30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
زید کی ان باتوں سے متنفر ہوکر نمازِ جمعہ ترك کرکے ظہر پڑھتا ہے آیا اس صورت میں زیدقابلِ امامت ہے یا نہیں،معتبر کتب سے ثبوت ہونا چاہئے ۔بینواتوجروا
الجواب :
جو شخص وہابیہ اور اہلسنّت علماء کو یکساں سمجھتا ہے اسی قدربات اُس کے خارج از اسلام ہونے کو بہت ہے اُس کے پیچھے نماز باطل ہے جیسے کسی ہندو یا نصرانی کے پیچھے ۔جمعہ اگر اور جگہ نہ مل سکے نہ اُسے امامت سے جُدا کرسکے تو فرض ہے کہ ظہر پڑھے اُس کے پیچھے جمعہ پڑھے گا تو سخت شدید وکبیر گناہ کرے گا اگرچہ بعد کو ظُہر بھی پڑھ لے اور اگر نہ پڑھے تو جمعہ ہوگا نہ ظہر،فرض سرپر رہ جائے گا۔فتح القدیر میں ہے:
|
روی محمد عن ابی حنیفۃ وابی یوسف رضی اﷲ تعالٰی عنھم ان الصلاۃ خلف اھل الاھواء لاتجوز [1]۔واﷲ تعالٰی اعلم |
امام محمد نے امام ابو حنیفہ اورامام ابو یوسف رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے روایت کیا کہ اہلِ بدعت وبدمذہب کے پیچھے نماز جائز نہیں۔(ت) |
مسئلہ نمبر ۸۳۷: از مارہرہ شریف ضلع ایٹہ مرسلہ جناب سیّد ظہورحیدر میاں صاحب ۴جمادی الاخری ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص ہمیشہ ہمیشہ بوجہ کثرتِ احتلام یا کسی اورمرض جسمی کے بجائے غسل تیمم سے نماز ادا کرتا ہے امامت کرنا اس کو تیمم سے بمقابلہ اور مقتدیوں کے جائز ہے یا نہیں؟بینواتوجروا
الجواب :
کثرتِ احتلام تو خود کوئی وجہ جوازتیمم کی نہیں جب تك نہانے سے مضرت نہ ہو بے صحیح اندیشہ مضرت کے تیمم سے پڑھے تواس کی خود نماز نہ ہوگی دوسرے کی اُس کے پیچھے کیا ہو، ہاں جسے بالفعل ایسا مرض موجود ہو جس میں نہانا نقصان دے گا یا نہانے میں کسی مرض کے پیدا ہوجانے کا خوف ہے اوریہ نقصان وخوف تو اپنے تجربے سے معلوم ہوں یا طبیب حاذق مسلمان غیرفاسق کے بتائے سے، تو اُس وقت اُسے تیمم سے نماز جائز ہوگی اوراب اس کے پیچھے سب مقتدیوں کی نماز صحیح ہے، غرض امام کا تیمم اور مقتدیوں کا پانی سے طہارت سے ہونا صحت امامت میں خلل انداز نہیں ،ہاں امام نے تیمم ہی بے اجازت شرع کیا ہو تو آپ ہی نہ اس کی ہوگی نہ اُس کے پیچھے اوروں کی ۔تنویر میں ہے:صح اقتداء متوضیئ بمتیمم[2] (وضو والے کی اقتداء تیمم والے کے ساتھ صحیح ہے۔ت) بحرالرائق
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع