30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اُٹھان ہے اب ان کی بیباکی وجرأت ومسائل مساہلت وشدت عداوت دیکھ کرنہ صرف احتمال فوری بلکہ ظن غالب ہوتا ہے کہ اگریہ امام کئے جائیں ضرور اپنے اُن بعض مسائل مذکورہ پرعمل کریں گے انہیں کیاغرض پڑی ہے کہ مذہب مقتدیان کی رعایت کرکے ان امور سے بازآئیں اور تعصب برت کردل ٹھنڈانہ کریں پھربعض جگہ غسل وغیرہ کی مشقت اٹھانی ہو وہ نفع میں ۔
ثالثًا اب یہ غورکیجئے کہ علمائے دین رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہم اجمعین نے اہل حق وہدٰی کے مذاہب مختلفہ مثلًا باہم حنفیہ وشافعیہ میں ایك کی دوسرے سے اقتداپرکیاکلام کیاہے یہ مسئلہ ہمیشہ سے معرکۃ الآرارہااور اس میں تکثر شقوق واختلاف اقوال بشدت ہواہمیں یہاں صرف اس صورت سے غرض ہے کہ دوسرے مذہب والاجونماز وطہارت میں ہمارے مذہب کی مراعات نہ کرے اور خروج عن الخلاف کی پروانہ رکھے اس کے پیچھے نمازکاکیاحکم ہے۔ پہلے اس احتیاط ومراعات کے معنی سمجھ لیجئے بعض باتیں مذاہب راشدہ میں مختلف فیہ ہیں(اختلافی مسائل) مثلًا فصدوحجامت سے شافعیہ کے نزدیك وضونہیں جاتاہمارے نزدیك جاتارہتاہے۔ مس ذکرومساس زن سے ہمارے نزدیك نہیں جاتا ان کے نزدیك ٹوٹ جاتاہے، دوقلہ پانی میں اگرنجاست پڑجائے ان کے مذہب میں ناپاك نہ عــــہ ہوگاہمارے نزدیك (ناپاک) ہوجائے گا،
انکےنزدیك ایك بال کامسح وضو میں کافی ہے ہمارے یہاں ربع سرکاضرور، ہمارے مذہب میں نیت وترتیب وضومیں فرض نہیں ان کے نزدیك فرض، وعلٰی ہذا القیاس، اس قسم کے مسائل میں باجماع ائمہ آدمی کو وہ بات چاہئے جس کے باعث اختلاف علمامیں واقع نہ ہو جب تك یہ احتیاط اپنے کسی مکروہ مذہب کی طرف نہ لے جائے تومحتاط شافعی فصدوحجامت سے وضوکرلیتے ہیں اور مسح میں بعض پرقناعت نہیں کرتے اور محتاط حنفی مَسِ ذکرومساس زن سے وضوکرلیتے ہیں او رترتیب ونیت نہیں چھوڑتے کہ اگرچہ ہمارے امام نے اس صورت میں وضو واجب نہ کیامنع بھی تونہ فرمایا پھرنہ کرنے میں ہماری طہارت ایك مذہب پرہوگی دوسرے پرنہیں اور کرلینے میں بالاتفاق طاہرہوجائیں گے اور اپنے مذہب میں وضو علی الوضو کاثواب پائیں گے، جوایسی احتیاط کاخیال نہیں کرتے اور دوسرے مذہب کے خلاف ووفاق سے کام نہیں رکھتے، جمہورمشائخ کے نزدیك ان کی اقتداجائز نہیں کہ صحیح مذہب پررائے مقتدی کااعتبارہے جب اس کی رائے پرخلل طہارت یااور وجہ سے فسادنماز کا مظنہ ہویہ کیونکر ایسی نماز پراپنی نماز بناکرسکتاہے خانیہ وخلاصہ و سراجیہ و کفایہ و نظم و بحرالفتاوی و شرح نقایہ ومجمع الانہر وحاشیہ مراقی الفلاح وغیرہاکتب میں اس کی تصریح فرمائی اور اسے علامہ سندی پھرعلامہ حلبی پھرعلامہ شامی نے بہت مشائخ اور علامہ قاری نے عامہ مشائخ کرام
عــــہ:بشرطیکہ پانی کاکوئی وصف مثلًا بویارنگ یامزہ متغیرنہ ہوجائے ورنہ بالاتفاق ناپاك ہوجائے گا ا۲منہ(م)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع