30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فیصدق بما صورناہ اولاوثانیا ، ثم ان اقتصارہ علی بعض عبارۃ المنح ادی الی قصر بیانہ علی المسامتۃ تحقیقا و ھی استقبال العین دون المسامتۃ تقدیرا وھی استقبال الجھۃ مع ان المقصود الثانیۃ فکان علیہ ان یحذف قولہ من تلقاء وجہ مستقبلھا حقیقۃ فی بعض البلاد[1] اھ فھذاکل ما اوردہ وتمام ما ارادوہ۔ اقول: و باﷲ التوفیق شرح نظم الدرھکذا (یفرض من تلقاء وجہ) ای وسط جبھتہ (مستقبلھا حقیقۃ) بحیث لورفعت الحجب لرئیت الکعبۃ بین عینیہ (فی بعض البلاد) ای ای بلد یراد (خط) مستقیم قائم (علی) الخط المار بجبھۃ معترضا من وسطہ الی یمینہ او شمالہ بحیث یحدث معہ (زاویۃ قائمۃ) عند الجبھۃ ولم یقل قائمتین لا نہ لا یجب فرض المعترض مارا الی الجھتین بل یکفی ادنی خط الی ایۃ جہۃ منھما۔ |
تو اس سے ہماری پہلی اور دوسری دونوں تصویریں (ان کی تصدیق ہوگی) درست ہوں گی، پھر علامہ کامنح کی کچھ عبارت پر انحصار کرنا، حقیقی سمت پر انحصار کو ظاہر کرتا ہے اور وُہ عین کعبہ کی طرف استقبال ہے نہ کہ فرضی سمت پر انحصار کیونکہ وہ جہت قبلہ کی طرف استقبال ہے حالانکہ سمت فرضی یعنی کعبہ کی جہت کی سمت استقبال کرنا ہی مقصود ہے اس لئے ان کو عبارت سے"بعض بلاد میں حقیقی طور پر کعبہ کو پیشانی کرنے"کو حذف کرنا ضروری تھا اھ، یہ علّامہ شامی کی مکمل عبارت ہے اور یہی ان کی مراد ہے۔ اقو ل: اﷲ کی توفیق سے ، دُرمختار کی عبارت کی شرح یوں ہے (وجہ کی طرف سے) وجہ سے مراد وسطِ پیشانی ہے (حقیقۃً کعبہ کا استقبال کرنے والے) مراد یہ ہے کہ اس طرح سیدھا استقبال ہو کہ اگر درمیان سے پردے اُٹھا دئے جائیں تو کعبہ دونوں آنکھوں کے درمیان نظر آئے ،(بعض بلاد میں) سے مراد کوئی بھی علاقہ ہو (خط فرض کیا جائے) سے مراد سیدھا خط قائم کیا جائے، ایك دوسرے خط پر جو استقبال کرنے والے کی پیشانی پر عرضی (چوڑائی) طور پر اس کے درمیان سے دائیں اور بائیں پھیلا ہوا ہو ، ایك خط دوسرے سے اس طرح ملے کہ اس سے وسطِ پیشانی پر زاویہ قائمہ پیدا ہو، یہاں ایك زاویہ قائمہ کو ذکر کیا ہے کیونکہ پیشانی پر خط کا دونوں طر ف پھیلنا ضروری نہیں بلکہ خط ان سے کسی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع