30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ان کی ہیأت دانی اس اعتراض ہی سے پیدا ہے کہ قطب شمالی شانہ راست سے جانب پشت مائل ہونے کو دلیل انحراف بتایا اور دیوار توڑ کر ٹھیك محاذاتِ قطب میں بنانا چاہتے ہیں ، علم ہیأت مین ادراك سمت قبلہ کےلئے دوطریقے ہیں: ایك تقریبی کہ عامہ کتب متداولہ میں مذکور ، دوسرا تحقیقی کہ زیجات میں مسطور۔ یہاں سے واضح کہ یہ حضرات اُن دونوں سے محجور ، اگر وُہ طریقہ تقریبی جانتے اُن پر معترض نہ ہوتے کہ اُس کی رو سے سمت قبلہ علی گڑھ نکالیں تو ضرور قطبِ شمالی شانہ راست سے جانبِ پشت ہی پھرا رہے گا کہ اس طریقہ پر علی گڑھ کا خط قبلہ نقطہ مغرب سے ساڑھے دس درجے جانبِ جنوب جھُکا ہُوا ہے۔ ظاہر ہے کہ نقطہ مغرب کی طرف منہ کرتے تو قطب محاذات شانہ پر رہتا اب کہ مغرب سے دس درجے جنوب کو پھرے ، قطب ضرور جانبِ پشت میلان کرے گا ، اور اگر طریقہ تحقیقی سے آگاہ ہوتے ہر گز دیوار جدید محاذی قطب بنانی نہ چاہتے کہ طریق تحقیقی میں بھی خط قبلہ علی گڑھ نقطہ مغرب سے جنوب ہی کو مائل ہے اگرچہ نہ اُتنا کہ ہم دونوں طریق تقریب و تحقیق ان شاء ا ﷲ آخر کلام میں ذکر کریں گے۔
ثامنا: محاذات قطب چاہنا بھی ان صاحبوں کے خیال میں علمائے اسلام رحھم اﷲ تعالٰی کا صدقہ ہے جن کا منشا اگران کے خیال میں ہوتا ،مسجد کا ڈھانا فرض نہ کرتے ،زمانہ اقدس صحابہ کرام بلکہ حضو پُر نور سید الانام صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے غیر مکّی کیلئے جہتِ کعبہ قبلہ قرار پائی ہے اصابت عین کی ہر گز تکلیف نہیں و لہذا صحابہ وتابعین رضی اﷲ تعالٰی عنھم نے بلادِ متقاربہ بلکہ ملك بھر کیلئے ایك ہی قبلہ قرار دیا، ملك عراق کے واسطے باتباع ارشادِ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم و فرمانِ فاروقِ اعظم رضی اﷲ عنہ صحابہ نے بین المشرق والمغرب قبلہ مقرر فرمایا، ائمہ کرام نے بخارا، سمرقند ،نسف،ترمذ ، بلخ ، مرو ، سرخس وغیرہا کا قبلہ مسقط راس العقرب بنایا، بیت المقدس ،حلب، دمشق، رملّہ، نابلس وغیرہا تمام ملك شام کا قبلہ ستارہ قطب کو پس پشت لینا ٹھرایا۔ کوفہ ،بغداد، ہمدان ، قزوین، طبرستان ، جرجان وغیرہا میں نہر شاش تك قطب کو داہنے کان کے پیچھے ہلکہ عراق میں سیدھے (دائیں) شانے ،ملك مصر میں بائیں کندھے ، ملك یمن میں منہ کے سامنے بائیں کو ہٹا ہُوا فرمایا۔ امام فقیہ ابو جعفر ہندوانی نے بغداد مقدس و بخارا شریف کا قبلہ ایك بتایا۔ علماء نے خراسان و سمر قند وغیرہا بلادِ مشرقیہ کےلئے جن میں ہندوستان بھی داخل بین المغربین قبلہ ٹھہرایا۔ امام اجل فقیہ النفس قاضی خا ن رحمہ اﷲ تعالٰی نے مشائخ کرام رحم اﷲ تعالٰی سے دربارہ قبلہ چھ ٦ قول نقل فرمائے : بنات النعش١صغری کو جس کی نعش کا سب سے روشن ستارہ قطب ہے دہنے کان پر لےکر قدرے بائیں کو پھرنا۔۲ستارہ قطب کو سیدھے (دائیں ) کان کے پیچھے لینا،۳مسقط راس العقرب کی طرف مُنہ کرنا آفتاب ۴جب برج جوزا میں ہو آخر وقت ظہر میں اسکی سمت دیکھ کر ملحوظ رکھنا ،مسقط دو۵نسر طائر و واقع کے درمیان بین ۶المغربین کے فاصلے سے دو ثلث دہنے ایك بائیں کو رکھنا۔ اور فرمایا کہ یہ سب ا قوال باہم قریب ہیں ان تمام احکام کا مبنٰی وہی ہے کہ اعتبارِجہت میں بڑی وسعت ہے فلسفی بیچارا،آلات کا پٹارا،خیالات کا پشتارا کھول کر بیٹھے تو ہرگز
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع