30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الی مذھب لہ مذھب فلاتجوز لہ مخالفتہ [1]۔ |
کی طرف انتساب رکھتاہے وہ مذہب اس کاہوچکا اسے اس کاخلاف جائزنہیں۔ |
اب فرمائیے تمام منتہی فاضل جن سے امام غزالی ناقل کہ ترك تقلید شخصی کومنکر وناروا بتاتے، اکابرائمہ جن کے قول سے کشف کاشف کہ تقلید امام معین کوواجب ٹھہراتے مشائخ کرام جن کے صحاب کلام صاحب بحرمغترف کہ ترك تقلید شخصی کوگناہ کبیرہ کہتے، علمائے فریقین وفقہائے عظام جن سے ملل ونحل وشاہ ولی اﷲ حاکی کہ تقلید معین کی مخالفت ناجائز رکھتے، یہ سب تومعاذاﷲ تمہارے طورپرصریح کفار ومشرکین ٹھہرے، اس سے بھی درگزرکرو ان ائمہ دین کی خدمات عالیہ میں کیااعتقاد ہے جنہوں نے خود اپنی تصانیف جلیلہ وکلمات جمیلہ میں وجوب تقلید معین وغیرہ ان باتوں کی صاف صریح تصریحیں فرمائیں جو تمہارے مذہب پر خالص کفروشرك ہیں ان سب کوتو نام بنام بتعیین اسم (خاك بدہان گستاخاں) معاذاﷲ کافرومشرك کہئے گا۔ یہ موجزرسالہ کواطلاع اہل حق کے لئے ایك مختصر فتوٰی ہے جواپنے منصب یعنی اظہار حکم فقہی کوبنہج احسن اداکرچکا اور کرتاہے اس میں ان اقوال وافرہ ونصوص متکاثرہ کی گنجائش کہاں۔ مگران شاء اﷲ العظیم توفیق ر بانی مساعدت فرمائے توفقیرایك جامع رسالہ اس باب میں ترتیب دینے والاہے جوان اقوال کثیرہ سے جملہ صالحہ کوایك نئے طرزپرجلوہ دے گا اور ان شاء اﷲ تعالٰی غیرمقلدین کے اصول مذہبی کوان کے مستندین ہی کے کلمات مستندہ سے ایك ایك کرکے مستاصل کرے گا۔ میں یہاں صرف ان ائمہ دین وعلمائے مستندین کے چنداسماء شمارکرتاہوں جوخاص اپنے ارشادات وتصریحات کے روسے مذہب غیرمقلدین پرکافرومشرك ٹھہرے، والعیاذباﷲ رب العالمین۔ ان میں سے ہیں:
۱امام ابوبکراحمدبن اسحاق جوزجانی تلمیذالتلمیذ امام محمد،۲امام ابن السمعانی، ۳امام کیاہراسی، ۴ امام اجل امام الحرمین، ۵امام محمدمحمد محمدغزالی، ۶امام برہان الدین صاحب ہدایہ، ۷ امام طاہربن احمدبن عبدالرشید بخاری صاحب خلاصہ، ۸امام کمال الدین محمدبن الہمام، ۹امام علی خواص، ۱۰امام عبدالوہاب شعرانی،۱۱امام شیخ الاسلام زکریاانصاری، ۱۲امام ابن حجرمکی،۱۳علامہ ابن کمال باشاصاحب ایضاح واصلاح، ۱۴علامہ علی بن سلطان محمدقاری مکی،۱۵علامہ شمس الدین محمدشارح نقایہ، ۱۶علامہ زین الدین مصری صاحب بحر،۱۷علامہ عمربن نجیم مصری صاحب نہر، ۱۸علامہ محمدبن عبداﷲ غزی تمرتاشی صاحب تنویرالابصار، ۱۹علامہ خیرالدین رملی صاحب فتاوٰی خیریہ، ۲۰علامہ سیدی احمدحموی صاحب غمز، ۲۱علامہ محمدبن علی دمشقی صاحب دروخزائن،۲۲علامہ عبدالباقی زرقانی شارح مواہب، ۲۳ علامہ برہان الدین ابراہیم بن ابی بکر بن محمد بن حسین حسینی صاحبِ جواہر اخلاطی، ۲۴ علامہ شیخ محقق
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع