30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فقد اراد کفرہ فھو قدکفر قبل صاحبہ فھذا ھو الخوض المنھی عنہ وھذا المتکلم لایجوز الاقتداء [1]بہ انتھی۔ |
اس سے ڈرتے ہوئے کہ کہیں ہماراساتھی پھسل نہ جائے لیکن تم اپنے ساتھی کوپھسلانے کاارادہ کرکے مناظرہ کرتے ہواور جوشخص اپنے ساتھی کوپھسلانے کاارادہ کرے اس نے اس کا کفرچاہا تو وہ اپنے ساتھی سے پہلے کفر کامرتکب ہوا، پس ایساغور وخوض ممنوع ہے اور ایسے کلامی کے پیچھے نمازجائزنہیں انتہی(ت) |
جب اس متکلم کے پیچھے نمازناجائز ہوئی جس کے انداز سے کفرغیر پررضا نکلتی ہے تو یہ صریح متعصبین جن کا اصل مقصود تکفیر مسلمین دن رات اسی میں ساعی رہیں اور جب تقریرًا وتحریرًا اس کی تصریحیں کرچکے اور مکابر ہرطرح اپنی ہی بات بالاچاہتاہے توقطعًا ان کی خواہش یہی ہے کہ جہاں تك ممکن ہو مسلمان کافرٹھہریں اور شك نہیں کہ اپنے زعم باطل میں اس کی طرف کچھ راہ پائیں توخوش ہوجائیں اور جب بحمداﷲ مسلمانوں کاکفر سے محفوظ ہونا ثابت ہو غم وغصہ کھائیں تو ان کاحکم کس درجہ اشد ہوگا اوران کی اقتدا کیونکر روا، واﷲ الھادی الی الطریق الھدی۔
دلیل پنجم
یہاں تك توان کے بدعت وفسق وغیرہما کی بناپر کلام تھا مگرایك امراور اشد واعظم ان کے طائفہ تالفہ سے صادر ہوتاہے جس کی بناپر ان کے نفس اسلام میں ہزاروں دقتیں ہیں یہاں تك کہ احادیث صریحہ صحیحہ حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم واقوال جماہیرفقہائے کرام رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہم سے ان کاصریح کافر ہونا اور نماز کا ان کے پیچھے محض باطل جانا نکلتاہے وہ کیایعنی ان کا تقلید کوشرك اور حنفیہ مالکیہ شافعیہ حنبلیہ عمہم اﷲ جمیعًا بالطافہ العلیہ، سب مقلدان ائمہ کو مشرکین کوبتانا کہ یہ صراحۃً مسلمانوں کوکافرکہنا ہے اور پھرایك کونہ دوکولاکھوں کروڑوں اور پھرآج ہی کل کے نہیں گیارہ سوبرس کے عامہ مومنین کوجن میں بڑے بڑے محبوبان حضرت عزت و اراکین امت واساطین ملت وحملہ شریعت وکملہ طریقت تھے رضوان اﷲ تعالٰی علیہم اجمعین ان کے بانی مذہب کے مرجع ومقتدا اور پدرنسب وعلم واقتدا شاہ ولی اﷲ صاحب دہلوی رسالہ انصاف میں لکھتے ہیں:
|
بعد المأتین ظھر بینھم التمذھب للمجتھدین باعیانھم وقل من کان |
دو صدی کے بعد مسلمانوں میں تقلید شخصی نے ظہورکیاکم کوئی رہاجو ایك امام معین کے مذہب پر |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع