30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
و بمجبوری جسے وہاں کے عامہ مسلمین انتخاب کرلیں وُہ امامت جمعہ یاعیدین کرسکتا ہے ہر شخص کو اختیار نہیں کہ بطورِ خود یا ایك دو یا دس بیس یاسو پچاس کے کہے سے امامِ جمعہ یا عیدین بن جائے ایسا شخص اگرچہ اس کا عقیدہ بھی صحیح ہو اور عمل میں بھی فسق وفجور نہ ہو جب بھی امامتِ جمعہ وعیدین نہیں کرسکتا اگر کرے گا نماز اُس کے پیچھے باطل محض ہوگی کہ اُن تین طریقوں میں سے ایك وجہ کا امام یہاں شرطِ صحت نماز تھا جب شرط مفقود مشروط مفقود ولہذا صورتِ مسئولہ میں پہلے لوگوں کا جمعہ باطل محض ہوا اوردوسرے لوگوں کا صحیح ۔دُرمختار میں ہے:
|
یشترط لصحتھا السلطان او مامورہ باقامتھا[1]۔ |
جمعہ کی صحت کے لئے سلطان یااس شخص کا ہونا جس کو سلطان نے اقامتِ جمعہ کی اجازت دی ہو ضروری ہے(ت) |
حدیقہ ندیہ میں ہے:
|
اذاخلاالزمان من سلطان ذی کفایۃ فالامور موکلۃ الی العلماء ویلزم الامۃ الرجوع الیھم ویصیرون ولاۃ فاذاعسر جمعھم علی واحداستقل کل قطر باتباع علمائہ فان کثروا فالمتبع اعلمھم[2]۔ |
جب زمانہ کامل سلطان سے خالی ہو جائے تومعاملات علماء کے سپرد ہوں گے اورامّت پر علماء کی طرف رجوع لازم ہوگا اور علماء والی بن جائیں گے اور جب علماء کاکسی ایك معاملہ پر اجماع واتفاق مشکل ہوجائے تو لوگ اپنے اپنے علاقے کے علماء کی اتباع کریں، اگر علاقے کے علماء کی کثرت ہو تو پھر ان میں سے بڑے عالم کی اتباع کریں(ت) |
تنویرالابصار ودرمختار میں ہے:
|
(نصب العامۃ) الخطیب غیر معتبر مع وجود من ذکر [3]۔واﷲ تعالٰی اعلم |
(عام لوگوں کا مقرر کرنا ) خطیب کو معتبر نہیں جبکہ مذکورہ لوگوں میں سے کوئی ایك موجود ہو۔(ت) |
مسئلہ نمبر ۸۳۵: از کانپور پرتھی ناتھ اسکول مسئولہ قاضی محمد شمس الدین ۲۱صفر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے بریلی اس بارہ میں کہ اگر کوئی شخص حنفی المذہب وکرامات اولیاء اﷲ کا قائل ،علمِ دین و فنِ تجوید سے بہرہ ور حالت پیری میں نابینا ہوگیا ہو توُ اُس کی امامت کیسی ہے،شرح وقایہ جلد اول، باب الجمعہ صفحہ ۲۴۲ میں مرقوم ہے کہ:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع