30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خلق وارد ہواکمار وینا(جیسا کہ اس سے متعلق روایت میں ذکر کر آئے ہیں۔ت) اور غنیہ شرح منیہ میں ہے:
|
المبتدع نفاسق من حیث الاعتقاد وھواشد من الفسق من حیث العمل لان الفاسق من حیث العمل یعترف بانہ فاسق ویخاف ویستغفر بخلاف المبتدع [1]۔ |
بدعتی ، اعتقاد کے لحاظ سے فاسق ہوتا ہے جو عمل کے اعتبار سے فسق سے کہیں بد تر ہے کیونکہ فاسق اپنے فاسق ہونے کا معترف ہوتا ہے اوراﷲ تعالٰی سے ڈرتا اور معافی مانگتا ہے بخلاف بدعتی کے(ت) |
بالجملہ بد مذہبی فی نفسہٖ ایسی ہی چیز ہے جسے امامت دینی سے مباینت یقینی ہے اور اُسکے بعد منع پر دوسری دلیل کی چنداں حاجت نہیں ،کس کا دل گوارا کرے گا کہ جہنم کے کتّوں سے ایك کتّا مناجاتِ الہٰی میں اس کا مقتداء ہو۔علامہ یوسف چلپی ذخیرہ العقبٰی فی شرح صدر الشریعۃ العظمٰی میں فرماتے ہیں:
|
بدعۃ المبتدع یفضی الٰی عدم الاقتداء بہ سیمافی اھم امور الدین [2]۔ |
بدعتی کی بدعت اسکی عدم اقتدا کاتقاضا کرتی ہے خصوصًا اہم امورِ دین میں (یعنی نماز میں)۔(ت) |
ردالمحتار میں ہے :
|
المبتدع تکرہ امامتہ بکل حال[3]۔ |
بدعتی کی امامت ہر حال میں مکروہ ہے(ت) |
علامہ ابراہیم حلبی نے تصریح فرمائی کہ فاسق ومبتدع دونوں کی امامت مکروہ تحریمی ہے اور امام مالك کے مذہب اور امام احمد کی ایك روایت میں اُن کے پیچھے نماز اصلًا ہوتی ہی نہیں جیسے کسی کافر کے پیچھے ۔ شرح صغیر منیہ میں فرمایا:
|
یکرہ تقدیم الفاسق کراھۃ تحریم وعند مالك لا یجوز تقدیمہ وھو روایۃ عن احمد وکذا المبتدع [4]۔ |
فاسق کی تقدیم (امامت) مکروہ تحریمی ہے اور امام مالك کے نزدیك اس کی تقدیم (امامت) جائز نہیں اورامام احمد سے بھی ایك روایت یہی ہے اور یہی حال بدعتی کا ہے۔(ت) |
علامہ طحطاوی حاشیہ دُرمختار میں فاسق وبدمذہب کے پیچھے نماز کے باب میں فرماتے ہیں :الکراھۃ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع