30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
المرام وینجلی بدر السداد من تحت الغمام فاعلم ان الجھبذ المدقق الذی قلما اکتحل عین الزمان بمثلہ فی الاخرین اعنی العلامۃ علاء الدین محمد الحصکفی عاملہ اﷲ تعالٰی بلطفہ الوفی اثر ھھنا عن المنح کلاما قصرمبناہ واستترمعناہ فقال اصابۃ جھتھا بان یبقی شیئ من سطح الوجہ مسامتا للکعبۃ اولھواء ھابان یفرض من تلقاء وجہ مستقبلھا حقیقۃ فی بعض البلاد خط علی الکعبۃ وخط اٰخر یقطعہ علی زاویتین قائمتین یمنۃ و یسرۃ منح قلت فھذا معنی التیامن والتیا سر فی عبارۃ الدرر فتبصر [1]اھ اقول: اراد العلامۃ الغزی من تلقاء وجہ مستقبلھا حقیقۃ فی ای بلدکان فعبر ھذا التنکیر بتنکیر بعض ولوقال کقول المعراج فی ھذا البلد ای البلد والمطلوب الجھۃ لکان اولی ، قال العلامۃ السید احمد المصری الطحطاوی فی حاشیتہ قولہ |
ہو سکے اور بادل کے نیچے سے درستگی کا روشن چاند نمودار ہوسکے ۔ واضح ہو کہ وہ ماہر ، مدقق جن کی مثل متاخرین میں زمانے نے نہ پائی، میری مراد علامہ علاء الدین محمد حصکفی ہیں ،اُن سے اﷲ تعالٰی اپنے کامل لطف و کرم کا معاملہ فرمائے، نے یہاں پر منح سے ایك ایسی کلام نقل کی جو مختصر ہے اور اسکا معنی مخفی ہے ۔پس کہا کہ جہتِ کعبہ کو پانے کا مطلب یہ ہے کہ نمازی کے چہرے کی سطح کا کوئی حصہ کعبہ یا اسکی فضاء کی سمت میں اس طرح ہو جائے کہ کعبہ کا حقیقی استقبال کرنے والے کے چہرہ سے ایك سیدھا خط زاویہ قائمہ پر افق کی طرف اس طرح نکلے کہ بعض بلاد میں وہ کعبہ پر سے گزرے اور ایك دوسرا خط اس طرح فرض کیا جائے جو پہلے خط کو قطع کرتے ہوئے دو زاویے قائمے دائیں اور بائیں طرف بنائے ،منح۔ میں کہتا ہوں کہ دُرر میں مذکور الیتامن والتیاسر کا یہی معنی ہے غور کر،اھ اقول: (میں کہتا ہوں) علّامہ غزی (اپنی عبارت)"من تلقاء وجہ مستقبلھا حقیقۃ فی بعض البلاد"میں "بعض البلاد"سے کوئی بھی بلد ہو ، مراد لیا ہے اوراس تنکیر کو لفظ"بعض کی تنکیر"سے تعبیر کیا ہے ، اور اگر معراج کے قول کی طرح یہ بھی"ھذا البلاد"کہہ کر وہ علاقہ مرادلیتے جس کی جہت مطلوب ہوتی تو بہتر ہوتا۔علّامہ سید احمد مصری الطحطاوی نے (علّامہ الحصکفی کی عبارت کی)تشریح کرتے ہوئے کہا کہ اس کا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع