30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کیانہ جانا کہ ان کے رشید شاگرد نے مطبوعہ رسالے میں حقیقی پھوپھی تك حلال بتائی، کیانہ سنا کہ دوسرے شاگرد نے سوتیلی خالہ کوبھانجے کے حق میں مباح کردیا اور اس آفت کے فتوے سے استاد صاحب نے اپنی مہر کا نکاح کردیا پھرامام العصر کااُجرت لے کرمسائل لکھنا، ایك ہی مقدمہ میں مدعی مدعاعلیہ دونوں کے پاس حضرت کا فتوی ہونا کیسی اعلٰی درجے کی دیانت ہے۔ ان سب وقائع کی تفصیل بعض احباب فقیرنے رسالہ سیف المصطفٰی علی ادیان الافتراء(۱۲۹۹ھ) ورسالہ نشاط السکین علی حلق البقر السمین(۱۳۰۳ھ) میں ذکر کی، پھربات بنانے کو احیاء و اموات پرہزاروں افتراء وبہتان کرنا، فرضی کتابوں سے سندلانا، خیالی عالموں کے نام گھڑلینا، نقل عبارت میں قطع وبرید کرنا، جرح محدثین کونسب بدل لینا، احادیث واقوال کے غلط حوالے دینا اور ان کے سوا دیدہ ودانستہ ہزاروں قسم کی عیاریاں ان کے عمائدومتکلمین اپنی مذہبی تصانیف میں کرگزرے، زکیں کھائیں الزام اٹھائے اور بازنہ آئے۔ رسالہ سیف المصطفٰی انہیں امور کے بیان واظہار میں تالیف ہوا جس میں عزیزم مؤلف حفظہ اﷲ نے اکابر طائفہ کی ایك سوساٹھ دیانتوں کوجلوہ دیا۔ پھر کون گمان کرسکتاہے کہ جرأت وجسارت میں ان کاپایا کسی فاسق سے گھٹاہواہے، معہذا آزمالیجئے کہ یہ حضرات جس مسئلہ میں خلاف کریں گے آرام نفس ہی کی طرف کریں گے کبھی وہ مذہب ان کے نزدیك راجح نہ ہوا جس میں ذرامشقت کاپلہ جھکا، تراویح میں بیس رکعت چھوڑیں توچھتیس کی طرف نہ گئے جو امام مالك سے مروی، نہ چالیس لیں جو حضرت ابی بن کعب رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے منقول اور امام اسحق بن راہویہ واہل مدینہ کامذہب تھا، آٹھ پرگرے کہ آرام کاسبب تھا۔ اور ان کے بعض مسائل کا نمونہ ان شاء اﷲ تعالٰی قریب آتاہے۔ مسلمانو! جب بیباکی وہ ہے کہ جوچاہا کہہ دیا نہ قرآن سے غرض نہ حدیث سے کام، اجماع ائمہ تو کس چیزکانام، ادھر آرام طلبی کاجوش تام، توکیاعجب کہ بے غسل یابے وضو نمازجائز کرلیں خصوصًا جبکہ موسم سرماہو اورپانی ٹھنڈا، آخریہ پھوپھی، بھتیجی خالہ کی حلت سے عجیب ترنہ ہوگا،
سچ فرمایا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے :
|
اذالم تستحی فاصنع ماشئت[1]۔ |
جب توبے حیا ہوجائے توجوچاہے کر۔(ت) |
ع : آنرام کہ حیانیست ازوہیچ عجب نیست
(جس کوحیا نہیں اس سے کچھ بھی تعجب نہیں)
والعیاذباﷲ تعالٰی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع