30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عرض الح ہاتك ایك ایك دقیقے کے فاصلے سے ایك جدول دی ہے کہ اتنے عرض پر جب اتنا طول ہو تو قبلہ ٹھیك مغرب اعتدال کی طرف ہو گا اس کے ملاحظہ سے واضح ہوسکتا ہے کہ ہندوستان میں کتنے شہروں کا تحقیقی قبلہ اس حکم مشہور کے مطابق ہے یا اینہمہ عام عملدرآمد اُسی حکم واحد پر ہے اور کچھ مضر نہیں کہ حدود شرع سے باہر نہیں ،بالجملہ یہ ناواقف لوگ اگر سمت حقیقی چاہتے ہیں تو محاذات قطب چاہنا باطل اور جہت پر قانع ہیں تو جہت اب بھی حاصل،بہرحال مسجد شہید کرنے کی فرضیت باطل ، اُس میں نماز کی تحریمی کراہت باطل ۔ غرض اُس بے معنی فتوے کی جہالت کہاں تك گنئے ہم اصل حکمِ شرع بتوفیق اﷲ تعالٰی واضح کریں کہ عید گاہ مذکورضرور حدودِ شرعیہ کے اندر ہے اس کا بیان چند افادوں پر موقوف ، فاقول وماتوفیقی الّا باﷲ علیہ توکّلت والیہ انیب(میں اﷲ تعالٰی کی توفیق سے کہتا ہوں اسی پر بھروسہ اور اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ت)
افادہ اولٰی: جہت قبلہ کی حد کیا ہے کہ جب اس سے باہر ہو جہت سے باہر ہو ، اس بارے میں عباراتِ علماء متعدد وجوہ پر پائی گئیں:
اوّل جب مشارق مغارب نہ بدلیں جہت نہ بدلے گی۔ فتح القدیر و بحرالرائق وخیریہ و طحطاوی و ردالمحتار وغیرہا کُتب کثیرہ میں یہاں اور نیز مسئلہ اقتداء بالشافعی میں ہے:
|
الانحراف المفسدان یجاوز المشارق الی المغارب ١[1] وفی الخیریۃ بعد ما قدمنا عنہ فی الایرادالسابع وعند تحققنا بالخطاء زال الغطاء وھو فی اختلاف الجھۃ بحیث یکون متجاوز المشارق الی المغارب٢[2]۔ |
مفسد نماز وُہ انحراف جومشارق سے مغارب کی طرف متجاوز ہو اور فتاوٰی خیریہ میں اس کی گفتگو کے بعد جو پہلے ایرادسابع میں بیان کرچکے ) ہے ۔ جب ہمیں خطاء کا تحقیقی ثبوت مل گیا تو پردہ اُٹھ گیا یعنی کوئی اشکال نہ رہا ، وہ یہ ہے کہ جہت قبلہ مختلف ہوجاتی ہے جب مشارق و مغارب سے متجاوز ہوں (یعنی مشارق مغارب بدل جائیں) ۔(ت) |
اور اسکی تائید اُس حدیث سے کی گئی کہ ترمذی و ابن ماجہ و حاکم نے ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت کی کہ ترمذی نے کہا حسن صحیح ہے حاکم نے کہا برشرط بخاری و مسلم صحیح ہے کہ رسول اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :ما بین المشرق والمغرب قبلۃ [3] مشرق و مغرب کے درمیان قبلہ ہے ۔امام ملك مؤطا اور ابو بکر ابن ابی شیبہ اور عبدالرزاق مصنفات
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع