30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ساتھی کدھر بچ کرجاتے ہیں، کیا تمھارا طائفہ دنیا کے پردے سے کہیں الگ بستا ہے، تم سب بھی انہیں شرارالناس وبدترین خلق میں ہوئے جن کے دل میں رائی کے دانے کے برابرایمان کا نام نہیں اوردین کفارکی طرف پھر کر بتوں کی پوجا میں مصروف ہیں،سچ آیا ۱۷حدیث مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد کہ حبك الشیئ یعمی ویصم [1](شیئ کی محبت تجھے اندھااور بہرا کر دے گی۔ت) شرك کی محبت نے اس ذی ہوش کو ایسا اندھا بہرا کردیا کہ خود اپنے کفر کا اقرار کر بیٹھا ،غرض تو یہ ہے کہ کسی طرح تمام مسلمان معاذ اﷲ مشرك ٹھہریں اگرچہ پرائے شگون کواپنا ہی چہرہ ہموار ہوجائے ،اور اس بیباك چالاك کی نہایت عیاری یہ ہے کہ اُسی مشکوٰۃ کے اُسی باب لاتقوم الساعۃ الاعلی شرارالناس[2]میں اسی حدیث مسلم کے برابر متصل بلافصل دوسری حدیث مفصل۔ اسی صحیح مسلم کی عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے وُہ موجود تھی جس سے اس حدیث کے معنٰی واضح ہوتے اوراُس میں صراحۃً ارشاد ہوا تھا کہ یہ وقت کب آئے گا اور کیونکر آئے گا اور آغازِبُت پرستی کا منشا کیا ہوگا،وہ حدیث مختصرًا یہ ہے :
|
وعن عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یخرج الدجال فی اُمتی فیمکث اربعین فیبعث اﷲ عیسی بن مریم فیھلکہ ثم یمکث فی الناس سبع سنین لیس بین اثنین عداوۃ ثم یرسل اﷲ ریحاباردۃ من قبل الشام فلا یبقی علی وجہ الارض احد فی قلبہ مثقال ذرّۃ من خیر اوایمان الاقبضتہ حتی لوان واحدکم دخل |
یعنی عبداﷲ بن عمررضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت ہے کہ حضور پُرنور سیّد عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں میری امّت میں دجّال نکل کر چالیس عــــہ تك ٹھہرے گا پھر اﷲ تعالٰی عیسٰی بن مریم علیہم الصلوٰۃ والسلام کو بھیجے گا وُہ اُس کو ہلاك کریں گے پھر سات برس تك لوگوں میں اس طرح تشریف رکھیں گے کہ کوئی دو۲ دل آپس میں عداوت نہ رکھتے ہوں گے اس کے بعد اﷲ تعالٰی شام کی طرف سے ایك ٹھنڈی ہوا بھیجے گا کہ روئے زمین پرجس دل میں ذرّہ برابر بھی ایمان |
عــــہ : راوی نے کہا مجھے نہیں معلوم کہ چالیس۴۰ دن فرمایا یا برس انتہی ،اور دوسری حدیث میں چالیس دن کی تصریح ہے کہ پہلا دن سال بھر کا، دوسرا ایك مہینہ کا،تیسرا ایك ہفتہ کا،باقی دن عام دنوں کی طرح رواہ مسلم عن النواس بن سمعان رضی اﷲ تعالٰی عنہ فی حدیث طویل ۱۲ منہ(م)(اسے امام مسلم نے حدیث طویل میں حضرت نواس بن سمعان رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ۔ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع