30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان تر کزلہ الحربۃ قد امہ یوم الفطروالنحرثم یصلی[1]۔ |
نبی اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے مواجہہ اقدس کے سامنے عید الفطر کے موقع پر نیزہ نصب کیا جاتا پھر آپ نماز پڑھاتے۔(ت) |
اُنھیں کی دوسری روایت میں ہے:
|
قال کان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یغدو الی المصلّی والعنزۃ بین یدیہ تحمل و تنصب بالمصلّی بین یدیہ فیصلی الیھا[2]۔ |
حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عید گاہ کی طرف تشریف لے جاتے تو آپ کے آگے نیزہ اُٹھا کر لایا جاتا اور عید گاہ میں آپ کے سامنے گاڑ دیا جاتا تھا،پھر اس کی طرف رُخ کرکے نمازپڑھاتے تھے۔(ت) |
سنن ابن ماجہ میں و صحیح ابن خزیمہ و مستخرج اسمٰعیلی میں زائد کیا:
|
وذلك ان المصلی کان فضاء لیس فیہ شیء یستتربہ[3]۔ |
یہ اس لئے کیا جاتا تھا کہ عید گاہ فضاء میں تھی وہاں کوئی ایسی چیز نہ تھی جسے سُترا بنایا جاسکے۔(ت) |
افسوس کہ نئی روشنی کا یہ فرض ، زمانہ رسالت و زمانہ خلافت و زمانہ رسالت سب میں متروك رہا۔
ثانیًا اس عید گاہ کی عمارت موجودہ سے دین الہٰی کو کوئی ایسا ضرر شدید پہنچتا ہے جس کے سبب اس کا ڈھانا فرض ہو، یا نہیں اگر نہیں تو بحال استطاعت مالی اُس کا ہدم کیوں فرض ہوا اور اگر ہاں تو بحال عدم استطاعت مالی کیوں فرض نہیں، استطاعت مالی بنانے کو چاہیئے ،ڈھانے میں ایسا کیا درکار ہے جس سے مسلمانانِ شہر عاجز ہوں۔
ثالثًا خطوط سمت قبلہ ڈال لینے سے کار براری ممکن اور وہ ضرر مندفع ہے یا نہیں ، اگر نہیں تو بحال عدم استطاعت یہ لغو حرکت کیوں فرض ہوئی اور کس نے فرض کی، اور اگر ہاں تو بحال استطاعت یوں کاربراری کس نے حرام کی کہ باتعیین ڈھا دینا ہی فرض ہوگیا، کیا یہاں متعدد ضرر مفترض الازالہ مختلف الحالہ ہیں کہ توزیع ممکن ہو۔
رابعًا یہ عید گاہ سمت سے یکسر خارج ہے یا حدود جہت کے اندر ہے اگرچہ عین محاذات سے منحرف ہے بر تقدیر اول اس میں نماز مکروہ تحریمی کیوں ہوئی باطل محض ہونی لازم تھی ، بر تقدیر ثانی اس کا ڈھانا کیوں فرض ہوا جبکہ وہ حدود مشروع کے اندر ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع