30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس قدرنوپیدا ہوکہ آخرجمتے جمتے ایك زمانہ چاہئے۔ میں یہاں اصل نزاع کی بحث وتحقیق میں نہیں، ان کے اقتدا کاحکم واضح کرناہے لہٰذا اس کی طرف رجوع مناسب۔
بالجملہ اصلا محل شبہ نہیں ان صاحبوں نے تقلید کوشرك وکفر اورمقلدین کوکافر ومشرك کہہ کرلاکھوں کروڑوں علماء واولیاء وصلحاء واصفیابلکہ امت مرحومہ محمدیہ علٰی مولٰیہا وعلیہ الصلوٰۃ والتحیۃ کے دس حصوں سے نو۹ کو علی الاعلان کافرومشرك ٹھہرایا، وہی علامہ شامی قدس سرہ السامی کا ان کے اکا بر کی نسبت ارشادکہ اپنے طائفہ تالفہ کے سواتمام عالم کومشرك کہتے اور جوشخص ایك مسلمان کوبھی کافر کہے ظواہرحدیث صحیحہ کی بناپر وہ خود کافرہے اور طرفہ یہ کہ اس فرقہ ظاہریہ کوظاہراحادیث ہی پرعمل کابڑا دعوٰی ہے امام مالك واحمد وبخاری ومسلم وابوداؤد وترمذی حضرت عبداﷲ بن عمررضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی واللفظ لمسلم (الفاظ مسلم شریف کے ہیں۔ت) حضوراقدس سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
ایما امرئ قال لاخیہ کافر فقدباء بھا احدھما ان کان کما قال والارجعت علیہ[1]۔ |
یعنی جو شخص کلمہ گوکوکافرکہے تواُن دونوں میں ایك پریہ بلاضرور پڑے گی اگرجسے کہا وہ حقیقۃً کافرتھا جب توخیر ورنہ یہ کلمہ اسی کہنے والے پر پلٹے گا۔ |
صحیح بخاری میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
اذا قال الرجل لاخیہ یاکافر فقد باء بہ احدھما [2]۔ |
جب کوئی شخص اپنے بھائی مسلمان کو"یا کافر"کہے تو اُن دونوں میں ایك کارجوع اس طرف بیشك ہو۔ |
امام احمد وبخاری ومسلم حضرت ابوذر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
لیس من دعا رجلا بالکفر اوقال عدواﷲ ولیس کذلك الاحار علیہ[3] ولایرمی رجل رجلا بالفسق ولایرمیہ بالکفرالا |
جوشخص کسی کوکافر یادشمن خداکہے اوروہ ایسانہ ہو یہ کہنا اسی پرپلٹ آئے اور کوئی شخص کسی کو فسق یاکفر کاطعن نہ کرے گا مگریہ کہ وہ اسی پرالٹا پھرے گا اگرجس پر |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع