30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
حرام ست نہ نجس اھ ملخصا [1] |
خنزیرکے گوشت کے نجس ہونے میں اختلاف ہے دم مسفوح حرام ہے مگرنجس نہیں اھ ملخصًا (ت) |
مسئلہ (۵) اسی فتح المغیث کے صفحہ ۶پرہے: کافی ہے مسح کرنا پگڑی پر[2]۔ یعنی وضو میں سرکامسح نہ کیجئے پگڑی پرہاتھ پھیرلیجئے وضوہوگیا اگرچہ قرآن عظیم فرمایاکرے وَامْسَحُوۡا بِرُءُ وۡسِکُمْ[3](اپنے سروں کا مسح کرو)
مسئلہ (۶) مولوی محمدسعید شاگرد مولوی نذیرحسین ہدایت قلوب قاسیہ کے صفحہ ۳۶ میں لکھتے ہیں جو اپنی بیوی سے جماع کرے اورانزال نہ ہو تو اس کی نمازبغیر غسل کے درست ہے[4]۔
مسئلہ (۷) فتاوی ابراہیمیہ مصنفہ مولوی ابراہیم غیرمقلد مطبوعہ دھرم پرکاش الہ آباد کے صفحہ ۲ میں ہے: وضومیں بجائے پاؤں دھونے کے مسح فرض ہے[5]۔ انہوں نے پاؤں کے مسئلے میں رافضیوں سے بھی آگے قدم رکھا وہ بیچارے بھی صرف جوازمانتے ہیں واﷲ المستعان علی شرالرفاض وقومٍ شرٍّ من الرفاض (اﷲ تعالٰی ہی مددگارہے روافض کے شرپراور اس قوم کے شرپرجوروافض سے بھی بدترہے۔ت
ثانیًا یہ خیال کیجئے کہ انہیں اہلسنت کے ساتھ کس درجہ تعصب ہے، اور تعصب وہ شئی ہے کہ خواہی نخواہی آدمی نیش عقرب (بچھوکاڈنگ) ہوکر بتقاضائے طبع ایذا واضرار پرکمرکستاہے اور جہاں تك بن پڑے شقاق وخلاف کو دوست رکھتا ہے، اگرعلانیہ نہ ہوسکے توخفیہ ہی کوئی بات کرگزرے اورآپ ہی آپ دل میں ہنس لے، جہال روافض کی حکایات مشہورہیں کہ ان کی مجالس مرثیہ میں جوجاہل سنی جابیٹھے انہوں نے قلتین کے چھینٹے شربت میں ملائے، بعض اشقیا نے اسمائے طیبہ پرچوں پرلکھ کرفرش کے نیچے رکھ دئے کہ سنی بیٹھیں تو پاؤں کے نیچے آئیں اگرچہ نادانستہ ہی سہی۔ پھرجہاں ایساموقع ہاتھ لگاکہ کوئی خاص چیز کسی مہمان یاحاجتمند سنی ناواقف کے کھانے پینے کوپیش کی ظاہری تکلف حد سے گزرا اور بعض نجاسات قطعیہ سے آلودہ کردی، یہ سب شاخیں تعصب کی ہیں، پھر حضرات غیرمقلدین کا تعصب ان روافض سے کم نہیں بلکہ زائد ہے کہ یہ دشمن تازہ ہیں اور ان کے حوصلوں کی نئی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع