30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قسم کی کراہت ہوجاتی ہے یا نہیں؟
الجواب:
سورۃ سوچنے میں اتنی دیر جس میں تین بار سبحٰن اﷲ کہہ لیاجائے ترك واجب وموجب سجدہ سہو ہے[1]کمانص علیہ فی التنویر والدر والغنیۃ وغیرھما (تنویر ، در، غنیہ وغیرہ میں اس پر نص کی جاتی ہے۔ت) تو یہ جس کی عادت ہے اس کے پیچھے نماز میں ضرور کراہت ہے۔عالمگیریہ ومحیط میں ہے:
|
من یقف فی غیر مواضعہ ولایقف فی مواضعہ لاینبغی لہ ان یؤم وکذا من یتنحنح عند القرأۃ کثیرًا [2]۔ |
جو نہ ٹھہرنے کی جگہ وقف کرے اور وقف کی جگہ وقف نہ کرے اسے چاہئے کہ وہ امام نہ بنے ،اور اسی طرح اس شخص کا حکم ہے جو قرأت کرتے وقت کثرت سے کھانستا ہو۔(ت) |
جو وقف ووصل بے جاکرے یا پڑھتے وقت باربار کھنکارے جب اسے فرماتے ہیں کہ اس کی امامت سزاوار نہیں حالانکہ مراعات وقف ووصل واجبات نمازسے نہیں ۔تو جو واجب نماز یعنی وصل سورۃ و فاتحہ بے اجنبی کے ترك کا عادی ہو بدرجہ اولٰی لائق امامت نہیں ،ہاں فاتحہ کے بعد اتنی دیر کہ دم راست کرے آمین کہے، کوئی سورۃ ابتداء سے پڑھنی ہو تو بسم اﷲ الرحمن الرحیم پڑھے کہ یہ دیر بھی تقریبًا کلمہ طیّبہ پڑھنے کے برابر ہوجائے گی، بلاشبہ مباح وسنّت و مستحب ہے۔و اﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۸۴۴: از شہر کہنہ ۲۸ ربیع الآخر شریف ۱۳۱۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارہ میں کہ زید کہتا ہے کہ بعد کلمہ لا الٰہ الااﷲ کے محمد رسول اﷲ کی کیا ضرورت ہے، اگر جنّت نہ جائے گا تو کیا اعراف میں بھی نہ جائے گا۔زیدقیام میں نماز کے بعد بقدر سات۷ بار اﷲ اکبر کہنے کے ٹھہرتا ہے۔کہتا ہے کہ صرف سبحٰن اﷲ وبحمدہ کہنے سے نماز ہوجاتی ہے ،بے کُرتا ٹوپی کے نماز ادا کرتا ہے کہتا ہے کہ صرف پائجامہ سے نماز ہوجاتی ہے ۔یوں بھی کہتا ہے کہ نماز میں الحمد وسورۃ کی کچھ حاجت نہیں ۔ایسے شخص کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں؟ ایسے شخص کو مسلمان سمجھنا چاہئے یا نہیں؟ اہلِ اسلام کا سا برتاؤاس سے چاہئے یانہیں؟ جواب بدلیل قرآن وحدیث وفقہ سے تحریر فرمائیں۔بینواتوجروا
الجواب:
صرف پائجامہ پہنے بالائی حصّہ بدن کا ننگارکھ کر نماز بایں معنٰی تو ہوجاتی ہے فرض ساقط ہوگیا،مگر مکروہ تحریمی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع