30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
قال وکان الخط الخارج من جبین المصلی یصل علی استقامۃ الی ھذاالخط المار علی الکعبۃ فانہ بھذا الانتقال لاتزول المقابلۃ بالکلیۃ لان وجہ الانسان مقوس فمھما تاخر یمینا اویسارا عن عین الکعبۃ یبقی شیئ من جوانب وجہہ مقابلا لھا اھ [1]۔ اقول: فھم رحمہ اﷲ تعالٰی ان وصول خط الجبھۃ عمود اعلی الخط المعترض المار بالکعبۃ عندالانتقال للیمین والشمال شرط بقاء الجھۃ عندھم وقد افصح عنہ بُعَیدھذاحیث قال، بل المفھوم مماقد مناہ عن المعراج والدررمن التقیید بحصول زاویتین قائمتین عند انتقال المستقبل لعین الکعبۃ یمینا اویسارا انہ لایصح لوکانت احداھما حادۃ والاخری منفرجۃ بھذہ الصورۃ اھ وفیہ[2]:
اوّلًا لیس فی عبارۃ الدرر ذکر الانتقال ھھنا اصلا فضلا عن حصول قائمتین بعد الانتقال وماذکر بعد فی التفریع |
مراد لیا ہے علّامہ شامی نے کہا) کہ نمازی کی جبین سے نکلنے والا خط سیدھا کعبہ پر سے گزرنے والے خط کو ملے گا تو اس صورت میں دائیں اور بائیں انتقال کرنے پر نمازی کا کعبہ سے تقابل کلیۃً زائل نہ ہوگا کیونکہ انسان کا چہرہ کمان کی طرح گول ہے لہذا وہ جتنا بھی عین کعبہ سے دائیں یا بائیں پھرے گا اس کے چہرے کا کچھ نہ کچھ حصہ ضرور کعبہ کے مقابل رہے گا اھ۔ اقول: علّامہ شامی رحمۃ اﷲ علیہ نے یہ سمجھا کہ دائیں یا بائیں منتقل ہوتے وقت نمازی کی پیشانی سے نکلنے والے خط کا عمودی شکل میں کعبہ پر سے گزرنے والے خط سے ملنا کعبہ کی جہت کے بقاء کے لئے ان کے ہاں شرط ہے، اس کے کچھ بعد انھوں نے اس بات کو واضح کرتے ہوئے کہا، بلکہ دُرر اور معراج سے عین کعبہ کا استقبال کرنے والے کا دائیں یا بائیں انتقال کرتے ہوئے دو زاوئے قائمے حاصل ہونے کی جو ہم نے قید ذکر کی ہے اس سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ اگر انتقال کرتے ہوئے دو قائموں کی بجائے ایك زاویہ حادّہ اور دوسرا منفرجہ اس صورت پر حاصل ہوا تو جہت کعبہ کا استقبال صحیح نہ ہو گا اھ۔اس بیان میں چند اشکال ہیں:
اوّلًا : یہ کہ دُرر کی عبارت میں سرے سے انتقال کا ذکر ہی نہیں ہے چہ جائیکہ انتقال کے بعد وہاں دو٢ قائموں کے حصول کا ذکر ہو، اور اس نے بعد میں تفریع |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع