30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فتاوٰی رضویہ کی علمی قدر و قیمت
پروفیسر ڈاکٹر ظہور احمد اظہر چیئرمین شعبہ عربی پنجاب یونیورسٹی
اسلام میں فتوی نویسی ایک دینی فریضہ بھی ہے اور ایک مہتم بالشان فن بھی، لیکن یہ فریضہ جتنا نازک اور اہم ہے یہ فن اسی قدر مشکل اور پیچیدہ ہے۔ کتاب اﷲ میں اِفتاء کے منصب کی نسبت اﷲ رب العزت سے بیان ہوئی ہے (قُلِ اللہُ یُفْتِیۡکُمْ) یہ بات بھی اہل علم سے پوشیدہ نہیں کہ فتوٰی، اِفتاء اور مفتی کے الفاظ زبان نبوت پربھی جاری ہوئے، اسی طرح عہدنبوی کے ساتھ ساتھ خلفائے راشدین کے عہدمبارک میں عطائے فتوی یاافتاء کامنصب بہت اہم اور اونچا منصب تھا تاریخ اسلام کے مختلف ادوار میں فتو ی نویسی یا افتاء اور مفتی کا منصب ہمیشہ نہایت اہم اور بلند متصورہوتارہا ہے لیکن یہ سب باتیں ایک اہم موضوع اور دلچسپ مطالعہ سہی مگران سب باتوں کی تفصیل کایہ موقع نہیں، تاہم اس بات کی طرف ایک مختصراشارہ کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہوگا کہ گزشتہ بارہ تیرہ صدیوں کے دوران میں برعظیم پاک وہندوستان کے علمائے کرام نے فتوی نویسی کے میدان میں جو عظیم خدمات انجام دی ہیں اور منصب افتاء نے ملت اسلامیہ کوجو رہنمائی مہیاکی ہے وہ جہاں قابل قدر ہے وہاں باعث فخر بھی ہے۔
برعظیم پاک وہند ان اسلامی خطوں میں شامل رہاہے جہاں امام اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابت رحمہ اﷲ تعالٰی کی فقہ کادوردورہ رہا، یہاں کے علمائے حنفیہ نے فقہ اسلامی کی عظیم الشان خدمت انجام دی ہے۔ سیرت نبوی کی طرح علوم شریعت بھی اس خطے کے اہل علم کے نزدیک ایک مہتم بالشان اور نہایت مرغوب موضوع رہاہے۔ یہاں کے علماء نے علوم فقہیہ یعنی فقہ، اصول فقہ اور فتاوٰی نویسی کے علاوہ شرعی علوم کے دیگربے شمار پہلوؤں کو اپنے مطالعہ و توجہ کامرکز بنائے رکھا۔ عربی، فارسی، اردو اور دیگر علاقائی زبانوں میں شرعی علوم کااتناوسیع ذخیرہ تیارکیاہے جو ملت کانہایت قیمتی سرمایہ ہے اور اس کااحاطہ کرنا کسی مورخ کے لئے آسان نہیں ہوگا۔ برعظیم پاک وہند کے اکابراحناف کے اس عظیم القدرعلمی وفقہی سرمایہ فخرمیں امام اہلسنت حضرت مولانا احمدرضاخان فاضل بریلوی رحمہ اﷲ تعالٰی کے فتاوٰی العطایاالنبویۃ فی الفتاوٰی الرضویۃ جو فتاوٰی رضویہ کے نام سے مشہور اور متداول ہیں بلاشبہ ایک منفرد اور قیمتی سرمایہ ہے۔
برعظیم جنوبی ایشیا یاپاک وہند کے علمائے اسلام نے فقہ اسلامی کے فتاوٰی کاجوعظیم القدر ذخیرہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع