30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اعتقادہ انہ کافر یکفر کذا فی الذخیرۃ [1] انتھی زادالشامی عن النھر عن الذخیرۃ لانہ لما اعتقد المسلم کافرا فقد اعتقد دین الاسلام کفرا[2]۔ |
الذخیرۃ انتہی، شامی نے نہر کے حوالے سے ذخیرہ سے یہ اضافہ نقل کیا ہے کیونکہ وہ ایك مسلمان کوکافرمان رہاہے گویااس نے دین اسلام کوکفرگردانا ہے۔(ت) |
درمختار میں ہے :
|
عزرالشاتم بیاکافر وھل یکفر ان اعتقد المسلم کافرا نعم والالابہ یفتی[3]۔ |
"یا کافر"کے ساتھ گالی دینے والے پرتعزیرنافذ کی جائے گی، کیاوہ شخص کافرہوگا جومسلمان کو کافرگردانتاہے؟ ہاں وہ کافرہوگا اوراگرکافرنہیں گردانتا تو کافرنہیں، اسی پرفتوی ہے(ت) |
علامہ ابراہیم اخلاطی نے فرمایا:
|
المختار للفتوی فی جنس ھذہ المسائل ان القائل اذا اراد بہ الشتم لایکفرو اذا اعتقد کفرالمخاطب یکفر لانہ لما اعتقد المسلم کافرا فقد اعتقد ان دین الاسلام کفرومن اعتقد ھذا فھو کافر[4]۔ |
ان مسائل میں مختار اورمفتی بہ یہ ہے کہ اگر قائل نے اس سے گالی مراد لی توکافرنہیں ہوگا اور جب مخاطب کو کافرجانے گا تو کافر ہوجائے گاکیونکہ جب اس نے ایك مسلمان کوکافرجانا توگویا اس نے دین اسلام کوکفرجانا اور جوایسی بات کااعتقاد رکھے وہ کافر ہوتا ہے۔(ت) |
علامہ عبدالعلی نے شرح مختصر الوقایہ میں فرمایا:
|
قداختلف فی کفر من ینسب مسلما الٰی الکفر ففی الفصول العمادیۃ اذا قال لغیرہ یاکافر کان الفقیہ ابوبکر الاعمش یقول یکفر القائل وقال غیرہ لایکفر |
اس شخص کے کفرکے بارے میں اختلاف ہے جس نے کسی مسلمان کی کفرکی طرف نسبت کی، فصول عمادیہ میں ہے جب کسی نے غیرکو"یا کافر"کہاتو فقیہ ابوبکر اعمش ایسے شخص کوکافر جانتے لیکن دیگر علماء کافر نہیں جانتے، |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع