30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
علی انہ یرید المراء لیخجل صاحبہ لااظہار الحق واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
حکمت ہوکہ اُس نے مطلقًا اسے قدیم کہاحالانکہ اس کا انزال حادث ہے اھ اقول (میں کہتا ہوں) شاید امام صاحب رحمۃ اﷲ علیہ اس کے ارادے سے آگاہ ہوں کہ اس کا مقصد اظہار نہیں بلکہ ریاکاری کے طور پر دوسرے ساتھی کو شرمندہ کرنا ہو واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
بلکہ محرر المذہب امام محمد رحمہ اﷲ تعالٰی نےحضرت امام اعظم وامام ابو یوسف رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کی کہ بد مذہب کے پیچھے نماز اصلًا جائز نہیں۔محقق علامہ کمال الدین بن الہمام فتح میں فرماتے ہیں:
|
روی محمد عن ابی حنیفۃ وابی یوسف ان الصلاۃ خلف اھل الاھواء لاتجوز [1]۔ |
امام احمدنے امام ابو حنیفہ اور امام ابویوسف دونوں سے روایت کیا کہ بدمذہب کے پیچھے نماز جائز نہیں(ت) |
اسی میں روایت امام ابو یوسف لایجوز الاقتداء بالمتکلم وان تکلم بحق[2] (کلامی کے پیچھے نماز جائز نہیں اگر چہ وُہ حق کے ساتھ متکلم ہو۔ ت)کی شرح میں امام ابو جعفر ہندوانی سے نقل کیا :
|
یجوزا ن یکون مراد ابی یوسف رحمہ اﷲ تعالٰی من یناظر فی دقائق علم الکلام انتھی [3]۔ اقول: المناظرۃ فی دقائقہ لایزید علی بدعۃ اوفسق وعلی کل یفید عدم الجواز خلف المبتدع کمالیس بخاف۔ |
اس سے امام ابو یوسف کی مراد وہ شخص ہے جو علم کلا م کے دقائق میں مناظرہ کرے انتہی۔ اقول:(میں کہتا ہوں) علم کلام کے دقائق مناظرہ زیادہ سے زیادہ بدعت یا فسق کا سبب ہے اور ہر صورت میں یہ واضح کررہا ہے کہ بدعتی کے پیچھے نماز جائز نہیں، جیسا کہ مخفی نہیں(ت) |
غیاث المفتی پھر مفتاح السعادۃ پھر شرح فقہ اکبر میں امام ثانی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ سے ہے:لاتجوز خلف المبتدع [4](بدعتی کے پیچھے نماز جائز نہیں۔ت)اقول: وباﷲ التوفیق جواز کبھی بمعنی صحت مستعمل ہوتا ہے تقول البیع عند اذان الجمعۃ یجوز ویکرہ ای یصح ویمنع (جیسے تو کہے جمعہ کی اذان کے وقت خرید وفروخت جائز اور مکروہ ہے یعنی صحیح مگر منع ہے۔ت) اور گاہے بمعنی حلّت لا تجوز الصلاۃ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع