30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
آمدہ باکفار مداہنتہ نمودہ ودارالاسلام رادارالکفر ساختہ اندہرگاہ درملکے تشیّع رائج شد فتنہ وفسادونفاق فیما بین فوج فوج باریدہ، حالت ہندوستان باید دید وحالت ملك عرب وشام وروم رابادے باید سنجید [1]اھ ملخصًا |
انھوں نے مداہنت بالکفّار سے کام لیتے ہوئے دارالاسلام کو دارالکفر بنادیا ،جہاں کسی ملك میں اہلِ تشیع کا غلبہ ہُوا فتنہ وفساد اورنفاق کے باعث لوگ آپس میں گروہوں میں بٹ گئے ،ہندوستان کی حالت دیکھ لو اور ملك عرب، شام اور روم کو اس پر قیاس کرلو اھ ملخصًا(ت) |
یہ سب باتیں بھی حروف بحرف اس طائفہ جدیدہ پر منطبق ، اول تو انھیں نکلے ایسے کے دن ہوئے تاہم جب سے سراُبھارا ساراغصّہ مسلمانوں ہی پر اتارا ہمیشہ مسلمانوں کو مشرك کہامسلمانوں ہی کے قتل و غارت کا حوصلہ رہا ، آخر کچھ دنوں شوکت بھی پائی ۔فوج و جمعیت بھی ہاتھ آئی ،پھر کون سا ملك کافروں سے لیا کون سا حملہ مشرکوں پر کیا ہاں خداومصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے شہروں کو دارالحرب بتایا،لا الٰہ الاّ اﷲ محمد رسول اﷲ ماننے والوں کا خون بہایا،آدمی کوجب قوّت ملتی ہے دل کی دبی بھڑك کر جلتی ہے جن سے غیظ تھا اُنھیں پر ٹوٹے،خداومصطفٰی کے شہر لوٹے صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وسیعلم الظالم این المثوی(عنقریب ظالم جان لے گاکہ اس کا ٹھکانہ کہاں ہے۔ت) جب وہاں ان کا ستارہ لشکر سلطانی نے گرفتار بیت الوبال کیاان آزاد بلاد نے جہاں نہ کوئی پُرسان سنّت نہ خبرگانِ ملّت اُنھیں حبلك علی غاربك (تیری رسّی تیرے کاندھے پر ہے۔ت) کہہ کر لیا قدموں کی برکت کہاں جائے ۔جب نجد اجاڑکر ہند میں آئے یہاں اُن کے دم سے جو فتنہ وفساد پھیلے ،باہم مسلمانوں میں نفاق وشقاق کے چشمے ابلے، ظاہر وعیاں ہیں ،کس پر نہاں ہیں ،خصوصًا اُن شہروں کو تو پوری شامت جن میں اُن کے عمائد کی کثرت کچھ دین قدیم پر جھگڑ رہے ہیں کچھ بگڑگئے کچھ بگڑ رہے ہیں ،باپ سنّی ذریّت وہابی ،شوہر سنّی عورت وہابی ، گھر گھر فتنے آئے دن فساد ،عیش منغص چین برباد ،ابتداءً بانی ثانی نے بھی وہی رنگ جمائے ،بلاد اسلام دارالکفر ٹھہرائے ،جس سال نجد میں ان کے اکابر کا قلع قمع ہُوا اوپر سُن چکے کہ ۱۲۳۳ھ تھا اُسی سال انھوں نے یہاں کے شہروں پر یہ فتوٰی دیا،امام الطائفہ نے ترغیب جہاد کے ضمن میں لکھا :
|
ہندوستان را دریں جز و ضمان کہ۱۲۳۳ دوصدوسی وسوم اکثرش دریں ایام دارالحرب گردیدہ[2]۔ |
ہندوستان کواس وقت یعنی۱۲۳۳ میں کہ اس کا اکثر حصہ دارالحرب قرار دیاجاچکا ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع