30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الزیلعی لا یجوز التحری مع المحاریب[1]۔ |
امام زیلعی نے فرمایا محاریب کے ہوتے ہوئے اجتہاد اور غوروفکر کی ضرورت نہیں۔(ت) |
اُسی میں ہے:
|
الکلام فی تحقق ذلك (یعنی الانحراف الکثیر) ولایقع علی وجہ الیقین مع البعد باخبار المیقاتی کما لا یخفی عندالفقہاء[2]۔ |
لیکن کلام انحراف کثیر کی تحقیق کے بارے میں ہے اور یہ بات بُعد کی صورت میں ماہر فلکیات کی رائے سے یقینی طور پرحاصل نہیں ہوسکتی جیسا کہ فقہاء پر مخفی نہیں۔(ت) |
حلیہ میں ہے:
|
المحراب فی حق المصلی قد صارکعین الکعبۃ ولھذالا یجوز للشخص ان یجتہد فی المحاریب فایاك ان تنظر الی ما یقال ان قبلۃ اموی دمشق واکثر مساجدھا المبنیۃ علی سمت قبلۃ فیھا بعض انحراف اذلا شك ان قبلۃ الاموی من حین فتح الصحابۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھم ومن صلی منھم الیھا وکذامن بعدھم اعلم و اوثق من فلکی لاندری ھل اصاب ام اخطأبل ذلك یرجع خطأہ وکل خیر من اتباع من سلف [3]۔ |
نمازی کے لئے محراب عین کعبہ کی طرح ہے اسی لئے کسی شخص کو روا نہیں کہ وہ محاریب میں اجتہاد یا غور و فکر کرے اس بات سے تو دُور رہ(جو کہا جاتا ہے) کہ جامع اموی دمشق اور اسکی اکثر دیگر مساجد جو اسکی سمت پر بنائی گئی ہیں ان کی سمت قبلہ کچھ منحرف ہے کیونکہ جامع اموی کے قبلہ کا تعیّن اس وقت ہوا جب صحا بہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنھم نے اس علاقہ کو فتح کیا تھا صحابہ کرام خود بھی اسی رُخ نماز ادا کرتے رہے اور اُن سے بعد کے لوگ بھی اور وہ حضرات اس فلکی سے زیادہ عالم اور ثقہ تھے اس فلکی کے بارے میں ہمیں کیا معلوم کہ اسکی رائے درست ہے یاغلط بلکہ اس کا خاطی ہونا ہی راجح ہے اور تمام خیر اسلاف کی اتباع میں ہے۔(ت) |
پھر علماء کے یہ ارشادات اس بارے میں تھے جو فنِ ہیأت کا ماہر کامل عامل فاضل ثقہ عادل ہو یہ نئی روشنی والے نہ فقہ سے مس نہ ہئیات سے خبر ، اور دین و دیانت کاحال روشن تر ، ان کی بات کیا قابلِ التفات،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع