30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فی الارض المغصوبۃ ای لاتحل وان صحت( جیسے کہ ارض مغصوبہ میں نماز جائز نہیں یعنی حلال نہیں اگر چہ صحیح ہے۔ت) اگر یہاں معنی اخیر مراد لیں لاسیما جبکہ افعال میں اکثر وہی ہے کما ان الاکثر فی العقود الاول کما صرح بہ فی ردالمحتار وغیرہ ( جیسا کہ عقود میں اول معنی اکثر ہے ردالمحتار وغیرہ میں اس پر تصر یح ہے ۔ت) تو یہ روایات بھی سابق کے منافی نہ ہوں گی کہ مکروہ تحریمی بھی بایں معنی ناجائز ہے،
|
ومعلوم ان ابداء الوفاق اولی ابقاء الخلاف ولذا صرحوا بانہ یوفق بین الروایات مھما امکن کما فی الشامیۃ۔ واﷲ تعالٰی اعلم |
یہ بات مسلمہ ہے کہ اتفاق کااظہار اختلاف کو باقی رکھنے سے اولی ہے اسی لئے علماء نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ جہاں تك ممکن ہو روایات کے درمیان موافقت پیدا کی جائے جیسا کہ فتاوٰی شامی میں ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم |
دلیل دوم
غیر مقلد بد مذہبی کے علاوہ فاسق معلن بیباك مجاہر بھی ہیں اور فاسق متہتك کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ، کما اثبتناہ فی تحریرنا ذلك اقول و بہ یحصل التوفیق واﷲ تعالٰی ولی التوفیق ( جیسا کہ ہم نے اپنی تحریر میں اسے ثابت کیا ہے اقول: ( میں کہتا ہوں ) اﷲ تعالٰی سے توفیق حاصل ہوجاتی ہے اور اﷲ تعالٰی ہی توفیق کا مالك ہے ۔ت) دلیل اول میں اس مسئلے پر بعض کلام اور صغیری وطحطاوی کا نص گزرا اور اس طرف امام علامہ زیلعی نے تبیین الحقائق شرح کنزالدقائق اور علامہ حسن شرنبلالی نے شرح نور الایضاح اور علامہ سید احمد مصری نے حاشیہ مراقی الفلاح میں ارشاد فرمایا اور یہی فتاوٰی حجہ کا مفاد اور تعلیل مشائخ کرام سے مستفاد یہاں تك کہ علمانے تصریح فرمائی اگر غلام یا گنوار یا حرامی یا اندھا علم میں افضل ہوں تو انھیں کو امام کیا چاہئے مگر فاسق اگر چہ سب سے زیادہ علم والاہو امام نہ کیا جائے کہ امامت میں اس کی عظمت اور وہ شرعًا مستحق اہانت ، ملخص امداد الفتاح میں ہے:
|
کرہ امامۃ الفاسق العالم لعدم اھتمامہ بالدین فتجب اھانتہ شرعا فلا یعظم بتقدیمہ للامامۃ واذاتعذر منعہ ینتقل عنہ الی غیر مسجدہ للجمعۃ وغیرھا [1]۔ |
فاسق عالم کی امامت مکروہ ہے کیونکہ وہ دین کا احترام نہیں کرتا تو شرعًا اس کی اہانت لازم ہے لہذا امامت کا منصب دے کر اس کی تعظیم نہ کی جائے اور اگر اس کو روکنا دشوار ہو تو جمعہ اور دیگر نمازوں کے لئے کسی دوسری مسجد چلاجانا چاہئے (ت) |
[1] مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی فصل فی بیان الاحق بالا مامۃ مطبوعہ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص ۱۶۵
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع