30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
منہ ہونا بس ہے جس میں کعبہ واقع ہے تکلیف بقدر وسعت اور طاعت بحسبِ طاقت ہے اس سے خود ثابت ہوا کہ غیر مکہ مکرمہ میں اتنا انحراف کہ جہت سے خارج نہ کرے مضر نہیں اور اسکی تصریح نہ صرف ہدایہ بلکہ عامہ کتب مذہب میں ہے پھر مسافتِ بعیدہ میں ایك حد تك کثیرانحراف بھی جہت سے باہر نہ کرے گا اور در حق نماز قلیل ہی کہلائے گا اور جتنا بُعد بڑھتا جائےگا انحراف زیادہ گنجائش پائے گا۔ بحرالرائق و طحطاوی علی الدر وغیرہما میں ہے:
|
المسامتۃ التقریبیۃ ھوان یکون منحرفا عن القبلۃ انحرافالاتزول بہ المقابلۃ بالکلیۃ، والمقابلۃ اذا وقعت فی مسافۃ بعیدۃ لاتزول بما تزول بہ من الانحراف لو کانت فی مسافۃ قریبۃ١[1]۔ |
مسامتت تقریبی یہ ہے کہ انحراف عن القبلہ اس طرح ہو کہ جہت کعبہ سے مقابلہ بالکلیۃ ختم نہ ہو اور مقابلہ جب مسافتِ بعیدہ کی صورت میں ہو تو وہ اتنے انحراف سے ختم نہیں ہوتا جتنے سے مسامت قریبیہ میں مقابلہ ہو تو ختم ہو جاتا ہے۔(ت) |
معراج الدرایہ وفتح القدیر و حلیہ شرح منیہ و بحر شرح کنز و فتاوٰی خیریہ وغیرہا میں ہے۔
|
ویتفاوت ذلك بحسب تفاوت البعد و تبقی المسامتۃ مع انتقال مناسب لذلك البعد[2]۔ |
انحراف بُعد کے اعتبار سے متفاوت ہوتا ہے اور اس بُعد کے مناسب انتقال کے ساتھ مسامتت (سمت) باقی رہتی ہے۔(ت) |
فتوٰی میں عبارتِ ہدایہ سے استناد کے لئے یہ ثبوت دینا کہ مکہ معظّمہ سے علی گڑھ کو یہ ہزاروں میل کا بُعد ، نقطہ مغرب سے تیس٣٠ گز انحراف کی گنجائش نہیں رکھتا اتنا تفاوت جہت سے باہر لے جائے گا بے اس ثبوت کے، ذکر عبارت محض تغلیط عوام ہے اور حقیقت امر دیکھئے تو عبارت مستدل کے لئے صرف نامفید ہی نہیں بلکہ صاف مضر ہے، ہم عنقریب بعونہٖ تعالٰی ثابت کریں گے کہ عید گاہ مذکورہ ضرور حدودِ جہت کے اندر ہے۔
سابعًا: ہمارے بعض علماء تو یہاں تك فرماتے ہیں کہ اس باب میں ہیأت قیاسات و آلات کا اعتبار ہی نہیں ، جامع الرموز نے اسی بحث سمتِ قبلہ میں لکھا:
|
منھم من بناہ علی بعض العلوم الحکمیۃ الاان العلامۃ البخاری قال فی بحث القیاس من الکشف ان اصحابنا |
فقہاء میں سے بعض نے اس مسئلہ کی بنیاد بعض علومِ حکمیہ پر رکھی ہے مگر علّامہ بخاری نے کشف الاسرار میں قیاس کی بحث کے تحت لکھا ہے کہ ہمارے علماء نے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع