن لایلزمہ سجود السھو لان ذلك من واجبات القرائۃ لامن واجبات الصلٰوۃ کمافی البحر باب السھو[6] الخ شامی اقول وبہ یظھر مافی افتاء الشیخ الملانظام الدین والد ملك العلماء بحرالعلوم رحمہما اﷲ تعالٰی بایجاب السجود فیہ بناءً علی وجوبہ فانہ خلاف المنقول المنصوص علیہ فی کتب المذھب وقدکان یتوقف فیہ المولی بحرالعلوم قدس سرہ ، ،  واﷲ تعالٰی اعلم۔         

 



[1]   صحیح بخاری باب اذاصلی فی الثوب الواحدالخ  مطبوعہ نورمحمداصح المطابع کراچی ۱ / ۵۲

[2]   اشعۃ اللمعات باب الستر الفصل الاول  مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۴۴

[3]   درمختار باب مایفسد الصلوٰۃ الخ  مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۲

[4]   ردالمحتار مطلب فی کراہۃ قیام الامام فی غیرالمحراب مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۲۰

[5]   ردالمحتار فصل ویجہرالامام قبیل باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۰۴

[6]   ردالمحتار باب صفۃ الصلٰوۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر  ۱ / ۳۳۷

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن