30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۳) جس کسی محلہ کی مسجدمیں محلہ دارانِ حنفیہ نے متفق ہو کر اپنے محلہ کی مسجد میں ایك تو مؤذن اور ایك پیش امام مقرر کر رکھا ہواور نماز کے وقت مؤذن کی راہ دیکھتا ہے کہ وقت ہوجائے تو اذان کہے اور پیش امام مذکور باوضو مسجد مذکور میں یاخاص مصلّے پر بیٹھاہُواہو اس حالت میں بلا رضامندی پیش امام مقررہ کے دوسرا کوئی مسجد مذکور میں اسی محلہ کا یا دوسرے محلہ کا یا دوسرے گاؤں کا اذان دے یا نماز پڑھائے تو جائز ہے یانہیں ،اگر بلا رضامندی اذان دینا یا نماز پڑھنا مقرر کے سوائے ناجائز ہو اور محلہ داران مذکور منع کرتے ہوں اوروُہ نہ مانے تو شرع شریف سے اُن کے لئے کیا حکم ؟فقط
الجواب:
(۱) ان کے پیچھے نماز محض باطل ہے جیسے کسی یہودی کے پیچھے ،فتح القدیر میں ہے:
|
ان الصلٰوۃ خلف اھل الاھواء لاتجوز [1]۔واﷲ تعالٰی اعلم |
اہل بدعت و بدمذہب کے پیچھے نماز جائز نہیں(ت) واﷲ تعالٰی اعلم |
(۲)یہ تو معلوم ہوچکا کہ نماز میں اُن کا کوئی حق نہیں ،ان کی نماز نماز ہی نہیں،تو مسجد میں اُنھیں آنے کا حق نہیں اور ان کے آنے سے فتنہ ہوتا ہے اور فتنہ کا بند کرنا فرض ہے اوروہ قصدًا مسلمانوں کو ایذا دیتے ہیں کم از کم اپنی آمین بالجہر کی آوازوں سے جو قصدًا اعتدال سے بھی زائد نکالتے ہیں اور موذی کو مسجد سے روکے جانے کاحکم ہے ۔ درمختار میں ہے :
|
یمنع منہ وکذاکل موذ ولو بلسانہ[2]۔واﷲ تعالٰی اعلم |
ایسے شخص کو دخولِ مسجد سے منع کیا جائے اور اسی طرح ہر تکلیف دینے والے کومنع کیا جائے گا اگرچہ وہ زبان ہی سے ایذا دے۔(ت) |
(۳)امام معیّن موجود وحاضر ہے تو بے اس کی مرضی کے دوسرا زبردستی بلاوجہ شرعی امام بن جانا ناجائز و گناہ ہے۔حدیث میں فرمایا:
|
الالایؤمن الرجل فی سلطانہ الا باذنہ[3]۔ |
کوئی آدمی سلطان اورحاکم (مراد صاحبِ تصرف ہے صاحب خانہ ہو یا صاحب مجلس یا امام مسجد کوئی بھی ہو ) کی اجازت کے بغیر امامت نہ کروائے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع