30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
غرض یہ فتنہ شنیعہ وہاں سے مطرود اور خدا و رسول کے پاك شہروں سے مدفوع و مردود ہوکر اپنے لئے جگہ ڈھونڈتا ہی تھا کہ نجد کے ٹیلوں سے اس دارالفتن ہندوستان کی نرم زمین اسے نظر پڑی ،آتے ہی یہاں قدم جمائے ، بانی فتنہ نے کہ اس مذہب نامہذب کا معلم ثانی ہوا وہی رنگ آہنگ کفر وشرك پکڑا کہ ان معدودے چند کے سوا تمام مسلمان مشرك ،یہاں یہ طائفہ بحکم اِنَّ الَّذِیۡنَ فَرَّقُوۡا دِیۡنَہُمْ وَکَانُوۡا شِیَعًا[1] (وُہ لوگ جنہوں نے اپنے دین میں جُداجُدا راہیں نکالیں اور کئی گروہ ہوگئے ۔ت)
خود متفرق ہوگیا ایك فرقہ بظاہر مسائل فرعیہ میں تقلید ائمہ کا نام لیتا رہا دوسرے نے ع
قدمِ عشق پیشتر بہتر
(عشق کا قدم آگے بڑھانا ہی بہتر ہے)
کہہ کر اسے بھی بالائے طاق رکھا ، چلئے آپس میں چل گئی وہ انھیں گمراہ یہ اُنھیں مشرك کہنے لگے مگر مخالفتِ ہلسنت وعداوت اہلِ حق میں پھر ملت واحدہ رہے،ہر چندان اتباع نے بھی تکفیر مسلمین میں اپنی چلتی گئی نہ کی لیکن پھر کلام الامام امام الکلام (امام کا کلام ، کلام کاامام ہوتا ہے۔ت) ان کے امام وبانی وثانی کو شرك وکفر کی وہ تیز وتند چڑھی کہ مسلمانوں کے مشرك کافر بنانے کوحدیث صحیح مسلم:لا یذھب اللیل والنھار حتی یعبد اللات والعزّی(الٰی قولہ) یبعث اﷲ ریحاطیبۃ فتوفی کل من کان فی قلبہ مثقال حبۃ من خردل من ایمان فیبقی من لاخیر فیہ فیرجعون الٰی دین اٰبائھم [2]مشکوٰۃ کے باب لا تقوم الساعۃ شرارالناس[3]سے نقل کرکے بے دھڑك زمانہ موجودہ پر جمادی جس میں حضور سیّد عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا کہ"زمانہ فنا نہ ہوگا جب تك لات و عزّٰی کی پھر سے پرستش نہ ہو اور وُہ یوں ہوگی کہ اﷲ تعالٰی ایك پاکیزہ ہوا بھیجے گا جو ساری دنیا سے مسلمانوں کو اُٹھالے گی جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہوگا انتقال کرے گا جب زمین میں نرے کافر رہ جائیں گے پھر بتوں کی پوجا بدستور جاری ہوجائے گی"۔ اس حدیث کو نقل کرکے صاف لکھ دیا سو پیغمبرِ خدا کے فرمانے کے موافق ہوا، انّا ﷲ وانّا الیہ راجعون ۔
ہوشمند نے اتنا بھی نہ دیکھا کہ اگر یہ وہی زمانہ ہے جس کی خبر حدیث میں دی تو واجب ہُوا کہ روئے زمین پر مسلمان کا نام و نشان باقی نہ ہو بھلے مانس اب تُو اور تیرے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع