30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
المرء یقیس علی نفسہ (انسان دوسرے کواپنے اوپرقیاس کرتاہے۔ت) جب اس نے اسے کافریامشرك یافاسق کہا اور وہ ان عیوب سے پاك تھا توحقیقۃً یہ اوصاف ذمیمہ اسی کہنے والے میں تھے جن کاعکس اس آئینہ الٰہی میں نظرآیا اور یہ اپنی سفاہت سے اس کریہ بدنما شکل کو آئینہ تاباں کی صورت سمجھاحالانکہ دامن آئینہ اس لوث وغبار سے صاف ومنزہ ہے۔ یہ تو حدیث تھی جوبحکم یقولون من خیر قول البریۃ (وہ ساری مخلوق سے بہترکاقول کہتے ہیں۔ت) ان کا زبانی وظیفہ ہے اور دل کاوہی حال جوحدیث میں ارشاد فرمایا: لایجاوز تراقیھم (ان کے حلق سے (اسلام) تجاوزنہیں کرے گا۔ت)
اب فقہ کی طرف چلئے بہت اکابر ائمہ مثل امام ابوبکراعمش وغیرہ عامہ علمائے بلخ و بعض ائمہ بخارا رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہم احادیث مذکورہ پرنظرفرماکر اس حکم کویوں ہی مطلق رکھتے اور مسلمان کی تکفیر کو علی الاطلاق موجب کفرجانتے ہیں۔سیّدی اسمٰعیل نابلسی شرح درر وغرر مولٰی خسرو میں فرماتے ہیں:
|
لوقال للمسلم کافر کان الفقیہ ابوبکر الاعمش یقول کفر وقال غیرہ من مشایخ بلخ لایکفر واتفقت ھذہ المسئلۃ ببخارا فاجاب بعض ائمۃ بخارا انہ یکفر فرجع الجواب الی بلخ انہ یکفر فمن افتی بخلاف قول الفقیہ ابی بکر رجع الٰی قولہ [1] الخ ملخصا |
اگرکسی نے مسلمان کوکافرکہا توفقیہ ابوبکر اعمش اسے کافر قراردیتے، اور مشائخ بلخ میں سے دوسرے علماء کافرنہیں کہتے۔ اتفاقًا یہ مسئلہ بخارا میں پیش آیا اور بعض ائمہ بخارا نے ایسے شخص کوکافر قراردیا تویہ جواب واپس بلخ گیا (یعنی کافرکہاجائے گا) تو جس جس فقیہ نے ابوبکراعمش کے خلاف فتوی دیاتھا انہوں نے ان کے قول کی طرف رجوع کرلیااھ ملخصا(ت) |
رسالہ علامہ بدررشید پھر شرح فقہ اکبر ملاعلی قاری میں ہے:
|
فرجع الکل الٰی فتاوٰی ابی بکر البلخی وقالوا کفر الشاتم[2]۔ |
تمام علماء نے ابوبکر بلخی کے اس فتوٰی کی طرف رجوع کرتے ہوئے اس طرح گالی دینے والے کو کافرقراردیا۔(ت) |
احکام میں بعد عبارت مذکورہ کے ہے :
|
وینبغی ان لایکفر علی قول ابی اللیث وبعض ائمۃ بخارا[3]۔ |
ابواللیث اور بعض ائمہ بخارا کے قول پرمناسب یہ ہے کہ کافرنہ کہاجائے۔(ت) |
[1] حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ النوع الرابع من الانواع الستین الکذب مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲/ ۲۱۲
[2] شرح فقہ اکبر لملاعلی قاری فصل فی الکفر صریحا وکنایۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ص ۱۸۱
[3] حدیقہ ندیہ شرح طریہ محمدیہ النوع الرابع من الانواع الستین الکذب مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲/ ۲۱۲
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع