30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اُ س کی طرف توجہ کا خیال ہے فاقول مستعینا بالقریب المجیب وما توفیقی الاّ باﷲ علیہ توکلت والیہ انیب۔
الشروع فی الجواب بتوفیق الملك الوہاب
بلا شبہہ غیر مقلد کے پیچھے نماز مکروہ وممنوع ولازم الاحتراز،اُنھیں بااختیار خود امام کرناہر گز کسی سنّی محبِ سنّت وکارہ بدعت کاکام نہیں،اور جہاں وہ امام ہوں اور منع پر قدرت نہ ہو سنّی کو چاہئے دوسری جگہ امام صحیح العقیدہ کی اقتدا کرے حتٰی کہ جمعہ میں بھی جبکہ اور جگہ مل سکے۔امام محقق ابن الہمام فتح القدیر شرح ہدایہ میں فرماتے ہیں:
|
یکرہ فی الجمعۃ اذاتعددت اقامتھا فی المصر علی قول محمد وھوالمفتی بہ لانہ بسبیل من التحول[1]۔ |
امام محمد کے مفتی بہ قول کے مطابق جمعہ میں فاسق و بدعتی کی اقتداء مکروہ ہے جبکہ شہر میں جمعہ متعدد مقامات پر قائم ہوتا ہو کیونکہ اس صورت میں دوسرے مقام پر منتقل ہونا ممکن ہے(ت) |
اور اگر بمجبوری اُن کے پیچھے پڑھ لی یا پڑھنے کے بعد حال کھُلا تو نماز پھیر لے اگر چہ وقت جاتا رہا ہو اگر چہ مدّت گزر چکی ہو کما حققہ المولی الفاضل سیّدی امین الدین محمد بن عابدین الشامی رحمہ اﷲ تعالٰی فی ردالمحتار (جیسا کہ ہمارے عظیم فاضل سیّدی امین الدین محمد بن عابدین شامی رحمہ اﷲ تعالٰی نے ردالمحتار میں اس کی تحقیق کی ہے۔ت)فقیر غفراﷲ تعالٰی اس حکم کو پانچ دلیلوں سے روشن کرتا ہے،وباﷲ التوفیق ۔
دلیل اوّل:یہ تو خود واضح اور ہماری تقریر سابق سے لائح کہ طائفہ مذکورہ بدعتی بلکہ بد ترین اہلِ بدعت سے ہے،اور فاضل علّامہ سیّدی احمد مصری طحطاوی رحمۃ اﷲ تعالٰی حاشیہ دُرمختار میں ناقل:
|
من شذّ عن جمھور اھل الفقہ والعلم والسواد الاعظم فقد شذّ فیما یدخلہ |
یعنی جو شخص جمہور اہلِ علم وفقہ وسوادِاعظم سے جُدا ہو جائے وُہ ایسی چیز کے ساتھ تنہا ہوا جو اُسے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع