30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے نقل کیا، فتاوٰی عٰلمگیری میں ہے:
|
الاقتداء بشافعی المذھب انما یصح اذاکان الامام یتحامی مواضع الخلاف بان یتوضأ من الخارج النجس ، من غیر السبیلین کالفصد ولایکون متعصبا ولایتوضأ بالماء الراکد عـــہ۱ القلیل وان یغسل ثوبہ من المنی عـــہ۲ ویفرك الیابس منہ ویمسحعـــہ۳ ربع رأسہ ھکذا فی النھایۃ والکفایۃ ولایتوضأ بالماء القلیل الذی وقعت فیہ النجاسۃ کذا فی فتاوٰی قاضی خاں ولابالماء المستعمل ھکذا فی السراجیۃ[1] اھ ملخصا۔ |
شافعی المذہب کی اقتداء اس وقت صحیح ہے جب وہ مقامات اختلاف میں احتیاط سے کام لیتاہو، مثلًا سبیلین کے علاوہ سے نجاست کے خروج پروضو کرتاہو جیسا کہ رگ کٹوانے پر، اور متعصب نہ ہو اور نہ ہی قلیل کھڑے پانی سے وضو کرنے والا ہو اور منی والا کپڑا دھوتاہو، اور خشك منی کپڑے سے کھرچ دیتاہو، سر کے چوتھائی کامسح کرتاہو، نہایہ،اور کفایہ میں اسی طرح ہے، اور ایسے ہی قلیل پانی جس میں نجاست گرگئی ہو اس سے وضو نہ کرتاہو فتاوٰی قاضی خان میں اسی طرح ہے اور نہ ہی ماء مستعمل سے وضوکرتا، جیسا کہ سراجیہ میں ہےاھ ملخصا(ت) |
فتاوٰی امام قاضی خاں میں ہے:
|
اما الاقتداء بشفعوی المذھب قالوا لاباس بہ اذالم یکن متعصبا وان یکون متوضأ من الخارج النجس من غیر السبیلین ولایتوضأ بالماء القلیل الذی وقعت فیہ النجاسۃ[2] ۱ھ ملخصا۔ |
شافعی المذہب کی اقتداء کے بارے میں علماء نے فرمایا ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ وہ متعصب نہ ہو اور یہ کہ سبیلین کے علاوہ سے نجاست کے خروج پروضوکرتاہو اور اس قلیل پانی (جس میں نجاست گرگئی ہو) سے وضو نہ کرتاہو۔اھ ملخصًا(ت) |
|
عـــہ ۱ : قلت ای بحیث تقع الغسالۃ فیہ بناء علی نجاسۃ الماء المستعمل ۱۲منہ(م) عـــہ۲ : قلت ای اذا بلغ حدالمنع ۱۲منہ(م) عـــہ۳ : قلت ای لایجتزیئ باقل منہ ۱۲منہ (م) |
میں کہتاہوں یعنی اس وقت جب غسالہ پانی میں گرتاہو اس قول کی بناپر جو ماء مستعمل کونجس قراردیتے ہیں ۱۲(ت) میں کہتاہوں یعنی جب مانع نماز کی حد تك پہنچ جائے ۱۲(ت) میں کہتاہوں یعنی اس سے اقل پر اکتفاء نہ کرتاہو ۱۲منہ(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع