30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہ فلاں محراب کسی جاہل نا واقف نے یُونہی جزافًا قائم کردی ہے تو البتہ اُس پر اعتماد نہ ہوگا۔ علّا مہ خیرالدین رملی استادِ صاحبِ دُرمختار رحمھما اﷲ تعالٰی فتاوٰی خیریہ میں فرماتے ہیں:
|
نحن علی علم بان الصحابۃ رضی اﷲعنہم اعلم من غیرھم فاذاعلمنا انھم وضعوا محرابا لایعارضھم من ھودونھم واذاعلمنا ان محرابا وضع من غیرھم بغیر علم لانعتمدہ، واذالم نعرف شیئا وعلمنا کثرۃ المارین و تو الی المصلین علی مرور السنین علمنا بالظاھر وھوالصحۃ١[1]۔ |
ہمیں یقین ہے کہ صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم دیگر تمام افراد امّت سے زیادہ علم رکھتے تھے۔ جب ہمیں یہ معلوم ہوا کہ یہ محراب صحابہ نے قائم کئے ہیں تو ان کے مقابل کسی دوسرے کی با ت کو تسلیم نہیں کیا جاسکتا(لہذا اس محراب پر اعتماد کیا جائے گا) اور جب ہمیں یہ معلوم ہوجائے کہ صحابہ کے علاوہ کسی جاہل ناواقف نے یہ محراب بنائی تو اس پر ہم اعتماد نہیں کریں گے ، اور اگر کسی محراب کے بارے میں ہمیں کچھ معلومات نہ ہوں صرف اتنا جانتے ہوں کہ یہاں کئی سالوں سے کثیر راہگیر اور نمازی مسلسل نماز پڑھتے رہے ہیں تو ہم اسی ظاہر صورت پر عمل کریں گے اور یہی درست ہے۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
مذھب الحنفیۃ یعمل بالمحاریب المذکورۃ ولا یلتفت للطعن المذکورۃ[2]۔ |
احناف کا مسلك یہی ہے کہ ان محاریب مذکورہ پر عمل پیرا ہوں اور مخالف کے طعن و اعتراض مذکورہ کی طرف توجہ نہ کی جائے۔(ت) |
اُسی میں ہے :
|
نھایۃ الفلکی المذکوران یطعن بالانحراف الیسیر الذی لا یجاوز الحد المذکور وھوعلی تقدیر صدقہ لایمنع الجواز ولھذا قال الشارح |
قول فلکی(ماہر فلکیات ) مذکور کی نہایۃ یہ ہے کہ وہ ا س تھوڑے انحراف کے ساتھ جوحد مذکورسے تجاوز نہ کرتا ہو طعن (اعتراض) کریگا حالانکہ اگر اسکا قول سچّا بھی ہو تاہم جوازِ نماز کے منافی نہیں اس لئے شارح |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع