30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ومفتاح السعادۃ والغیاثیۃ وغیرہا(فتح القدیر، مفتاح السعادۃاورغیاثیہ وغیرہ میں اسی طرح ہے۔ت)کہ وہی احتیاط جو متکلمین کو اُس کی تکفیر سے باز رکھے گی اُس کے پیچھے نماز کے فساد کا حکم دے گی فان الصلاۃ اذاصحت من وجوہ وفسدت من وجہ حکم بفسادھا[1] (نماز جب کئی وجوہات کی بنا پر صحیح مگر ایك وجہ سے فاسد تو اس کو فاسد قرار دیا جائے گا۔ت) ورنہ مکروہ تحریمی ،جن صورتوں میں کراہت تحریم کا حکم ہے صلحاء وفساق سب پر اعادہ واجب ہے ،جب مبتدع یافاسق معلن کے سوا کوئی امام نہ مل سکے تو منفردًا پڑھیں کہ جماعت واجب ہے اوراس کی تقدیم بکراہت تحریم اور واجب و مکروہ تحریم دونوں ایك مرتبہ میں ہیں ودرء المفاسد اھم من جلب المصالح[2] (مفاسد کا دُور کرنا مصالح کے حصول سے اہم اور ضروری ہوتا ہے۔ت) ہاں اگر جمعہ میں دوسرا امام نہ مل سکے تو جمعہ پڑھیں کہ وُہ فرض ہے اور فرض اہم ۔
اسی طرح اگر اُس کے پیچھے نہ پڑھنے میں فتنہ ہوتو پڑھیں اوراعادہ کریں کہ وَ الْفِتْنَۃُ اَکْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ[3](فتنہ قتل سے بڑی برائی ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۸۳۰: ۱۲صفر ۱۳۲۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر استاد وہابی ہو تو شاگرد اُس کے پیچھے نماز پڑھ سکتا ہے یا نہیں؟ بینواتوجروا
الجواب:
وہابی کے پیچھے نماز جائز نہیں اگرچہ اپنا استاد ہو بلکہ اُسے استاد بتاناہی اُس کے حق میں زہر قاتل سے بدتر ہے فورًا پرہیز کرے کہ صحبت بد آدمی کو بد بنا دیتی ہے نہ کہ بد کی تعلیم۔رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
ایاکم وایاھم لایضلونکم ولایفتنونکم[4]۔ واﷲ تعالٰی اعلم |
اُن سے دُور بھاگو اور اُن کو اپنے سے دُور کرو کہیں وہ تم کو گمراہ نہ کر دیں کہیں وہ تم کو فتنہ میں نہ ڈال دیں ۔ |
مسئلہ نمبر ۸۳۱: از فیض آباد ڈاك خانہ شہزاد پور مرسلہ عبداﷲ طالب العلم ۱۳۲۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین کہ آیا زانی کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں،کیونکہ اس مسئلہ میں بہت جھگڑا پیدا ہے یہاں تك حالت گزر گئی کہ نماز جماعت میں تفرق ہوگیا ہے حدیث اور کتاب کی سند ہونا چاہئے ۔بینواتوجروا۔
الجواب:
زانی فاسق اور فاسق معلن کے پیچھے نماز منع ہے اُسے امام بنانا گناہ ہے اُس کے پیچھے جو نمازیں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع