دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 6 | فتاوی رضویہ جلد ۶

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۶

کفر میں شك کرے یا اسکے کافر کہنے میں تامل کرے اُن کے پیچھے نماز محض باطل ہے ، اور جس کی گمراہی حدِ کفر تك نہ پہنچی ہو جیسے تفضیلیہ :مولٰی علی کوشیخین سے افضل بتاتے ہیں رضی اﷲ تعالٰی عنہم یا تفسیقیہ کہ بعض صحابہ کرام مثل امیر معاویہ وعمروبن عاص وابوموسٰی اشعری و مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم کو بُرا کہتے ہیں ان کے پیچھے نماز بکراہت شدیدہ تحریمیہ مکروہ ہے کہ انھیں امام بنانا حرام ان کے پیچھے نماز پڑھنی گناہ اور جتنی پڑھی ہوں سب کا پھیرنا واجب ،اورانھیں کے قریب ہے فاسق معلن مثلًا داڑھی منڈایا خشخاشی رکھنے والا یا کتر واکر حدِ شرع سے کم کرنے والا یا کندھوں سے نیچے عورتوں کے سے بال رکھنے والا خصوصًا وہ جو چوٹی گُندھوائے اور اس میں موباف ڈالے یا ریشمی کپڑے یامغرق ٹوپی یا ساڑھے چار ماشے زائدکی انگوٹھی یاکئی نگ کی انگوٹھی یا ایك نگ کی دو۲انگوٹھی اگر چہ مل کر ساڑھے چار ماشےسے کم وزن کی ہوں یا سُود خور یا ناچ دیکھنے والا اُن کے پیچھے بھی نماز مکروہ تحریمی ہے اور جو فاسق معلن نہیں یا قرآن میں وُہ غلطیاں کرتا ہے جن سے نماز فاسد نہیں ہوتی یا نابینا یا جاہل یا غلام یا ولد الزنا یاخوبصورت امرد یا جذامی یا برص والا جس سے لوگ کراہت ونفرت کرتے ہوں اس قسم کے لوگوں کے پیچھے نماز مکروہ تنزیہی ہے کہ پڑھنی خلافِ اولٰی اور پڑھ لیں تو کوئی حرج نہیں، اور اگر یہی قسم اخیر کے لوگ حاضرین میں سب سے زائد مسائلِ نماز و طہارت کا علم رکھتے ہوں تو انھیں کی امامت اولٰی ہے بخلاف ان سے پہلی دوقسم والوں سے کہ اگر چہ عالم متبحر ہو وہی حکم کراہت رکھتا ہے مگر جہاں جمعہ یا عیدین ایك ہی جگہ ہوتے ہوں اور ان کا امام بدعتی یا فاسق معلن ہے اور دوسرا امام نہ مل سکتا ہو وہاں ان کے پیچھے جمعہ و عیدین پڑھ لئے جائیں بخلاف قسم اول مثل دیوبندی وغیرہم ،نہ ان کی نماز نماز ہے نہ اُن کے پیچھے نماز نماز ، الغرض وہی جمعہ یا عیدین کا امام ہو اور کوئی مسلمان امامت کے لئے نہ مل سکے تو جمعہ و عیدین کا ترك فرض ہے جمعہ کے بدلے ظہر پڑھیں اورعیدین کا کچھ عوض نہیں ،امام اُسے کیا جائے جو سنّی العقیدہ صحیح الطہارۃ صحیح القرأۃ مسائلِ نماز و طہارت کا عالم غیر فاسق ہو نہ اُس میں کوئی ایسا جسمانی یا روحانی عیب ہو جس سے لوگوں کو تنفر ہو یہ ہے اس مسئلہ کا اجمالی جواب اور تفصیل موجب تطویل واطناب واﷲ تعالٰی اعلم بالصواب۔

مسئلہ نمبر ۸۱۷:      از ٹھہریاموہن پورضلع بریلی مسئولہ حافظ ابراہیم خاں                  ۲۸محرم الحرام۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امامت کا مصلّٰی اگر در میں ڈالا جائے توکون سے در میں ڈالا جائے اگر بائیں در میں ڈالا جائے تو جائز ہے یانہیں؟

الجواب:

سنّت یہ ہے کہ امام مسجد کے وسط میں کھڑا ہو، اگر مثلًا اندر کی مسجدچھوٹی ہو اور باہر کی مسجد جنوب یا شمال کی طرف زیادہ وسیع ہو تو جب اندر پڑھائیں اُس حصہ کے وسط میں امام کھڑا ہو اور جب باہر پڑھائیں تو اس حصہ کے وسط میں خواہ وہ کسی در کے مقابل ہو یا سب دروں سے باہر ہوجائے ۔واﷲ تعالٰی اعلم


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن