30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں ہے :
|
ترجیح المذہب بفعل عمروبن العاص رضی اﷲ تعالٰی عنہ حین صلی بقومہ بالتیمم لخوف البرد من غسل الجنابۃ وھم متوضؤن ولم یأمرھم علیہ الصلٰوۃ والسلام بالاعادۃ حین علم[1]۔ |
حضرت عمرو بن العاص رضی اﷲ تعالٰی عنہ کا عمل اس مذہب کی ترجیح کا سبب ہے کہ انہوں نے سردی کی وجہ سے غسل جنابت کی جگہ تیمم کرکے اپنی قوم کی امامت کی حالانکہ لوگوں نے وضو کیاہواتھا۔اور جب حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کی خدمت میں یہ معاملہ پیش ہوا تو آپ نے نماز لوٹانے کاحکم نہیں فرمایا(ت) واﷲ تعالٰی اعلم |
مسئلہ نمبر ۸۳۸: ۲۷ شوال ۱۳۱۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك امام فقط نمازِ جمعہ پڑھاتا ہے دیگر اوقات پنجگانہ نماز میں کبھی امامت نہیں کرتا اور اس امامتِ جمعہ کے عوض میں سال بھر کے بعد رمضان المبارك کے آخری جمعہ میں اورنیز عیدین کی نماز کے بعد اجرت امامت جمعہ وامامت عیدین مصلیین سے طلب کرتا ہے یہ اُجرت اُس کو حلال ہے یا حرام، اور باوجود منع بھی اخذاُجرت سے باز نہیں آتا ایسے شخص کے پیچھے نمازِ جمعہ و عیدین مکروہ ہے یا ناجائز ؟ بینواتوجروا۔
الجواب:
اُجرت امامت اگر اس شخص سے قرار پاگئی ہے کہ فی جمعہ یا ماہوار یا سالانہ اس قدر دیں گے یا خاص اس سے قرار داد نہ ہومگر اس امامت کی تنخواہ معیّن ہے اسے بھی معلوم تھی یہ اُسی کے لئے امام بنا اورامام بنانے والوں نے بھی جانا اورمقبول رکھا غرض صراحۃً یادلالۃً تعین اجرت ہو لیا تو یہ اُجرت اُسے حلال ہے اوراس وجہ سے اُس کے پیچھے نماز میں کچھ کراہت نہیں کہ امامت و اذان و تعلیم فقہ وتعلیمِ قرآن پراُجرت لینے کو ائمہ نے بضرورتِ زمانہ جائز قرار دیا ہے کما نصوا علیہ فی الکتب قاطبۃ (جیسا کہ اس پر کتب میں نصوص قاطعہ موجود ہیں۔ت)اور جب تعیّن ہولیا تو اجارہ صحیحہ ہُوا جس میں کوئی مضائقہ نہیں اوراگر اجارہ صراحۃً خواہ دلالۃً واقع تو ہُوا یعنی اس نے اُجرت کے لئے امامت کی اور قوم نے بھی اسے اجیر سمجھا مگر تعین اجرت نہ بیان میں آیا نہ قرائن سے واضح ہوا تو اجارہ فاسدہ ہے وہ اُجرت اُس کے حق میں خبیث ہے اُسے تصدق کردینے کاحکم ہے مگر اصل اجارہ اب بھی باطل نہیں، نہ طلبِ اُجرت ظلم ہے، ایسااجارہ اگر متعدد بار کرے گا فاسق ہوگا اوراُس کے پیچھے نماز مکروہ،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع