30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فیخرجان الی العینین کساقی مثلث کذا قال النحریر التفتازانی فی شرح الکشاف١[1]۔ |
دونوں آنکھوں پر گزریں جیسے مثلث کی دو٢ ساقیں ہوتی ہیں اسی طرح علّامہ تفتازانی نے شرح کشاف میں بیان کیاہے۔(ت) |
شرح نقایہ علامہ برجندی میں ہے:
|
معنی التوجہ الی جھۃ الکعبۃ ھوان تقع الکعبۃ بین خطین یخرجان من العینین و یلتقی طرفاھما داخل الرأس بین العینین ویلتقی طرفاھما داخل الرأس بین العینین علی زاویۃ قائمۃ کذاذکرہ الامام الغزالی فی الاحیاء ثم قال البرجندی فعلی ھذا لو وصل الخط الخارج من العینین الی جدار الکعبۃ یقع علی حادۃ او منفرجۃ لم یکن مقابلا للکعبۃ وھو لا یخلو عن بعد٢[2]اھ۔اقول: ھذا عجیب من مثل ذلك الجھبذ المبرز فی الفنون الھندسیہ۔فاوّلًا: انما قال الامام ان تقع الکعبۃ بین الخطین لا ان یصل شیئ منھما الی جدار الکعبۃ۔وثانیًا انما قال یلتقیان بین العینین علی قائمۃ لا علی ان یتصل احدھما بالکعبۃ فیحدث ھنالك قائمتین ولذلك افرد |
جہت کعبہ کی طرف توجہ (منہ) کرنے کا معنٰی یہ ہے کہ کعبہ ایسے دو خطوں کے درمیان واقع ہو جو دونوں آنکھوں سے نکلیں اور جہاں ان کی دونوں طرفیں وسط راس میں دونوں آنکھوں کے درمیان زاویۃ قائمہ پر ملاقی ہوں۔امام غزالی نے احیاء العلوم میں اسے اسی طرح ذکر کیا پھر علامہ برجندی نے کہا اس بنا پر اگر آنکھوں سے نکلنے والا خط کعبہ کی دیوار کی جانب ملے گا تو زاویہ حادہ یا زاویہ منفرجہ پر واقع ہوگاتو یہ کعبہ کے مقابل نہ ہوگا اور وہ بعد سے خالی نہیں اھ اقول: (میں کہتا ہوں) فنون ہندسہ کے ایسے عظیم اور ماہر شخص سے ایسا قول بڑا تعجب خیز ہے۔فاوّلًا: اس لئے کہ امام غزالی نے صرف یہ کہا کہ کعبہ دوخطوں کے درمیان واقع ہو، یہ نہیں کہاکہ آنکھوں سے نکلنے والاخط دیوارِ کعبہ سے متصل ہو۔ثا نیًا اس لئے کہ انہوں نے یہ کہا کہ دونوں خطوں کا اتصال دونوں آنکھوں کے درمیان زاویہ قائمہ پر ہو، یہ نہیں کہا کہ ان میں سے ایك کا اتصال کعبہ کے ساتھ ہوپھر وہاں سے دو زاویے قائمے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع