30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اورمذہب صحیح ومعتمد ومرجح
فقہائے کرام میں تفصیل ہے کہ اگربطورسب ودشنام بے اعتقاد تکفیرکہا تو کافر نہ
ہوگاجیسے بیباکوں بے قیدوں کوخربے لجام وسگ بے زنجیر کہیں کہ معنی حقیقی مرادنہیں
ورنہ کافرہوجائے گا۔ فتاوٰی ذخیرہ و فصول عمادی و شرح درر و غرر و شرح نقایہ برجندی
و شرح نقایہ قہستانی و نہرالفائق و شرح وہبانیہ علامہ عبدالبر و درمختار و حدیقہ
ندیہ و جواہر اخلاطی و فتاوٰی عالمگیری و ردالمحتار وغیرہا کتب معتمدہ میں تصریح
فرمائی کہ یہی مذہب مختار ومختار للفتوی ومفتی بہ ہے۔ علمافرماتے ہیں جب اس نے
اپنے اعتقاد میں اسے کافرسمجھا اور وہ کافر نہیں بلکہ مسلمان ہے تو اس نے دین
اسلام کوکفرٹھہرایا اور جوایساکہے وہ کافرہے۔
اقول: وباﷲ التوفیق اس دلیل کی علی حسب مرامھم (ان کے مقاصد کے مطابق۔ت) یہ ہے کہ کافرنہیں
مگروہ جس کادین کفرہے اور کوئی آدمی دین سے خالی نہیں، نہ ایك شخص کے ایك وقت میں
دو دین ہوسکیں۔
|
فان الکفر والاسلام علی طرفی النقیض بالنسبۃ الی الانسان لایجتعمان ابدا ولایرتفعان قال تعالٰی اِمَّا شَاکِرًا وَّ اِمَّا کَفُوۡرًا ﴿۳﴾ [1] وقال تعالٰی مَا جَعَلَ اللہُ لِرَجُلٍ مِّنۡ قَلْبَیۡنِ فِیۡ جَوْفِہٖ ۚ[2]۔ |
کیونکہ کفراور اسلام ایك انسان کی بنسبت نقیض کی دوطرفوں پر ہیں، نہ تویہ ہمیشہ جمع ہوسکتے ہیں اور نہ ہی مرتفع۔ اﷲ تعالٰی کا ارشادگرامی ہے: یاوہ شاکرہوگا یاکافر۔ دوسرے مقام پرفرمایا: اور ہم نے ایك آدمی کے سینے میں دو دل نہیں بنائے۔(ت) |
اب جویہ شخص مثلًازید مؤمن کوکافرکہتاہے اس کے یہ معنی کہ اس کادین کفرہے اور زید واقع میں بیشك ایك دین سے متصف ہے جس کے ساتھ دوسرادین ہونہیں سکتا تولاجرم یہ خاص اسی دین کوکفربتارہا ہے جس سے زید اتصاف رکھتا ہے اور وہ دین نہیں مگراسلام توبالضرورۃ اس نے دین اسلام کوکفرٹھہرایا اور جودین اسلام کو کفرقراردے قطعًا کافر۔ اب عبارات علماء سنئے، ہندیہ میں ہے:
|
المختار للفتوی فی جنس ھذہ المسائل ان القائل بمثل ھذہ المقالات ان کان اراد الشتم ولایعتقدہ کافر ا لایکفرو ان کان یعتقدہ کافرًا فخاطبہ بھذا بناءً علی |
اس قسم کے مسائل میں فتوٰی کے لئے مختاریہ ہے کہ ان اقوال کاقائل اگرمراد گالی لیتا ہے اور اسے اعتقادًا کافرنہیں گردانتا تو وہ کافرنہیں اور اگراسے اعتقادًا کافرگردانتے ہوئے اسے کافرکہتاہے توپھریہ کفرہوگا کذافی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع