30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں آدمی جُوتا پہنے جائے تو بے ادب ٹھہرے، نماز اﷲ واحد قہار کا دربار ہے، مسلمانوں کی راہ کے خلاف چلنا اوراُن میں فتنہ وفساد پیدا کرنا اور انھیں نفرت دلانا قرآنِ عظیم واحادیث صحیحہ کے نصوص قاطعہ سے حرام اورسخت حرام ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۸۳۳: ازترپول سولول ڈاکخانہ ہرول ضلع دربھنگہ بلگر چرسہ مرسلہ عبدالحکیم صاحب ۲۱جمادی الاولٰی ۱۳۳۶ھ
اگر کسی مسلمان کا بستی سے باہر دوسرے محلہ میں مکان ہواور وُہ امام بھی ہو اور کبھی پنجوقتی نماز میں دھوکے سے آکر نماز پڑھے اور امامت کرے اور وہ ہمیشہ اپنے محلہ میں موجود رہتا ہے اور اپنی نماز پنجوقتی اورامامت کا خیال نہیں کرتا ہے اورمسجد میں ایك ہفتہ میں جمعہ کی نماز پڑھانے کے واسطے آیا کرتاہے اور ہمیشہ امامت کا جستجو(فخر) رکھتا ہے کہ ہم امام ہیں ایسے امام کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں اوراس امام کی شرکت کرنے والے جو لوگ ہیں اُن کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں؟
الجواب:
جس شخص کو جمعہ کا امام مقرر کیاہے وہ اگر فقط جمعہ ہی کو آکر امامت کرتا ہے یا اور بھی کبھی کبھی آجاتا ہے یا نہیں آتا اور اپنے محلہ میں نماز باجماعت پابندی سے پڑھتا ہے تو اُس پر کوئی الزام نہیں ،نہ اُس کے شریکوں پر کوئی الزام ہے اور وہ ضرور جمعہ کا امام ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۸۳۴: از شہرفراشی محلہ مسئولہ اہلِ محلہ معرفت ہدایت اﷲ نجار ۱۲ محرم الحرام ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کہ جس کی نسبت تفضیلیہ ہونا کہا جاتا ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ طوائفوں کے ساتھ علانیہ خلافِ شرع راہ ورسم وغیرہ رکھتا ہے نیز جسکے سر کے بال بھی مثل عورتوں کے شانوں سے نیچے لٹکتے ہوں وہ کسی جائے نماز پر بلا اجازت موقع کے پیش امام کے اگر نمازِجمعہ ادا کرنے کی غرض سے بحیثیت امام بن کر نمازِ جمعہ ادا کرکے مع اپنے ہمراہیوں کے چلا جائے بعد اس کے باقی انبوہ اسی موقع اور جگہ پر وہیں مجوز امام کی تقلید سے اس کے پیچھے دوسری بار نمازِ جمعہ ادا کریں توایسی صورت میں پہلے امام کی نمازجو اس نے ادا کی ہے جائز ہے یادوسرے امام کی یا دونوں نہ ہوئیں۔
الجواب :
مسلمانو! نماز حکمِ شرعی ہے احکامِ شرع کے مطابق ہی ہوسکتی ہے کوئی خانگی معاملہ نہیں کہ جس نے جب چاہا کرلیا، حکمِ شرعی یہ ہے کہ اقامتِ جمعہ کے لئے سلطانِ اسلام یا اُس کا نائب یا اُس کا ماذون شرط ہے اور جہاں سلطانِ اسلام نہ ہو عالم دین فقیہ معتمد اعلم اہل بلد کے اذن سے امامِ جمعہ و عیدین مقررہوسکتا ہے اور جہاں یہ بھی نہ ہو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع