30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سیدی احمد مصری اس کے حاشیہ میں فرماتے ہیں:
|
قولہ فتجب اھانتہ شرعا فلا یعظم بتقدیمہ للامامۃ تبع فیہ الزیلعی ومفادہ کون الکراھۃ فی الفساق تحریمیۃ [1]۔ |
اس کا قول"پس اس کی اہانت واجب ہے تو امامت کا منصب دے کر اس کی تعظیم نہ کی جائے"زیلعی نے اسی کی اتباع کی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ فاسق کی تقدیم (امامت) مکروہ تحریمی ہے (ت) |
اور حاشیہ شرح علائی میں فرماتے ہیں:
|
اما الفاسق الا علم فلا یقدم لان فی تقدیمہ تعظیمہ وقدوجب علیہم اھانتہ شرعا ومفاد ھذا کراھۃ التحریم فی تقدیمہ اھ ابو السعود[2] انتھی |
فاسق بڑے عالم کو مقدم نہ کیا جائے کیونکہ اس کی تقدیم میں اس کی تعظیم ہے حالانکہ شرعًا لوگوں پر اس کی اہانت لازم ہے اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ تعظیم فاسق مکروہ تحریمی ہے اھ ابو السعود انتہی (ت) |
علامہ محقق حلبی غنیہ میں فرماتے ہیں:
|
العالم اولٰی بالتقدیم اذکان یجتنب الفواحش وان کان غیرہ اورع منہ ذکرہ فی المحیط ولواستویا فی العلم والصلاح واحدھما اقرأ فقدموا الآخر اساءوا ولایأثمون فالا ساءۃ لترك السنۃ وعدم الاثم لعدم ترك الواجب لا نھم قدموارجلا صالحا کذافی فتاوی الحجہ وفیہ اشارۃ الی انھم لوقدموا فاسقا یأثمون بناء علی ان کراھۃ تقدیمہ کراھۃ تحریم لعدم اعتنائۃ |
عالم تقدیم ( امامت ) کے لئے بہتر اس وقت ہے جو وہ فاحش گناہوں سے بچنے والا ہو اگر چہ وہاں اس سے زیادہ کوئی صاحب تقوٰی موجود ہو، اس کا ذکر محیط میں ہے اور اگر دونوں علم وصلاح میں برابر ہوں مگر ایك اچھا قاری ہے اس صورت میں اگرلوگوں نے دوسرے کو مقدم کردیا تو برا کیا مگر گناہ گار نہ ہوں گے کہ ا ساءت ترك سنت کی وجہ سے اور عدم گناہ واجب کو ترك نہ کرنے کی وجہ سے ہے کیونکہ انھوں نے صالح شخص کو ہی امام بنایا ہے ، فتاوی حجہ میں اسی طرح ہے اور اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ اگر انھوں نے کسی فاسق کو مقدم کردیا تو گنہگار ہونگے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع